اتحاد کی جڑ تواضع
Al-Risala, July 1980, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
حاجی امداد اللہ صاحب (۱۸۹۹۔ ۱۸۱۷) نے فرمایا: اتفاق کی جڑ تواضع ہے۔ ہر شخص کا حال یہ ہو جائے کہ وہ اپنے مقابلہ میں دوسرے کو بہتر سمجھنے لگے تو نا اتفاقی کی نوبت ہی نہ آئے ۔ کیوں کہ نا اتفاقی اسی سبب سے پیدا ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ہے اور اپنی ذات کو اور اپنی بات کو ہر حال میں اوپر رکھنا چاہتا ہے جب کوئی اپنے کو بہتر نہ سمجھے تو اس کے بعد اختلاف کس بات پر ہوگا۔ بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوں تو بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے رائے یا مفاد کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہر آدمی کے اندر اپنی بہتری کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ میری رائے سب سے اچھی ہے، میرا حق سب سے زیادہ ہے میرے مفاد کا تحفظ سب سے پہلے ضروری ہے۔ یہ احساسات ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا حریف بنا دیتے ہیں اور آپس کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر دونوں فریق اکڑ جائیں تو باہمی اختلاف جنم لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک آدمی تواضع کا انداز اختیار کرے، وہ اپنی رائے یا اپنے مفاد کو اوپر رکھنے کے بجائے نیچے رکھنے پر راضی ہو جائے تو اس کے بعد اختلاف خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اور معاشرہ میں اتحاد کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔
یہ ممکن نہیں کہ لوگوں کے درمیان اختلاف اور شکایت پیدا نہ ہو۔ شکایت کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لئے باہمی اتحاد کی صورت صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ اختلاف سے دل میلا نہ کریں۔ اختلاف کے باوجود باہم متحد ہو کر رہیں ۔