کلمۂ شہادت
Al-Risala, July 1980, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ آدمی صرف اللہ کو اپنا سب کچھ بنائے گا اور اپنی زندگی میں پوری طرح پیغمبر خدا کی تعلیمات کی پابندی کرے گا۔ اب جو شخص کلمہ پڑھنے کے باوجود اپنی سوچ اور اپنی توجہ کا مرکز خدا کے سوا دوسری چیزوں کو بنائے اور اپنی زبان اور اپنے ہاتھ پاؤں کو رسول کے طریقے کا پابند نہ کرے اس کا کلمہ پڑھنا محض فرضی تھا۔ اس کا کلمہ پڑھنا ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص زبان سے کہے کہ میں مسجد جا رہا ہوں، حالانکہ علاوہ کلب کی طرف جا رہا ہو نہ کہ وہاں کلب کے ممبروں کے ساتھ تفریح کرے نماز آدمی کو اللہ سے ڈرنے والا بناتی ہے۔ نماز اس لئے فرض کی گئی ہے کہ وہ آدمی کو متواضع بنائے اور اس کو بری باتوں سے روکے۔ اب جو شخص نماز پڑھنے کے بعد بھی متکبر بنا رہے اور بری باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو اس نے صرف نماز کی شکل کو لیا اور اس کی روح کو چھوڑ دیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بھوکا آدمی برتن چبائے مگر اس کے اندر جو کھانا ہے اس کو منہ میں نہ ڈالے۔