موت کا دن آدمی کے جاگنے کا دن ہے
Al-Risala, June 1980, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ سوئے ہوئے ہیں۔ جب مریں گے تو بیدار ہوں گے (الناس نيام اذا ماتوا انتبهوا) یعنی انسان دنیا میں اتنا مشغول ہے کہ وہ آخرت کے معاملہ میں غافل ہو گیا ہے ۔ گویا کہ وہ دنیا میں جاگ رہا ہے اور آخرت میں سو رہا ہے ۔ مگر جب موت اس کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو اس کو معلوم ہو گا کہ وہی چیز اصل تھی جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا ۔
دنیا کی طرح لگاؤ آدمی کو آخرت کے معاملہ میں کمزور کر دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک زمانہ آئے گا : جب تم سیلاب کے خس و خاشاک کی طرف بے حقیقت ہو جاؤ گے ۔ نے پوچھا اے خدا کے رسول اس کا سبب کیا ہو گا ۔ آپ نے فرمایا تمہارے اندر دھی پیدا ہو جائے گا ۔ لوگوں نے دوبارہ پوچھا اے خدا کے رسول دھی کیا ہے ، آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (حب الدنیا کراهية الموت ) آدمی اپنے کو جہنم کے کنارے کھڑا ہوا پائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے ۔ وہاں آپ نے جو پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا : اے لوگو ! اپنے لئے آگے بھیجو ۔ یقیناً تم اس کو جان لو گے۔ خدا کی قسم ضرور ایسا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص پر بے ہوشی طاری ہو گی بکریوں والا بکریاں چھوڑ کر اس طرح چلا جائے گا کہ ان کا کوئی گلہ بان نہ ہو گا۔ پھر اس کا رب اس سے کہے گا اور اس کے اور خدا کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا اور نہ بیچ میں کوئی رکاوٹ حائل ہوگی ، اس کا رب اس سے کہے گا کیا تمہارے پاس میرا پیغمبر نہیں آیا ۔ پھر تم کو اس نے میرا پیغام پہنچایا ۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور تمہارے اوپر پھر تو نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا ۔ اس وقت وہ آدمی اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ پھر وہ اپنے آگے دیکھے گا تو اس کو وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے گا ۔ پس جو اپنے چہرے کو آگ سے بچا سکے تو وہ ضرور بچائے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے ہو۔ اور جس کے پاس وہ بھی نہ ہو تو وہ میٹھا کیوں کہ اس کا بھی بدلہ ملے گا۔ اور نیکی کا بدلہ دس گنا سے شروع ہوتا ہے اور سات سو گنا تک ملتا ہے والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته (سیرت النبی لابن ہشام، جلد ۲ )