Al-Risala · July 1980

موت کے کنارے

Al-Risala, July 1980, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

سکندر اعظم نے بڑی بڑی فتوحات کیں ۔ مگر جب آخر وقت آیا تو اس نے کہا : میں دنیا کو فتح کرنا چاہتا مگر موت نے مجھ کو فتح کر لیا ۔ افسوس کہ مجھ کو زندگی کا وہ سکون بھی حاصل نہ ہو سکا جو ایک معمولی آدمی کو حاصل ہوتا ہے ۔ نپولین بونا پارٹ کے آخری احساسات یہ تھے : مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان دنیا میں کوئی نہیں ۔ میں دو چیزوں کا بھوکا تھا ۔ ایک حکومت ، دوسرے محبت ۔ حکومت مجھے ملی مگر وہ میرا ساتھ نہ دے سکی ۔ محبت کو میں نے بہت تلاش کیا مگر میں نے اسے کبھی نہیں پایا ۔ انسان کی زندگی اگر یہی ہے جو مجھ کو ملی تو یقیناً انسانی زندگی ایک بے معنی چیز ہے ، کیوں کہ اس کا انجام مایوسی اور بربادی کے سوا ہارون الرشید ایک بہت بڑی سلطنت کا حکمران تھا۔ مگر آخر عمر میں اس نے کہا : میں نے ساری عمر غم غلط کرنے کی کوشش کی ، پھر بھی میں غم غلط نہ کر سکا ۔ میں نے بے حد غم اور فکر کی زندگی گزاری ہے ۔ کا کوئی دن ایسا نہیں جو میں نے بے فکری کے ساتھ گزارا ہو۔ اب میں موت کے کنارے ہوں۔ جلد ہی قبر میرے جسم کو نگل لے گی ۔ یہی ہر انسان کا آخری انجام ہے ۔ مگر ہر انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے۔ خلیفہ منصور عباسی کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا : اگر میں کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے مجھے بار بار سچائی سے ہٹا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے ۔ مگر یہ بات مجھ کو اس وقت معلوم ہوئی جب موت نے مجھے اپنے چنگل میں لے لیا ۔

دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس احساس کے ساتھ جان دی ہے کہ وہ دنیا کے ناکام ترین انسان تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر آدمی پر جو کچھ گزرتا ہے اگر وہی اس پر موت سے پہلے گزر جائے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے ، ہر آدمی جب موت کے کنارے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی وہ تمام رونقیں راکھ کے ڈھیر سے بھی زیادہ بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں جن میں وہ اس قدر گم تھا کہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کی اسے فرصت ہی نہ ملی ۔ اس کے پیچھے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ کھو چکا اور آگے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کے لئے اس نے کچھ نہیں کیا ۔

موت جب سر پر آجائے اس وقت موت کو یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ موت کو یاد کرنے کا وقت اس سے جب آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرے اور اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو عین انصاف کہے ؛ اس وقت وہ کچھ سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ اس وقت وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالتا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ مگر جب اس کی طاقت ختم ہو جاتی ہے ، جب اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں ، جب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کے بے رحم فرشتہ کے قبضہ میں ہے ، اس وقت اس کو اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں ۔ حالاں کہ یاد آنے کا وقت وہ تھا جب وہ غلطیاں کر رہا تھا اور کسی نصیحت کی پروا کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔

اسمِ اعظم کیا ہے؟

ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہہ اللہ کا اسم اعظم کیا ہے ۔ بزرگ نے فرمایا : جب آدمی کا پیٹ غذا سے خالی ہو اور اس کا دل کینہ سے خالی ہو تو وہ اللہ کے ناموں میں سے جس نام سے بھی اپنے رب کو پکارے گا وہی اسم اعظم ہو گا ( تذکرۃ الاولیاء ) گویا اسم اعظم کا تعلق " اسم " سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔ اسم اعظم وہ ہے جو اعلی کیفیات کے ساتھ زبان سے نکلے۔ کیفیات کی عظمت کسی اسم کو اسم اعظم بناتی ہے نہ کہ حروف تہجی کی عظمت۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میں کینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لئے ہوئے نہیں ہے۔ جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھالیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیات میں نہایا ہوا ہوتا ہے۔ کے ساتھ جو بہتر نام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لئے اسم اعظم ہے۔

کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پرا سرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کر لے اور زبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادائیگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ دنیا میں آل و اولاد میں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ ان کے نزدیک ان با برکت کلمات میں سب سے زیادہ اونچا "اسم اعظم" ہے۔ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں موجود نہیں۔ اسم اعظم حقیقتاً حروف کے کسی مجموعہ کا نام نہیں بلکہ کیفیات کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یاد کرتا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لئے اس کے دل میں خیر خواہی کے سوا کوئی اور جذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لئے جو کلمات نکلتے ہیں ، اسی کا نام اسم اعظم ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے " کہہ کر تم اللہ کہو کہ پکارو یا رحمن کہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو گے تو اس کے سب نام اچھے ہیں " ( بنی اسرائیل ) اللہ خالق بھی ہے اور مالک بھی وہ رحیم بھی ہے اور اکبر بھی۔ وہ سب کچھ ہے۔ جس بر تر نام سے بھی آدمی اس کو پکارے وہ اس کے لئے جائز ہوگا۔ البتہ پکارنے والے کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ کبھی اس کے لئے " اسم اعظم " بن یہ پکارنے والے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ اللہ کو اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے پکارنا کبھی سادہ اور عام حالت میں ہوتا ہے اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ خدا کا نام لیتے ہوئے آدمی کی شخصیت پھٹ پڑتی ہے۔ خدا کا نام لینا اس کی روح میں برپا ہونے والے طوفان کی آواز ہوتا ہے۔ اس طرح دل کے بھونچال کے ساتھ خدا کا نام لینا عام حالت میں اس کا نام لینے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔ بندہ جب اللہ کی عظمتوں کے احساس سے سرشار ہو اور اس کی سرشاری زبان پر لفظ کی صورت میں ڈھل جائے تو یہی اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ یاد کرنا ہے۔

Printed page