Al-Risala · June 1980

خدا کی مدد

Al-Risala, June 1980, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ خندق ہے جو شوال ۵ ھ میں پیش آیا۔ غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی فوجوں کا غزوہ۔ اس جنگ میں عرب کے مختلف قبیلوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔ قبائل قریش، قبائل غطفان اور قبائل یہود کے دس ہزار سے زیادہ افراد اس میں شریک تھے۔ یہ حملہ کتنا شدید تھا، اس کا اندازہ قرآن کے ان الفاظ سے ہوتا ہے : "جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تمھارے اوپر چڑھ آئے۔ ڈر کی وجہ سے تمھاری آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت اہل ایمان کی بڑی جانچ ہوئی اور وہ بہت ہلا مارے گئے (احزاب) مخالفین اسلام کا یہ لشکر پوری طرح ہتھیار بند تھا۔ اس میں ساڑھے چار ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے۔

دشمنوں نے مدینہ کو اس طرح گھیرے میں لے لیا کہ باہر سے ہرقسم کی امداد آنا بند ہوگئی۔ سامان رسد کی اتنی کمی ہوئی کہ لوگ فاقے کرنے لگے۔ اسی دوران کا واقعہ ہے کہ ایک صحابی نے بھوک کی شکایت کی اور گرتا پڑتا اٹھ کر دکھایا کہ پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اپنا کرتا اٹھایا تو آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ مختلف قبائل ایک ساتھ ہو کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی کی رائے کے مطابق طے ہوا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے، اس وقت مدینہ تین طرف سے پہاڑوں، گھنے درختوں اور مکانات کی دیواروں سے گھرا ہوا تھا۔ شمال مغربی حصہ خالی تھا۔ طے ہوا کہ اس کھلے ہوئے حصہ میں دو پہاڑوں کے درمیان خندق کھودی جائے۔ چنانچہ چھ دن کی لگا تار محنت سے ایک خندق کھود کر تیار کی گئی۔ خندق دشمنوں کی یلغار کو روکنے کے لئے اتنی کار آمد ثابت ہوئی کہ اس غزوہ کا نام غزوہ خندق پڑ گیا ۔ سیرت کی کتابوں میں خندق کی تفصیلات جب ہم پڑھتے ہیں تو ایک سوال سامنے آتا ہے ۔ "ایک معمولی خندق دشمنوں کی فوج کو روکنے کا سبب کیسے بن گئی " مذکورہ تفصیلات کے مطابق یہ خندق تقریباً چھ کلومیٹر لمبی تھی۔ اور اس کی گہرائی اور چوڑائی ایک معمولی نہر سے زیادہ نہ تھی۔ وہ تقریباً ڈھائی میٹر گہری اور تقریباً تین میٹر چوڑی تھی، اس قسم کی ایک خندق ایک مسلح فوج کے لئے ایک نالی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ وہ لوگ با آسانی اس کو عبور کر کے مدینہ میں داخل ہو سکتے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس خندق کے باوجود مسلمان دشمن فوج کی تیروں کی زد میں تھے۔ جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ کو تیر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم کچھ لوگ خندق کے دوسری طرف پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ عمر بن عبدود اور اس کے کچھ ساتھیوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کا جائزہ لیا اور ایک جگہ خندق کو کچھ کم چوڑی دیکھ کر وہاں ٹھہرے اور گھوڑا کُدا کر خندق کے دوسری طرف پہنچ گئے ۔ اس کے بعد عمر بن عبدود کامقابلہ حضرت علی بن ابی طالب سے ہوا جس میں عمر و بن عبدود مارا گیا۔ تقریباً ایک مہینہ کا یہ محاصرہ اپنے آخری دنوں میں آندھی

اور طوفان کے بعد ختم ہو گیا ۔ آندھی نے دشمن کے لشکر میں اتنی بد حواسی پیدا کی کہ ابو سفیان نے اونٹ کی رسی کھولے بغیر اونٹ پر بیٹھ کر اس کو ہانکنا شروع کر دیا ۔ پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ ہزار سے زیادہ تعداد کی مسلح فوجیں خندق کو عبور کر کے مدینہ میں کیوں نہ داخل ہوئیں جہاں تین ہزار آدمیوں کا بے سر و سامان قافلہ ان کی یلغار کو روکنے کے لئے بالکل ناکافی تھا۔

اس سوال کا جواب خدا کی ایک سنت میں ملتا ہے ۔ وہ سنت یہ کہ اللہ اہل ایمان کی طاقت ان کے دشمنوں کو بڑھا کر دکھاتا ہے تاکہ وہ مرعوب اور مصیبت زدہ ہو جائیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے " ہم منکروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیں گے ۔ کیوں کہ انھوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری (آل عمران ۱۵۱) اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت رعب غزوہ خندق میں اور دوسرے مواقع پر ظاہر ہوئی ۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کی کھودی ہوئی نالی ان کے دشمنوں کو بہت بڑی خندق کی صورت میں دکھائی دی۔ تب مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں کو تھکا کر ایک " نالی " کھود نا ضروری ہے۔ اگر وہ نالی کھود نے میں اپنے ہاتھوں کو نہ تھکائیں تو خدا ان کی نالی کو خندق بنا کر کس طرح

اللہ تعالیٰ کی نصرت رعب جو قرن اول کے مسلمانوں کو کمال درجہ میں حاصل ہوئی وہ بعد کے دور کے مسلمانوں کو بھی مل سکتی ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس راستہ پر چلیں جس راستہ پر صحابہ، خدا کے رسول کی رہنمائی میں چلے ۔ کسی اور راستہ پر چلنے والے شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ پھر ان کو خدا کی نصرت کس طرح ملے گی ۔ اللہ کی نصرت کا مستحق آدمی اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو حق کے ساتھ اس طرح شامل کرے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کو وہ حق کے حوالے کر دے ، وہ اپنے سر کا تاج دوسرے کے سر پر رکھ دے جیسا کہ ہجرت کے بعد مدینہ کے لوگوں نے کیا۔ خدا کی نصرت کا مستحق بننے کی شرط ایک لفظ میں یہ ہے کہ " جب تم مدد کرو گے تو تمھاری مدد کی جائے گی " خدا ہماری مدد پر اس وقت آتا ہے جب کہ ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم خدا سے اپنے لئے چاہتے ہیں ۔ ذات سے اگر دوسروں کو رحمت پہنچ رہی ہو تو خدا کے فرشتے ہمارے لئے خدا کی رحمت کا تحفہ لے کر نہیں آسکتے۔ اگر ہمارا یہ حال ہو کہ جس پر ہمارا قابو چلے اس کو ہم ناحق ستانے لگیں تو ناممکن ہے کہ خدا وہاں ہماری مدد کرے جہاں کوئی دوسرا ہمارے اوپر قابو پا کر ہمیں ستانے لگتا ہے۔ ایک آدمی اپنی مصیبت میں ہم کو پکارے اور ہم استطاعت کے باوجود اس کی پکار پر دھیان نہ دیں تو کبھی یہ ممکن نہیں کہ خدا اس وقت ہماری پکار کو سنے جب کہ کوئی طاقت ور ہمارے اوپر چڑھ آتا ہے اور ہم خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے مقابلہ میں آدمی طاقت ور ہوتا ہے اور کسی کے مقابلہ میں کمزور ۔ یہی صورت حال نصرت خداوندی کے معاملہ میں آدمی کے امتحان کا پر چہ ہے۔ کوئی شخص یا قوم اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں خدا کی جو نصرت چاہے اس کا ثبوت اس کو اپنے کمزوروں کے معاملہ میں دینا پڑتا ہے اگر آدمی اپنے کمزوروں پر ظلم کرتا ہو تو اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں وہ خدا کی مدد کا مستحق نہیں بن سکتا ، خواہ وہ کتنا ہی خدا کو پکارے ، خواہ وہ کتنا ہی یوم دعا منائے ۔

Printed page