بات کا رخ بدل دینے سے
Al-Risala, June 1980, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص دعا کر رہا تھا : اے میرے خدا ، مجھے کھانے کو روٹی دے ۔ مجھے پہننے کو کپڑا دے ۔ مجھے رہنے کو مکان دے، مجھ کو عزت و آرام کی زندگی دے ۔ ایک بزرگ نے سنا تو کہا : تم کیسی دعا کر رہے ہو ۔ خدا سے مانگنے کی چیزیں تو کچھ اور ہیں۔ آدمی نے پوچھا : پھر آپ کس طرح دعا کرتے ہیں ۔ بزرگ نے کہا : میں اس قسم کی چیزیں نہیں مانگتا ۔ میں تو جب دعا کرتا ہوں تو کہتا ہوں : اے میرے خدا ، مجھ کو ایمان دے ۔ مجھ کو عمل کی توفیق دے ۔ آدمی نے یہ سن کر کہا : حضرت آپ ٹھیک ہی دعا مانگتے ہیں۔ کیوں کہ انسان خدا سے دعا کرتا ہے تو وہی چیز مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی ۔ کا مطلب سمجھنے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ اگر آدمی بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو وہ اس کا کچھ سے کچھ مطلب نکال سکتا ہے حتی کہ ایسا مطلب بھی جس کا قائل کی منشا سے کوئی تعلق نہ ہو ۔