ایک معمولی چیز بھی بہت بڑی نعمت ہے
Al-Risala, July 1980, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کیا ہے : ما من عبد يشرب الماء القراح فيدخل بغیر اذى ويخرج بغیر اذى الا وجب عليه الشكر (كنز العمال جلد ۳) ایک بندہ سادہ پانی پئے، اور وہ پانی تکلیف کے بغیر اندر داخل ہو جائے اور تکلیف کے بغیر باہر نکل جائے تو اس پر اللہ کا شکر واجب ہے۔ اسلام اس لئے ہے کہ آدمی اس کے ساتھ جئے عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف ان رجلاً ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اتی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : یا کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس رسول الله علمني كلمات اعيش بهن ولا تكثر على کے ساتھ میں جیوں اور لمبا نہ کیجئے کہ میں بھول جاؤں۔ فانسى - فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ نہ کر تغضب (موطا الامام مالک، كتاب الجامع)
اللہ سے اس حال میں ملو کہ کسی کا بوجھ تم پر نہ ہو ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے بتائیے کہ علم کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : علم کی باتیں اس سے زیادہ ہیں کہ میں ان کو تمھیں لکھوں۔ مختصر یہ کہ اگر تم سے ہو سکے تو اللہ سے اس طرح ملو کہ تم نے اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت پر حملہ کرنے سے روکا ہو۔ تمھاری پیٹھ ان کے خون سے ہلکی ہو۔ تمھاراپیٹ ان کے مال سے خالی تم نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت سے باندھ رکھا ہو (اكتب رجل الى ابن عمر رضى الله عنه يسأله عن العلم فاجابه : ان العلم اكثر من ان اكتب به اليك ولكن اذا استطعت ان تلقى الله كاف اللسان عن اعراض المسلمين، خفيف الظهر من دمائهم، خميص البطن من اموالهم، لازما لجماعتهم