Al-Risala · June 1980

پیغمبر اسلام کا کردار

Al-Risala, June 1980, pp. 13–32

By Maulana Wahiduddin Khan

طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبر اسلام لی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر شہر سے باہرلے جارہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا پیدل سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی در مقام پہنچے تھے تاکہ انھیں دینِ اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔ یہ شریر لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نہ غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پروہ نہ ڈال دیا۔ آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سر سے پاؤں تک آپ خون میں نہائے اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔ غور کیجئے ۔ کسی آدمی کے لئے کتنا نازک وقت ہوتا آپ نے خود ایک بار اپنی بیوی حضرت عائشہ رضہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی۔ آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا، بلکہ آپ نے فرمایا، ’’خدایا! ان کو صحیح راستہ دکھا، کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘‘، اللہ کے رسول کا کیسی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی عداوت اور کوئی ہٹ دھرمی نہ ٹک سکی، آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔

ایک بار آپ نے فرمایا: صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ تم صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ تم صلہ رحم کرو (بخاری، کتاب الادب)، تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے حضرت عائشہ رضہ پر بدکاری کی تہمت لگائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور حضرت ابو بکر رضہ کی یہ تہمت سراسر جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فرضی داستان کو گھڑنے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نام کا بھی شریک تھا۔ یہ شخص حضرت ابو بکر رضہ کا رشتہ دار تھا۔ اس کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر رضہ اس کو ماہانہ کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضہ کو معلوم ہوا کہ ان کی معصوم صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے تو انھوں نے مسطح کی امدادی رقم بند کر دی۔ اس پر اللہ کے رسول ص کے پاس یہ وحی آئی کہ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو۔ بلکہ اس کے جرم سے در گزر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد کو جاری رکھو۔ تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور کش کش والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، محتاجوں اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑنے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ ان کو معاف کر دینا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (نور22) حضرت ابو بکر رضہ ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار دہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو برا بھلا کہا۔ ابو بکر رضہ پہلی بار سن کر چپ رہے۔ اس نے دوسری بار برا بھلا کہا تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار بد زبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ص فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ رسال جون ۱۹۸۰

ابو بکر رض نے پوچھا: اے خدا کے رسول آپ کیوں اٹھ گئے ۔ آپ نے کہا: ابو بکر جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم خود بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا (سنن ابی داؤد، کتاب الادب)، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا سے بہتر انتقام لے سکے۔ حضرت علی رض بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ کچھ دن گزر گئے تو وہ یہودی تقاضے کے لئے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ " اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں یہودی نے کہا: " جب تک تم میرا قرض ادا نہ کرو گے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا"، چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کر رات تک وہ آپ کو گھیرے میں لئے ہوئے بیٹھا رہا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ آپ اس کے خلاف کارروائی کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگا نا چاہا ۔ مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ کسی نے کہا: " اے خدا کے رسول، ایک یہودی آپ کو قید کئے ہوئے ہے " آپ نے کہا کہ ہاں، مگر مجھ کو ظلم کرنے سے منع کیا اسی حال میں صبح ہو گئی ۔ جب اگلا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا کہ آپ قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک مالدار آدمی تھا۔ تک اس نے چند اشرفیوں کے لئے آپ کا گھراؤ کر رکھا تھا۔ مگر آپ کے اعلیٰ کردار نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے اپنی ساری دولت آپ کی خدمت میں پیش کر دی اور کہا کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں خرچ کریں (بیہقی) عبداللہ بن ابی الحسماء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہرے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کر دوں گا۔ پہنچنے کے بعد میں بعض کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا۔ دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں ۔ آپ نے مجھ کو دیکھنے کے بعد صرف اتنا کہا: تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں (ابو داؤد) اس طرح کا عمل اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ انتہائی کٹّر آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت عائشہ رض بتاتی ہیں کہ یہودی عالموں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا: السام علیکم ( تباہی ہو تم پر) حضرت عائشہ نے سنا تو ان سے برداشت نہ ہو سکا، انھوں نے کہا" بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو" آپ نے حضرت عائشہ کو اس قسم کے جواب سے منع فرمایا اور کہا: " خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخالف کا دل جیتنے کے لئے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بد زبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے ۔ ہتھیار کے حملہ کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملہ کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی ہار ماننی پڑتی ہے۔

برار بن عازیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کے ساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے تو مسلمان اس کو واپس کر دیں گے۔ مگر جو مسلمان قریش کے پاس پہنچ جائے اس کو قریش واپس یں کریں گے۔ یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ ایک مسلم نوجوان ابو جندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ پہنچے۔ ان کو ان کے گھر والوں نے اسلام کے جرم میں قید کر رکھا تھا۔ بیڑیاں پہنے ہوئے اس حال میں حدیبیہ پہنچے کہ ان کا جسم بیڑیوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھ کو دشمنوں کے چنگل سے بچاؤ۔ یہ بے حد نازک وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے تلواریں ابو جندل کے جذباتی واقعہ کو دیکھنے کے بعد لوگوں کا رجحان ہو گیا کہ معاہدہ کو توڑ کر ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے دوسری طرف مکہ والوں نے کہا: "محمد ! ہمارے اور تمہارے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے، یہ اس کی تکمیل کا پہلا موقع ہے۔ بالآخر اللہ کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ طے ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھیوں کے لئے یہ بات بے حد تکلیف کی تھی ۔ مگر آپ نے ابو جندل کو دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا (صحیحین) بظاہر اس واقعہ کے معنی یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے۔ مگر اس واقعہ میں اصول پسندی کا جو شان دار عملی مظاہرہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ظالم اندر سے بالکل ڈھ گئے۔ اب ان کا ابو جندل کو لے جانا اور اپنے یہاں ان کو قید میں رکھنا محض ایک عام واقعہ نہ رہا بلکہ ان کی طرف سے اخلاقی گراوٹ اور اسلام کے لئے اخلاقی بلندی کی ایک مثال بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگ اسلام کی اخلاقی برتری سے مرغوب ہو گئے ۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ ابو جندل کا وجود مکہ میں اسلام کی زندہ تبلیغ بن گیا ۔ حتی کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابو جندل ان کو اپنی قومی زندگی کے لئے خطرہ معلوم ہونے لگے۔ انھوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے۔

حضرت ابو ہریرہ رض مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کی طرف چند سوار بھیجے جو آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستےمیں پاگئے اور اس کو گرفتار کر لائے۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال ثمامہ نے جواب دیا: "اگر تم نے مجھے کو قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی ۔ اور اگر تم مجھ کو چھوڑ دو گے تو میں عر جبہ تمھارا احسان مانوں گا اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال چاہو میں دینے کے لئے تیار ہوں " رسول اللہ ص نے کی رہائی کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ اس وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا ۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کے ہاتھ آ جانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا اور درد یہ کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی سلوک سے اس کی ردت کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد میں آیا۔ لوگ حیران تھے کہ وہ دوبارہ کس لئے یہاں آیا ہے۔ مگر جب اس نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو نہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے اس کو چھوڑ کر در اصل ہمیشہ کے لئے اس کو گرفتار کر لیا تھا۔ کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ گیا۔ جب وہ حرم میں پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کا حال معلوم ہوا تو انھوں

نے کہا: تم بے دین ہوگئے “۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ میں بے دین یں ہوا بلکہ میں نے خدا کے رسول کے دین کو اختیار کر لیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ثمامہ اسلام کی قوت کا ذریعہ بن گیا۔ اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ ثمامہ نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو، محمدؐ کی اجازت کے بغیر اب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا (صحیح مسلم)۔ کردار بظاہر ایک بے قیمت چیز ہے مگر اس کو دے کر آدمی ہر چیز خرید لیتا ہے۔

اخلاق کی بلندی یہ ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہے اس پر وہ خود عمل کرتا ہو۔ کمزوروں کے ساتھ بھی وہ رعایت و شرافت کا ہی طریقہ اختیار کرے جو کوئی شخص طاقت ور کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنے لئے اس کے پاس جو معیار ہو وہی معیار دوسروں کے لئے بھی ہو۔ مشکل حالات میں بھی وہ اپنے اصولوں سے نہ ہٹے ۔ حتیٰ کہ دوسروں کی طرف سے پست کردار کا مظاہرہ ہو تب بھی وہ اعلیٰ کردار پر قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے اخلاق کے کمال درجہ پر تھے۔ آپ نے کبھی اعلیٰ اخلاق کو نہیں کوئی مصلحت یا کوئی اختلاف آپ کو اخلاق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ آپ کے انتہائی قریبی ساتھیوں نے اس معاملہ میں جو گواہی دی ہے اس سے بڑی اور کوئی گواہی نہیں ہو سکتی ۔

سعید بن ہشام تابعی نے آپ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہؐ کا اخلاق کیسا تھا۔ جواب دیا : آپ کا اخلاق تو قرآن تھا۔ گویا قرآن کی صورت میں مطلوب زندگی کا جو نقشہ آپ نے دوسروں کے سامنے پیش کیا خود آپ اسی نقشہ میں ڈھل گئے۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہؐ کی خدمت کی مگر کبھی آپ نے اف تک نہ کیا اور نہ کبھی میرے کسی کام کی بابت آپ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور جو کام میں نے نہیں کیا اس کی بابت بھی آپ نے کبھی یہ نہ کہا کہ تم نے اس کو کیوں نہیں کیا۔ وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے (صحیحین)۔ احمد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، نہ کسی عورت کو مارا ! اور نہ کسی دوسرے کو اپنے ہاتھ سے مارا۔ البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔ جب بھی آپ کو دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو لینے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے آسان کو اختیار فرمایا، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ جو چیز گناہ ہوتی اس سے آپ تمام لوگوں سے زیادہ دور رہنے والے تھے ۔ آپ کو خواہ کوئی بھی تکلیف پہنچائی گئی ہو کبھی آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا ، الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کردار تھا جس نے آپ کو دشمنوں کی نظر میں بھی قابلِ عزت بنا دیا۔ جن لوگوں نے آپ کا ساتھ نہ دیا وہ ہر طرح کی مصیبت اور نقصان کے باوجود آپ کے ساتھ جڑے رہے۔ اپنی مظلومی کے دور میں بھی آپ لوگوں کی نظر میں اتنے ہی محبوب تھے جتنا فتح وغلبہ کے دور میں ۔ آپ کو دور سے دیکھنے والوں نے آپ کو جیسا پایا ویساہی ان لوگوں نے بھی پایا جو آپ کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ آپ کا کردار ایسا نمونہ بن گیا جیسا نمونہ تاریخ میں دوسرا نہیں پایا جاتا ۔

منافقین کہت7-8 ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں ۔ حالاں کہ اللہ کے ہیں زمین و آسمان کے خزانے مگر منافق اس کو نہیں سمجھتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو زور والا ہے وہ کمز ور لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا۔ حالاں کہ زور صرف اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا اور ایمان والوں کا، مگر منافق اس کو نہیں جانتے ۔ کسی کے لئے رزق کا ایک دروازہ کھلے اور ایک آدمی اس کو بند کرنے کا منصوبہ بنائے تو یہ خدا کے تقسیم رزق کے نظام میں مداخلت کرنا ہے۔ جو شخص ایسا منصوبہ بنائے وہ بدترین جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ طرح کسی شخص کو کوئی ٹھکانا ملا ہوا ہے۔ اب کوئی شخص اس کو اس ٹھکانے سے اجاڑنے کی سازش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ قدرت کے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔

خدا ہی دینے والا ہے اور خدا ہی چھیننے والا۔ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملا ہے اور وہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ کسی سے کوئی چیز چھین لے۔ ایسی دنیا میں کسی شخص کا یہ منصوبہ بنانا کہ وہ کسی سے چھینے اور اس کو بر باد کرے، خدا کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اپنے کو بندہ کے مقام سے اٹھا کر خدا کے مقام پر بٹھانا ہے، ظاہر ہے کہ کوئی بندہ کبھی خدا نہیں بن سکتا۔ اس لئے کسی بندہ کا ایسا منصوبہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

جب کوئی شخص کسی انسان کے خلاف سازش کرتا ہے تو وہ گویا خدا کے خلاف سازش کرتا ہے، خدا نے جس کو اپنی زمین پر آباد کیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ اس کی زمین سے اجاڑ دے۔ خدا نے جس کو کھانا اور پانی دیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ بھو کا اور پیاسا بنا دے، خدا نے جس کو گھر دیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ بے گھر کر دے ، خدا نے جس کو عزت دی اس کو وہ چاہتا ہے کہ بے عزت کر کے چھوڑ دے۔ ایسا آدمی خدا کے دئے کو چھین لینا چاہتا ہے ، وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کر دینا چاہتا ہے۔ ایسا شخص خدا کی اس کائنات میں مجرم ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ خود اس کو اجاڑ دیا جائے ، کجا کہ وہ کسی کو اجاڑنے میں کامیاب ہو۔ اس زمین و آسمان کے اندر سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کوئی شخص خدا کی جگہ پر بیٹھنا چاہے۔ وہ خدا کی تقسیم رزق میں خلل ڈالنے کا منصوبہ بنائے۔ ایسا شخص اگر کامیاب ہوتا ہوا دکھائی دے تو وہ خدا کی اس ڈھیل کی بنا پر ہوگا کہ اس کا جرم پوری طرح کھل جائے ۔ تاکہ خدا جب اس کو پکڑے تو وہ ایک ثابت شدہ مجرم ہو کر پکڑنا ہو۔

اللہ کی تقسیم رزق میں مداخلت کا یہ جرم اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب کہ وہ اگرحق کے داعیوں کے خلاف کیا گیا ہو۔ اللہ کے کچھ بندے حق کی پیغام رسانی کا کام کر رہے ہوں تو وہ براہ راست اللہ کی توفیق سے کر رہے ہوتے ہیں، ایسی حالت میں کسی کا یہ منصوبہ بنانا کہ ان کا رزق بند کر دو یا ان کا آشیانہ اجاڑ دو تاکہ یہ کام ختم ہو جائے ۔ بہت بڑی بھول ہے اور بہت بڑا جرم بھی ۔

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو الٹا پھر اتو ہم نے ان پر تم کو نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو قبول ہے۔ پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ اس کے خلاف مشورہ کرتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ ان کی سرگوشیوں کو لکھ رہا ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں، اور اگر نہ وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔ ۸۰ - ۸۳ ۔

خدا کے داعی کو ماننا ” اپنے جیسے انسان کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مان لیتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر راضی نہیں ہوتا ۔ مگر آدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس کی جانب اپنے کو کھڑا کرے ۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا ۔ سامنے وہ رکھی طور پر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے ۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل مبہ ۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے ۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لئے یہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے ۔

قرآن کے کلام الہی بولنے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو ۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو ۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجریبی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو ۔ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے ۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ”تدبر کرے ۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لئے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کر دے ۔

اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی نااہلی کو جان لیں ۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کر کے اس کی رہنمائی پر راضی ہو جائیں ۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے ۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے ۔ اجتماعی معاملات میں ہونے سے زیادہ حصہ منافقتری ہوتا ہے۔ شیطان کی دیدہ دلیری کا آدمی بات سننے اور دوسروں کے سامنے دوسرے زنگ

پس لڑو اللہ کی راہ میں۔ تم پر اپنی جان سے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں اور مسلمانوں کو ابھار و۔ امید ہے کہ اللہ منکروں کا زور توڑ دے اور اللہ بڑا زور والا اور بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ جو شخص کسی اچھی بات کے حق میں کہے گا اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے، اور جو اس کی مخالفت میں کہے گا اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اور جب کوئی تم کو دعا دے تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا الٹ کر وہی کہہ دو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا اللہ ہی معبود رہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ ۸۴ – ۸۶ دینداری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طور پر جہاں ہے وہیں رہے۔ وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے ۔ البتہ کچھ اوپر کی مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دیندار بن گیا ہوں۔ ایسے دین کے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش کئے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں ، جس میں آدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑ نا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دینداری کا سکہ قائم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے ۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے، ایک بات کا حق ثابت ہو جانا ہی اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے ۔ یہ صورتِ حال کبھی اتنی سنگین ہو جاتی ہے کہ حق کی تائید و حمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔ اس کے برعکس حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے ۔ تاہم جہاں تک سچے اہلِ ایمان کا تعلق ہے ان کو بہ حال میں یہ حکم ہے کہ خامہ عارضی شرقی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں ۔ مسلمان کا رویہ زود ہر لوپا کے ردِ عمل میں نہیں جینا چاہئے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے جینا چاہئے ۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لئے کیا فیصلہ کرے۔

نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدرِ صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکروں کا زور توڑے۔ خدا کی سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سرو سامانی کے با وجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لئے نکل پڑے ہوں ۔

پھر تم کو کیا ہوا ہے کہ تم منافقوں کے معاملہ میں دو گروہ ہورہے ہو۔ حالانکہ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب سے ان کو الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو راہ پر لاؤ جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تم ہر گز اس کے لئے کوئی راہ نہیں پا سکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح انھوں نے انکار کیا ہے تم بھی انکار کرو تا کہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ پس تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ پھر اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں ان کو پاؤ انھیں قتل کرو اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مددگار نہ بناؤ۔ مگر وہ لوگ جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہوہ ہے۔ یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ ان کے سینے تنگ ہورہے ہیں تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زو ر دے دیتا تو وہ ضرور تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم کو چھوڑے رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ رکھیں تو اللہ تم کو بھی ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ جب کبھی دہ فتنہ کا موقع پائیں دہ اس میں کو دپڑ تے ہیں۔ ایسے لوگ اگر تم سے یکسو نہ رہیں اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو تم ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں پاؤ۔ ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلی حجت دی ہے ؀ ۸۸ - ۹۱ آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان "ہجرت" ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کر کے حق کی طرف بڑھے تو اس کے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ کو اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔

جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی منافقین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جوظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت یہ ہے کہ اہل ایمان ہر ایک سے اُس کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ نہ کمزور دُروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلاضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

اور مسلمان کا کام نہیں کہ وہ مسلمان کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی ایسا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہادے الّا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے تھا جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مسلمان تھا تو وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے ۔ اور اگر وہ ایسی قوم سے تھا کہ تمہارے اور اس کے درمیان عہد ہے تو وہ اس کے وارثوں کو خوں بہادے اور ایک مسلمان کو آزاد کرے ۔ پھر جس کو میسر نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ توبہ ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ٩٣-٩٢ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کر دے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد جرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مار ڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑ گڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے سے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔ جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہو گئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیا ہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔

ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے حرمت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھیننے ۔ اس کو بے گھر نہ کرے ۔ کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیز کو اس سے چھینے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کر بیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہئے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد ۔

اے ایمان والو! جب تم سفر کرو اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تم کو سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں تم دنیوی زندگی کو سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سامان غنیمت ہے۔ تم بھی پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا تو تحقیق کر لیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ برابر نہیں ہو سکتے۔ بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، اپنے مال اور اپنی جان سے۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کی اللہ نے بیٹھ رہنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کا بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم میں برتری دی ہے۔ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ۹۴ - ۹۳ عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر سے مسلمان تھے مگر ہجرت کر کے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔ اس نے "السلام علیکم" کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کر دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں حتیٰ کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا مارا جانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہو جانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (زوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل امرئ مسلم، حدیث) جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابل تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر کے خاموش ہو جائے گا۔

عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں اور حرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان و مال کو لے کر حاضر ہو جائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لئے پیش کر دیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں گے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنیادی طور پر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لئے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کئے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لئے خدا بھی پروا کئے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

النسا ء ۴ جو لوگ اپنا برا کر وہے ہیں جب ان کی جان فرشتے نکالیں گے وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے۔ گے کہ ہم زمین میں بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وطن چھوڑ کر وہاں چلے جاتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ مگر وہ بے بس مرد اور عورتیں اور بچے جوکوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ کوئی راہ پا رہے ہیں ، یہ لوگ تو توقع ہے کہ اللہ انہیں معاف کر دے گا اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔ جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے گا وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے ، پھر اس کو موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں مقرر ہو چکا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزادانہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لئے کھلے مواقع جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہئے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکال لے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے ۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کر کے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے ، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کر دیتے ہیں تو رہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لئے کوئی راہ کھل

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لئے ایسی ہی ناموافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ”یثرب“ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لئے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لئے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں کمی کرو، اگر تم کو ڈر ہارو۔ کہ کافر تم کو ستائیں گے۔ بے شک کافر لوگ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ اور جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور ان کے لئے نماز قائم کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار لئے ہوئے ہو۔ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو وہ تمہارے پاس سے ہٹ جائیں اور دوسری جماعت آئے جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں ۔ اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ کافر لوگ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے کسی طرح غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی ٹوٹ اور تمھارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر تم کو بارش کے سبب سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار دو اور اپنے بچاؤ کا سامان لئے رہو۔ بے شک اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پس جب تم نماز ادا کر لو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ۔ پس جب اطمینان ہو جائے تو نماز کی اقامت کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر مقرر وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ اور قوم کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہو - اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح دکھ اٹھاتے ہیں اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے - ۱۰۱ دین میں جتنے اعمال بتائے گئے ہیں، خواہ وہ نماز ہو اور زکوٰۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود واللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا نہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جس طرح جسے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلا نے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی تو جہات اللہ کی طرف لگی ہوئی جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو وہ اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال و جمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تا کہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز ہے کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہئے ۔

اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر سے ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام یہ کیا ہو تو گویا انھوں نے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے ۔ مومن کو دنیا میں جومصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے اس منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کر کے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو منافق ستانے والا۔

اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے ۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں ۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے ۔ وہ اس لئے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔

بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ اتاری ہے تا کہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو دکھایا ہے ۔ اور بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے بنو۔ اور اللہ سے بخشش مانگو ۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان اور تم ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں۔ اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو خیانت والا اور گنہگار ہو۔ وہ آدمیوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے ، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اس بات کی جس سے اللہ راضی نہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس کا احاطہ کئے ۱۰۵ – ۱۰۸ انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کر لیتا ہے۔ مگر دوسرے دھڑے سے ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طور پر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ وہ بذاتِ خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتا ہے کہ "میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر" اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیر اہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔

کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گردی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت ۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ساتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ نہ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپنا ہو اور ایک فریق باہر کا، تب بھی معاملے کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پروا کئے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیا جائے ۔

سچائی کو چھوڑنا خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کر چکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندہ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں کسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لئے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے اس کا ساتھ بھی بن جاتا مگر نا حق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ہاتھ سے محروم ہو جاتا ہے۔

تم لوگوں نے دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑا کرلیا۔ مگر قیامت کے دن کون ان کے بدلے اللہ سے جھگڑا کرے گا یا کون ہو گا ان کا کام بنانے والا۔ اور جس کو شخص برائی کرے یا اپنے آپ پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پائے گا۔ اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے ہی حق میں کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ جو شخص کوئی غلطی یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو اس نے ایک بڑا بہتان اور کھلا ہوا گناہ اپنے سرلے لیا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو یہ ٹھان ہی لیا تھا کہ تم کو بہکا کر رہے گا۔ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں۔ وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا ١٣-١٠٩ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطی ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملے میں بھی۔ کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے، وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کر دے اور آئندہ کے لئے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ اس طرح اللہ کی پناہ چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کر کے اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تووہ غلطی کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کر رہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہو رہی ہیں، وہ تدبیر کر کے اس کام کو بند کرا دے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سرڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو نہ کہ بحث کر کے اپنے کو صحیح ثابت کرو کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

ان کی اکثر سر گوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ بھلائی والی سرگوشی صرف اس کی ہے جو صدقہ کرنے کو کہے یا کسی نیک کام کے لئے یا لوگوں میں صلح کرانے کے لئے کہے۔ جو شخص اللہ کی خوشی کے لئے ایسا کرے تو ہم اس کو بڑا اجر عطا کریں گے۔ شخص رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستے کے سوا کسی اور راستہ پر چلے گا، حالاں کہ اس پر راہ واضح ہو چکی تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ حق کی بے آمیز دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ زمین پر خدا کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی میزان میں ہر آدمی اپنے کو تولتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اتار دیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کر دیتی ہے جہاں وہ باعتبار حقیقت تھا۔ یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ ماحول داعی کے لئے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔

جو لوگ دعوت حق کے ترازو میں اپنے کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ تیزی سے مخالفانہ رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستانہ حیثیت کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ ان کے لئے اپنی زبان کا استعمال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت اور داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں۔ اس کو زیر کرنے کے منصوبے بنائیں۔ وہ لوگوں کو منع کریں کہ اس کی مالی مدد نہ کریں۔ جو اللہ کے بندے اللہ کی رسی کے گرد متحد ہو وہے ہوں ان کو بدگمانیوں میں مبتلا کر کے منتشر کرو۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں، رہ اس کا ساتھ دیں، وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ان کی زبان کا استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے طور پر سچائی کا اعتراف کریں۔ وہ لوگوں سے کہیں کہ یہ اللہ کا کام ہے اس میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرو۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی قوتوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حق کا اعتراف ان کے اندر جو نفسیات جگاتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے کاموں میں لگ جائیں۔

اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور جو لوگ حق کی دعوت کے گرد جمع ہوئے ہیں ان کو اپنی دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے اکثر گناہوں میں یہ امکان رہتا ہے کہ وہ انسان کی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں۔ مگر دعوت حق کی مخالفت تمام تر سرکشی کی وجہ سے ہوتی اور سرکشی کسی آدمی کا وہ جرم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا، الایہ کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور سرکشی سے باز آ جائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گو یا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔

بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا گنا ہوں کو بخش دے گا جس کے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ بہک کر بہت اور جا پڑا ۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں دیویوں کو اور وہ پکارتے ہیں سرکش شیطان کو۔ اس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور شیطان نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔ میں ان کو بہکاؤں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور ان کو سمجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سمجھاؤں گا تو وہ اللہ کی بناوٹ کو بدلیں گے اور جو شخص اللہ کے سوا شیطان کو اپنا دوست بنائے تو وہ کھلے ہوئے نقصان میں پڑ گیا۔ وہ ان کو وعدہ دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور شیطان کے تمام وعدے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا ۱۱۶- 116-122 جو شخص ایک اللہ کو پکڑلے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ تلپٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔

اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وہ اتنا ہی کر سکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے، دور فرضی تمنّاؤں میں الجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک توہم پرستی۔ اور دوسرے خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کر لی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی چیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کر لینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہو جائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے ۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی تو جہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کر دیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طور پر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقہ سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہئے، اس نقشہ کو پلٹ کر دیا جائے۔

نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو۔ تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا ۔ اور اس سے بہتر کس کا دین ہے جو اپنا چہرہ اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو۔ اور وہ چلے دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ اور اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے (۱۲۳ - ۱۲۶)

خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کر کے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملے کورسی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لئے ان کے نزدیک مکمل جد و جہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لئے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش ، کسی بڑے گروہ سے وابستگی ، کچھ پاک کلمات کا ورد ، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پر بہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو ، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں ۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر ۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہو گا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ قانون عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کر رہیں۔ جو اپنے آپ کو ہم تن اپنے رب کی طرف یکسو کر لیں۔ وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لئے خاص کر دیں۔ انھوں نے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں ۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنات کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپایا باہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا ، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں ۔ اگر آدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

اور لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور وہ آیات بھی جو تمہیں کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن کو تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لئے لکھا گیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان کو نکاح میں لے آؤ۔ اور جو آیات کمزور بچوں کے بارے میں ہیں، اور یتیموں کے ساتھ انصاف کرو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور تم ہرگز عورتوں کو برابر نہیں رکھ سکتے اگرچہ تم ایسا کرنا چاہو۔ پس بالکل ایک ہی طرف نہ جھک پڑو کہ دوسری کو لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کرلو اور ڈر و تواللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے احتیاج کردے گا اور اللہ بڑی وسعت والا حکمت والا ہے۔ پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر و انصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری نفعین کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس لئے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یا دآدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ کئے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ کو پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ اس کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ زحمت کو درنگر کر کے کچھ کرے گا اس کے پردہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا اس کی رسائی

دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کر سکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا ہو ۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا ، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو جانا ، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں وہ صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لئے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے ۔

موجودہ دنیا آزمائش کے لئے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا اس مقصد کے لئے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتیٰ کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لئے ممکن ہے کہ وہ برائیوں میں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لئے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کر دے اور اپنے انکار کی ایک خوبصورت توجیہہ تلاش کرے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی ، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائے کہ وہ خالص حق کے لئے کام کر رہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے ۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے ، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجود اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق و صداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں ۔ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لئے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہوں ۔

اے ایمان والو، انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے یا تمہارے ماں باپ یا عزیزوں کے خلاف ہو۔ اگر کوئی مال دار ہے یا محتاج تو اللہ تم سے زیادہ دونوں کا خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ۱۳۵ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جو لوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے مواقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جو اللہ کو اپ نگراں بنائے ہوئے ہیں وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر قسط اور عدل پر قائم کئے ہوئے ہوں ۔

ان کی انصاف پسندی کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھیں اور اس کو برداشت کر لیں۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتے ۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں ان کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا ان کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتے ہیں جو انصاف کی رو سے انہیں کہنا چاہئے۔ ان کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لئے کھلتی ہے نہ کہ کسی اور چیز کے لئے ۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے ۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے خواہ وہ زور آور ہو یا کم زور۔ جب کوئی آدمی نا انصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی نا انصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایسے موقع پر ہر آدمی دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ بات کو بدل دیتا ہے۔ وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو کہ یہ نا انصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے، جس کے ساتھ نا زیادتی کی جا رہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کر لے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں نا انصافی کی جارہی ہے وہ کترا کر نکل جائے اور جو کہنے کی بات ہے اس کو نہ بان پر نہ لائے ۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے اوپر اللہ کو نگراں نہیں سمجھتا۔

Printed page