باہمی اختلاف
Al-Risala, June 1980, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
و اطیعوا اللہ ورسوله ولا تنازعوا اے مسلمانو! اللہ کی اطاعت کرو، اس کے رسول کی اطاعت فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمھارے اندر کمزوری ان الله مع الصابرين (انفال (۴۶) آجائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
مسلمان اگر مل جل کر رہیں ۔ وہ اللہ اور رسول کی مرکزیت کے گرد متحد رہیں تو وہ زبر دست طاقت ہوتے ہیں۔ قوموں کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ان کے اکثر کام محض رعب و دبدبہ سے انجام پاتے چلے جاتے ہیں۔ کے برعکس اگر ان میں آپس کا اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسروں کی نظر میں ان کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے دشمن ان پر ہاتھ ڈالنے کے لئے جری ہو جاتے ہیں ۔
اتحاد واتفاق کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صبر ہے۔ کیوں کہ جب بھی بہت سے لوگ ایک ساتھ رہیں گے تو ان کے درمیان طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہوں گی۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے گی کبھی کسی کی تنقید پر کسی کو غصہ آئے گا، کبھی کسی کی ترقی سے کسی کے دل میں جلن پیدا ہوگی۔ کبھی لین دین میں ایک دوسرے کا مفاد کبھی ایک شخص کی امیدیں دوسرے سے پوری نہ ہوں گی اور اس کے جذبات کو ٹھیس لگے گی۔ اس طرح کے بہت سے اسباب ہیں جو بلاژ پیدا ہوں گے۔ ان اسباب کی پیدائش کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ممکن صرف یہ ہے کہ آدمی ناخوش گواریوں کو سہے اور جب بھی اس قسم کی کوئی صورت پیش آئے تو اللہ کے لئے اس پر صبر کرے۔ برداشت کرنے کی زمین پر اتحاد وجود میں آتا ہے نہ کہ اختلاف کو ختم کرنے کی زمین پر۔ جو لوگ اختلاف اور شکایت کو برداشت کر کے متحدرہ سکیں وہی اپنے درمیان اتحاد قائم کرتے ہیں۔ زندگی کی بیشتر کامیابیاں کار از صبر ہے اور اسی طرح اتحاد کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد نام ہے اختلاف کے با وجود متحد رہنے کا ۔ اگر یہ برداشت اور یہ وسعت ظرف نہ ہو تو اتحاد کبھی وجود میں نہیں آ سکتا ۔
آج ہر طرف مسجدیں بھری ہیں ۔ ہر جگہ بے شمار لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس کے باوجود مسلمان کیوں ذلیل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں پر اللہ کی نصرت کیوں نازل نہیں ہوتی ۔ اتنے بے شمار لوگ اللہ سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں ، پھر بھی اللہ ان کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ بے مسلمانوں کا باہمی اختلاف ۔ خدا سے جڑنے کے لئے ہر آدمی مسجد کی طرف بھاگ رہا ہے مگر انسان سے جڑنے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ انفرادی عبادت ہر ایک کر رہا ہے۔ مگر اجتماعی عبادت جس کا دوسرا نام اتحاد ہے ، اس میں اپنے کو شامل کرنے کی اہمیت کو کوئی نہیں جانتا۔
با عزت زندگی ایک ایک مسلمان کو الگ الگ نہیں مل سکتی ۔ وہ جب بھی ملے گی پورے گروہ کو یکجائی طور پر سر
ملے گی مسلمانوں کے لئے با عزت زندگی کا ملنا ایک اجتماعی واقعہ ہے۔ اس کے لئے اللہ کی اجتماعی مدد درکار ہے۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اجتماعی مدد ود ہمیشہ اجتماعی عمل پر نازل کرتا ہے۔ انفرادی عمل پر اجتماعی مدد کبھی نہیں آتی۔ نماز میں خدا سے ’’ملاقات‘‘ کر کے مسجد سے باہر آتا ہے تاکہ وہ بندوں سے ’’ملاقات‘‘ کرے۔ مگر وہ بندوں کی طرف سے منھ پھیر لیتا ہے۔ خدا سے جڑنے والا بندوں سے جڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اللہ سے جڑ کر بھی وہ اکیلا رہتا ہے۔ کروڑوں مسلمان روزانہ اللہ سے جڑ رہے ہیں مگر وہ آپس میں جڑ کر متحوہ ملت نہیں بنتے۔ حالاں کہ اللہ سے جڑنے کا تقاضا ہے کہ آدمی اللہ کے بندوں کے ساتھ جڑ جائے۔ اللہ سے ’’اتحاد‘‘ اور اللہ کو ماننے والوں سے ’’اختلاف‘‘ خدا کے غضب کو بھڑکانے والا ہے نہ کہ خدا کی نصرت کو کھینچنے والا۔
جب ایسا ہو کہ لوگ اللہ سے جڑتے ہوئے نظر آتے ہوں مگر وہ بندوں کے ساتھ نہ جڑ رہے ہوں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے بھی جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ ظاہری عبادت کو دہرارہے ہیں مگر عبادت کی حقیقت سے خالی اللہ کے ساتھ جڑنا آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے ایسا آدمی مسجد سے باہر انسانوں کے ساتھ انانیت اور سرکشی کا مظاہرہ کس طرح کرے گا۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو حساب کے دن کی یاد دلاتا ہے پھر ایسا آدمی بندوں کے درمیان خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو کر کس طرح رہے گا۔ اللہ سے جڑنا آدمی کے اندر خداوندی اوصاف پیدا کرتا ہے پھر وہ دوسروں کے اوپر مہربانی کرنے سے کیوں کر خالی ہو سکتا ہے جو اللہ کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو ایک ایسی ہستی کا پتہ رس عطا کرتا ہے جو تمام خوبیوں اور بھلائیوں کا سر چشمہ ہے پھر ایسے آدمی سے دوسروں کو برائی کا تجربہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو اس روز حساب کی یاد دلاتا ہے جب کہ ہر آدمی بے لاگ انصاف کے ترازو پر کھڑا کیا جائے گا۔ پھر وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ بے انصافی کرکے یہ خطرہ کیسے مول لے سکتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا کی پکڑ کی زد میں آجائے۔ اللہ سے جڑنا اس لئے ہوتا ہے کہ آدمی اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطیوں سے درگزر فرمائے پھر جو آدمی خود اپنے لئے عفوو در گزر کی درخواست کر رہا ہے وہ دوسروں کے ساتھ سخت گیری کا رویہ کس طرح اختیار کر سکتا ہے۔ سورج کی دنیا میں رہنے والا کبھی تاریکی نہیں پھیلاتا پھولوں کے پڑوس میں رہنے والا کبھی بد بو نہیں بکھیرتا۔ یہی معاملہ بندہ مومن کا ہے۔ مومن خدا اور فرشتوں کی صحبت میں اپنے روز و شب گزارتا ہے۔ پھر جو آدمی خدا اور فرشتوں کی صحبت میں رہے، اس سے کسی کو ظلم اور بد خواہی کا تجربہ کیسے ہو سکتا ہے اور جس معاشرے میں ظلم اور بد خواہی نہ ہو وہاں اختلاف کا کیا گزر۔
یہ اوصاف جب کسی کے اندر پیدا ہو جائیں تو اس کے اندر سے ان اوصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو آدمی کو بندوں سے دور کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کا خدا سے جڑنا لازماً بندوں سے جڑنا بن جاتا ہے۔ اور جب بندے باہم جڑ جائیں تو اللہ کو یہ منظر اتنا زیادہ پسند ہے کہ وہ کل صبح آنے والی بارش کو آج شام ہی ان پر برسا دیتا ہے ، دہ کل کی نعمتوں کو آج ہی اپنے بندوں پر انڈیل دیتا ہے۔ اتحاد کسی گروہ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اتحاد دنیا کی عزت بھی ہے اور اتحاد آخرت کی عزت بھی۔