Al-Risala · June 1980

الفاظ دھوکا دیتے ہیں

Al-Risala, June 1980, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

امام ربیع بن سلیمان مرادی مصری (م ۲۷۰ھ) امام شافعی کے شاگرد اور ان کی فقہ کے راوی ہیں۔ امام شافعی ان کو بہت مانتے ایک بار انھوں نے اپنے محبوب شاگرد کی بابت کہا: لو ددت اني حشوته العلم حشوًا (میں چاہتا ہوں کہ ربیع کو علم سے بھر دوں) اسی طرح ایک موقع پر ان کی زبان سے نکلا : اے ربیع! علم اگر کوئی کھلانے والی چیز ہوتی تو میں تم کو اسے کھلا دیتا۔ بعد کے بعض سیرت نگاروں نے یہ قیاس کر لیا کہ امام ربیع کم فہم تھے اور باتوں کو زیادہ اخذ نہیں کر پاتے تھے۔ قفال مروزی نے اپنے فتاویٰ میں اسی قسم کا خیال ظاہر کیا ہے۔ مگر یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ امام ربیع کے بعد کے کارنامے اس خیال کی تردید کے لئے حقیقت یہ ہے کہ امام شافعی کا یہ جملہ اپنے شاگردوں کے بارے میں ان کے تعلق خاطر کو بتاتا ہے نہ کہ شاگرد کی کم فہمی کو۔ خود ساختہ مطلب کیسے نکلتا ہے خواجہ حافظ شیرازی (۷۹۱ء - ۷۲۷ھ) کا ایک شعر ہے:

گر مسلمانی ہمیں است که حافظ دارد دائے گر در پئے امروز بود فردائے اس شعر کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اسلام اگر اسی عملی حالت کا نام ہے جو مسلمانوں میں نظر آتی ہے تو اس آج سے کوئی بہتر مستقبل پیدا ہونے کی امید نہیں۔ مگر حافظ کے بعض ہم عصر جوان سے عناد رکھتے تھے انھوں نے اس شعر سے یہ مطلب نکال لیا کہ حافظ عقیدہ آخرت کے منکر ہیں۔

Printed page