آخرت کے بغیر موجودہ زندگی بے معنی ہے
Al-Risala, June 1980, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر آر آر۔ سبرامنیم ( آر ناکو لم ) بے حد ذہین تھے اور سنجیدہ بھی ۔ وہ اپنی بھاری عینک کے ساتھ طالب علمی ہی کے زمانہ میں " پروفیسر " دکھائی دیتے تھے۔ ہائی اسکول سے لے کر ایم ایس سی تک وہ فرسٹ کلاس پاس ہوتے رہے اس کے بعد ان کو ہارورڈ یونیورسٹی سے اسکالرشپ ملا اور انھوں نے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کیا ۔ ان کو صنعت میں اچھی جگہ مل سکتی تھی مگر انھوں نے بنگلور کے ایک کالج میں استاد بننا پسند کیا۔ اچانک وہ بیمار ہوئے اور آپریشن کے لئے ممبئی لے جائے گئے ۔ آپریشن کے ایک ہفتہ بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ انتقال کے وقت ان کی عمر صرف 34۸ سال تھی ۔ ڈاکٹر سبرا نیم کے دوست مسٹر دی گنگا دھر نے ان کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے ۔ مسٹر گنگا دھر اپنے مضمون کا خاتمہ ان الفاظ پر کرتے ہیں : Why do these things happen? I cannot find an answer اس طرح کی باتیں کیوں ہوتی ہیں ، مجھے اس کا جواب نہیں معلوم (ٹائمس آف انڈیا ۱۵ نومبر ۱۹۷۹) اس طرح کے سوالات آدمی کے ذہن میں اس لئے آتے ہیں کہ وہ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتا ہے۔ حالاں کہ موت ایک اور زندگی کا آغاز ہے ۔ آدمی اگر آج کی زندگی میں اچھا کام کرے تو اگلی دنیا میں جاکر وہ دوبارہ زیادہ بہتر طور پر رہنے لگتا ہے ۔ اُس کے لئے موت موت نہیں بلکہ زندگی ہے ۔ البتہ جو شخص حقیقت کے ساتھ اپنے کو مطابق نہ کرے اس کے لئے یہاں بھی بربادی ہے اور وہاں بھی۔