زکوٰۃ
Al-Risala, July 1980, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
زکوٰۃ کا مقصد آدمی کے دل کو حرص اور بخل اور تنگ ظرفی سے پاک کرنا ہے اور ایک آدمی کو دوسرے آدمی کا خیر خواہ بناتا ہے۔ زکوٰۃ کا پیغام یہ ہے کہ تم دوسروں سے بے تعلق نہ رہو بلکہ ان کے معاملات میں ان کے مددگار بنو۔ اب اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی آدمی کے دل سے خود غرضی اور تنگ ظرفی ختم نہ ہو وہ بدستور اپنے بھائی کا بد خواہ بنا رہے تو گویا کہ اس نے زکوٰۃ نہیں دی بلکہ زکوٰۃ کے نام پر محض ایک قسم کا ٹیکس ادا کیا۔
حج خدا کی طرف سفر ہے۔ حج آدمی کو اس دن کی یاد دلاتا ہے جب کہ وہ دنیا سے نکل کر آخرت کی طرف چلا جائے گا۔ اب اگر حج کرنے کے بعد بھی آدمی دنیا میں غرق ہو۔ دنیا کی مصلحتیں، دنیا کے فائدے، دنیا کے تقاضے اس کی دل چسپیوں کا مرکز بنے رہیں تو اس نے حج کے نام پر ایک دنیوی سیاحت کی نہ کہ خدا کی طرف سفر جس کے بعد آدمی ہمہ تن اللہ والا ہو جاتا ہے۔