Al-Risala · July 1980

جب بادشاہ بھی جھک جاتے تھے

Al-Risala, July 1980, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

چوتھی صدی ہجری کا واقعہ ہے ۔ اندلس میں سلطان عبد الرحمن الناصر کی حکومت تھی ۔ دارالسلطنت قرطبہ تھا۔ قاضی منذر بن سعید اس وقت قرطبہ کے قاضی تھے اور اسی کے ساتھ وہ قرطبہ کی جامع مسجد میں نماز کی امامت کی خدمت بھی انجام دے رہے تھے۔ وہ بہت اچھے خطیب تھے اور اسی کے ساتھ بہت بڑے عالم بھی۔

سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہراء کے نام سے ایک شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کئے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب وہ جامع مسجد آیا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر نے جو خطبہ دیا اس میں نام لئے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی ۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں ۔ مثلاً: کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے ۔ تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (شعار) تمھارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھو کھلی بے ثبات لکیر پر اٹھائی اور وہ اس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا ۔ یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے ، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے (توبہ) اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ اپنے خطبہ میں اگر چہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں ۔

تنقید یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر تھی۔ اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے ۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔

سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا ۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحکم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت تکلیف دی ۔ نے طے کر لیا ہے کہ ان کے پیچھے جمعہ کی نماز کیں پڑھوں گا ۔ الحکم نے کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے ۔ آپ ان کو معزول کر دیجئے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجئے جو ایسی گستاخی نہ کرے ۔ یہ سن کر سلطان غصہ میں آگیا ۔ اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھار ابراہیمو ، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہے کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہو سکتی (ھذ ا مالا یکون) مجھے ان کی باتوں سے چوٹ لگی اس لئے میں نے ان کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھا لی ۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارہ کی کوئی صورت نکل تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل يصلی بالناس حياتنا و حیاتہ ان شاء اللہ تعالیٰ) چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہو گئے ۔ نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا ۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر نماز پڑھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے : خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذا ناصيتي بيدك ، ا تراث تعذب بي الرعية وانت ارحم الراحمين)

یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ۔ اب ضرور بارش ہو گی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (اذا خشع جبار الارض فقد رحم جبار السماء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔

Printed page