Al-Risala · May 1980

بندوں کے حقوق ادا کرنا

Al-Risala, May 1980, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند دن پہلے خلاف معمول ایک لمبی تقریر فرمائی۔ آخر میں آپ نے کہا : میں اللہ کے یہاں اپنا صحیفہ زندگی صاف ستھرا کر جانا چاہتا ہوں۔ اگر کسی کا کوئی قرض مجھ پر رہ گیا ہو جس کو میں ادا کرنا بھول گیا یا غیر ارادی طور پر کسی شخص کو مجھ سے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھ سے اس کا بدلہ لے لے یا مجھے معاف کر دے ۔ آپ نے تقریر ختم کر کے انتظار فرمایا مگر کوئی نہ بولا۔ اب ظہر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ آپ نے جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی ۔ نماز ظہر کے بعد آپ دوبارہ ممبر پر آئے اور وہی سوال پھر دہرایا کہ میرے ذمہ کسی کا قرض ہو یا مجھ سے کسی کی اہانت ہوئی ہو تو وہ اپنا بدلہ لے لے ۔ اب ایک شخص اٹھا اس نے کہا کہ " اے خدا کے رسول ! آپ کے اوپر میرا پانچ درہم کا قرض ہے " ۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور ان کے پانچ درہم اسی وقت مسجد میں ادا کر دیے گئے ۔

ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا خواہ وہ کم زور ہو یا طاقت ور معاویہ بن ابوسفیان نے ضرار صدائی سے کہا کہ اے ضرار ، مجھ سے علی کی صفت بیان کرو (یا رض اوصف لی علیا) اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا اس کے چند جملے یہ تھے : وہ ہمارے اندر ہمارے ایک شخص کی مانند تھے ۔ کوئی طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کم زور ان سے عدل پانے میں مایوس نہ ہو سکتا تھا (كان فينا كأحدنا لا يطمع القوى في باطله ولا ييأس الضعيف من عدله)

Printed page