یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا
Al-Risala, July 1980, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
آکسفورڈ یونیورسٹی ۱۱۶۳ء میں قائم ہوئی ۔ اس کے ہرے ہرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ کروڑ پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ ’’ایسالان کتنے ڈالر میں تیار ہو جائے گا‘‘، انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔
’’مفت میں‘‘ مالی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا ’’اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کرکے اس پر گھاس جما دیجئے ۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کر اوپر سے رولر اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے۔ جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا۔ شام کے وقت سورج آپ کے اوپر غروب ہو جائے اور آپ دوبارہ صبح کا منظر دیکھنا چاہیں تو آپ کو پوری رات تک انتظار کرنا ہوگا۔ رات کا وقفہ گزارے بغیر آپ دوبارہ صبح کے ماحول میں آنکھ نہیں کھول سکتے ۔ پاس ایک بیج ہے اور آپ اس کو درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ۲۵ سال تک انتظار کریں۔ اس سے پہلے آپ کا بیج ایک سرسبز و شاداب درخت کی صورت میں کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ طرح قدرت کے تمام واقعات کے ظہور کے لئے ایک ’’وقت‘‘ مقرر ہے۔ کوئی واقعہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ظہور میں نہیں آتا۔
وقت سے مراد وہ مدت ہے جس میں ایک طریقِ عمل جاری ہو کر اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ قدرت کے پورے نظام میں یہی اصول کار فرما ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ اصول براہ راست خدائی انتظام کے تحت قائم ہے اور انسان کو اپنے ارادہ کے تحت اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ کائنات اپنے پورے نظام کے ساتھ انسان کو یہ عملی سبق دے رہی ہے کہ واقعات کے ظہور کے لئے وہ کون سی حقیقی تدبیر ہے جس کو اختیار کر کے آدمی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
شخصی زندگی کی تعمیر کا معاملہ ہو یا قومی زندگی کی تعمیر کا ، دونوں معاملات میں انسان کے لئے واحد صورت یہ ہے کہ وہ ’’آغاز‘‘ سے اپنا سفر جاری کرے اور مطلوبہ مدت سے پہلے نتیجہ دیکھنے کی تمنا نہ کرے ۔ کا انجام اس مسافر کا ہوگا جو ایک دوڑتی ہوئی ٹرین میں بیٹھا ہو اور اسٹیشن کے آنے سے پہلے اسٹیشن پر اترنا ایسا مسافر اگر وقت سے پہلے اپنے ڈبہ کا دروازہ کھول کر اتر پڑے تو اس کے بعد وہ جہاں پہنچے گا وہ قبر ہوگی نہ کہ اس کی مطلوبہ منزل ۔ ہر کامیابی سب سے زیادہ جو چیز مانگتی ہے وہ وقت ہے۔ کی یہی وہ قیمت ہے جو آدمی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔