شریعت پسندہی رسید
Al-Risala, June 1980, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ابی بن کعب نے کہا۔ علم کو سیکھو اور اس پر عمل کرو۔ علم کو اس لئے نہ سیکھو کہ اس سے اپنی زیبائش کرو۔ کیوں کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ علم سے زیبائش کا کام لیا جائے گا جس طرح آدمی کپڑے سے اپنی زیبائش کرتا ہے۔
سے بڑی فتنت سے شہرست پسندی سب سے بڑا فتنہ ہے حضرت شداد بن اوس کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے کہا: اخوف ما اخاف علی هذه الامة الرياء والشهوة الخفية (درم (۳) اس امت پر مجھ کو سب سے زیادہ جس چیز کا اندیشہ ہے وہ ریا اور شہوت خفی ہے ۔ سفیان ثوری نے کہا : الشهرة الخفية الذی يحب ان يحمد على البر (شہوت خفی یہ ہے کہ نیکی پر تعریف سننا چاہے) یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشهوة الخفية فقال هو الرجل يتعلم العلم يحب ان يجلس اليه (ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ ۔ ۱۹۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ شہوت خفی کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: آدمی دینی علم سیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے پاس لوگ بیٹھیں ۔ وہاں عمل کرنا جہاں لوگ دیکھیں عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعوّذوا باللہ من جب الحزن قالوا یا رسول اللہ وما جب الحزن ، قال واد فی جھنم یتّعوذ منه جھنم کل یوم اربع مئۃ مرّۃ۔ قيل يا رسول اللہ ومن يدخلها قال : القراء المراؤن باعما لھم (ترمذی - ابن ماجہ) ابوہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جب الحزن سے پناہ مانگو۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول جب الحزن کیا ہے۔ فرمایا وہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے خود جہنم روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول اس میں کون فرمایا علمار جو دکھا دے لئے عمل کرتے ہیں ۔