Al-Risala · June 1980

امتحان غیرمعمولی حالات میں

Al-Risala, June 1980, pp. 30–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کہا گیا ہے: کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اتنا کہہ کر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ جانچے نہ جائیں گے۔ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو پہلے تھے۔ پس ضرور ہے کہ اللہ جان لے کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے ہیں (عنکبوت) اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا مومن ہونا یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کو مومن کہہ دے یا اپنے کو مومن مومن حقیقۃً وہ ہے جس کے مومن ہونے کی تصدیق خدا کے یہاں ہو جائے۔ کسی کے ایمان کو اگر خدا جھوٹا ایمان کہے تو اس کے ایمان کی کوئی قیمت نہیں خواہ دنیا میں وہ مومن اعظم کے نام سے پکارا جاتا ہو۔ کسی کے ایمان کے بارے میں خدا کا فیصلہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس طرح دنیا کی زندگی میں کسی ساتھی یا رشتہ دار کے تعلق کا صحیح پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ کسی قسم کے غیرمعمولی حالات پیدا ہو جائیں۔ عام حالات میں کسی ساتھی یا رشتہ دار کی جانچ نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ آخرت کا ہے۔ کی دنیا میں جن لوگوں کو اس قابل سمجھا جائے گا کہ ان کو اللہ کا پسندیدہ بندہ قرار دیا جائے اور ان کے جنت کے دروازے کھولے جائیں وہ وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے غیرمعمولی حالات میں اپنی خدا پرستی اور تقویٰ کا ثبوت یہ غیرمعمولی حالات کیا ہیں، اس سلسلہ میں یہاں چند صورتیں درج کی جاتی ہیں۔ 1- ایک صورت وہ ہے جو داعی حق کے اعتراف کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے، پردہ داری کی سنت کے تحت اٹھتی ہے۔ یعنی حق کی آواز بلند کرنے کے لئے اللہ ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو دیکھنے میں لوگوں کو محض ایک ’’آدمی‘‘ معلوم ہوتا ہو۔ خدا کا داعی ہمیشہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس کی زندگی میں دو چیزیں اپنی انتہائی صورت میں جمع ہو جاتی ہیں۔ دلائل کا زور اس کے یہاں کامل صورت میں موجود ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مادی زور کے اعتبار سے اس کو بالکل ناقابل لحاظ بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح مدعو گروہ کو اس امتحان میں ڈالا جاتا ہے کہ اہمیت کے نہ ہوتے ہوئے بھی وہ دلائل کے وزن کو پا سکے۔ داعی کی ظاہری حیثیت" سے گزر کر اس کو اس کی چھپی ہوئی حیثیت " میں دیکھے۔ یہ ایک غیرمعمولی صورت حال ہوتی ہے اور جو اس غیرمعمولی صورت حال میں حق کو پہچان لے وہی خدا کے یہاں ماننے والا اور تسلیم کرنے والا قرار ایک طرف وہ پکارنے والے ہیں جن کے گردو پیش دنیا کی رونقیں جمع ہوتی ہیں۔ دوسری طرف وہ خدا کا بندہ ہے جو ظاہری رونقوں سے خالی ہو کر خالص حق کے لئے آواز دیتا ہے۔ جو لوگ پہلی قسم کی آوازوں پر دوڑیں وہ گویا ظاہری رونقوں پر دوڑے اور جنہوں نے دوسری آواز کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔

۲- دنیوی تعلقات میں ہم کو دو طرح کے آدمیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک وہ شخص جس سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی۔ دوسرا وہ شخص جس سے کسی نہ کسی سبب سے ہم کو شکایت ہو جاتی ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ لوگوں

اور ان بن کے با وجود کسی کے ساتھ معاملہ کرنے میں انصاف سے نہ ہٹیں اس وقت ہم اللہ کے یہاں انصاف کرنے والے قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی ان بن پیدا ہونے والے شخص کے ساتھ انصاف نہ کرے وہ اسی مقام پر ناکام ہو گیا جہاں خدا اس کی خدا پرستی کا امتحان لے رہا تھا۔

اسی طرح دنیا کی زندگی میں ہمیں دو طرح کے لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک وہ جو کمزور اور ناقابلِ ذکر ہوں، اور دوسرے وہ جو طاقت ور ہوں یا کسی وجہ سے وہ قابل ذکر بن جائیں، پہلی قسم کا ایک آدمی جب ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم سے مدد چاہتا ہے تو اس کے پاس اپنی مدد کی طرف مائل کرنے کے لئے کوئی اضافی کشش نہیں ہوتی۔ اگر ہم اس کی مدد نہ کریں تو ہم کو نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اور نہ بدنامی کا۔ برعکس طاقت ور کا ساتھ دینے میں بہت سے پہلوؤں سے امید ہوتی ہے کہ اس کا ساتھ بالآخر خود ہمارے لئے مفید اسی طرح مثلاً کوئی قومی مصیبت کا معاملہ پیش آجائے تو وہاں یہ کشش موجود ہوتی ہے کہ اس میں شرکت کرنے سے ہماری عزت وشہرت میں اضافہ ہوگا، ہماری قیادت زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔ مگر خدا ہماری انسانیت یا مسلم دوستی کو جہاں جانچ رہا ہے وہ حقیقتاً وہ مواقع نہیں ہیں جہاں طاقت اور عزت کی ترغیبات موجود موجود ہوتی ہیں۔ بلکہ خدا کے جانچنے کے مواقع وہ ہیں جہاں ایک کمزور اور نا قابلِ لحاظ آدمی آپ کے سامنے کھڑا ہو اور اس کی مدد کرنے کے لئے اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور محرک موجود نہ ہو۔ اگر آپ طاقت اور شہرت کے مواقع پر تعاون کرنے میں پر جوش ہوں اور ایک کمزور اور معمولی آدمی کا ساتھ دینے میں آپ کو دل چسپی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خدا کے امتحان میں پورے نہیں اترے۔

اللہ کے لئے عمل کرنے کی ایک صورت وہ ہوتی ہے جب کہ آدمی اپنی زندگی میں کوئی خلل پیدا کئے بغیر دین دار بنا ہوا ہو۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ اپنی بنی بنائی زندگی کو اجاڑ کر دین دار بنا ہو اور جان و مال کو قربان کر کے اللہ کی طرف بڑھنا پڑے۔ اللہ کے مقبول بندوں میں شامل ہونے کے لئے پہلی قسم کی دین داری کافی اللہ کے یہاں صرف اس کا ایمان و اسلام مقبول ہوتا ہے جو فائدوں اور مصلحتوں کے گھروندے کو توڑ کر اللہ ڈالا اللہ کا دین جب اس سے اس کے جان اور اس کے مال کا تقاضا کرے تو وہ جان و مال کودے کر اللہ کی طرف بڑھے۔ وہ کسی تحفظ کے بغیر اللہ کے دین کو اپنی زندگی کا دین بنا لے۔ اس کے برعکس جس شخص کا ہال یہ ہو کہ وہ بغیر قربانی والے دین کا اہتمام کرے اور قربانی والے دین سے اپنے کو بچا کر رکھے تو ایسے شخص کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ والے دین سے اپنے کو دور رکھنا گویا اپنے آپ کو اس امتحان حال میں داخل نہ کرنا ہے جہاں لوگوں کی یاقتوں کو جانچا جارہا ہے اور جہاں کی جانچ کے مطابق ہی کسی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جانے والا ہے۔

Printed page