Al-Risala · June 1980

مخاطب کی رعایت سے کلام کرنا

Al-Risala, June 1980, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو معاف کردیں گے (نساء ۳۱) کسی نے حضرت سفیان ثوری سے پوچھا کہ اس آیت میں بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ سے کیا مراد ہے۔ انھوں نے کہا : بڑا گناہ وہ ہے جو بندے اور بندے کے درمیان ہو اور چھوٹا گناہ وہ ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہو (الکبائر ما كان فيه المظالم بينك وبين عباد الله تعالى والصغائر ما كان بينك وبين الله تعالى) ظاہر ہے کہ حضرت سفیان ثوری اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ قرآن میں شرک کو سب سے بڑا ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیا ہے (نساء48) ) انھوں نے یہ بات مخاطب کی رعایت سے کہی نہ کہ مطلق معنوں میں ۔ ایسے ماحول میں جب کہ لوگ خدا کے حقوق ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہوں مگر بندوں کے معاملہ میں سرکش اور ظالم بنے ہوئے ہوں تو مصلح کو اسی زبان میں کلام کرنا پڑتا ہے جس کا ایک نمونہ سفیان ثوری کے مذکورہ قول میں نظر آتا ہے۔

Printed page