بات کو موقع و محل میں رکھ کر دیکھئے
Al-Risala, June 1980, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
بنی اسرائیل (یہود) کے درمیان قدیم انبیاء کی بابت بہت سے قصے مشہور تھے۔ ان میں صحیح قصے بھی تھے اور غلط بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: لا تصدقوهم ولا تكذبوهم (ان قصوں کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب) دوسری طرف ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا: حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج (بنی اسرائیل سے باتیں نقل کرو، اس میں کوئی حرج نہیں)
بظاہر یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ مگر حقیقتاً ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں، کیوں کہ پہلی بات عام علمائے بنی اسرائیل کی بابت کہی گئی ہے، جب کہ دوسری بات بنی اسرائیل کے ان علماء سے متعلق کہی گئی ہے، جب کہ دوسری بات بنی اسرائیل کے ان علماء سے متعلق کہی گئی ہے جو حق پرست تھے اور جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور ایمان لائے___ کسی بات کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کس موقع محل میں کہی گئی ہے، اگر بات کو موقع و محل سے ہٹا دیا جائے تو ایک صحیح بات بھی دیکھنے والے کو غلط نظر آئے گی۔