Al-Risala · July 1980

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

Al-Risala, July 1980, pp. 14–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کو ناحق ستانا، کسی کو بلاوجہ بے عزت کرنا اس زمین پر سب سے بڑا ناقابل معافی جرم ہے۔ جو لوگ ایسا جرم کریں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ ایسے جرم کی سزا ان کو اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے سخت عذاب ہے، خواہ وہ بزعم خود اپنے کو کتنا ہی بڑا مسلمان سمجھتے ہوں۔ کتنی سنگین ہے یہ صورت حال۔ اس کے باوجود آدمی دوسرے کو ناحق ستاتا ہے، وہ بلاوجہ دوسرے کو بے عزت کرتا ہے۔ حتی کہ وہ لوگ بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک رہتے ہیں جو کسی نام پر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہیں کہ وہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے پاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔ شاید لوگوں کو معلوم نہیں کہ "عدل" کے الفاظ بولنا اور ظلم پر عمل کرنا اللہ کی نظر میں آدمی کے جرم کو بڑھاتا ہے، دکھی بھی درجہ میں اس کے جرم کو کم نہیں کرتا۔ کوئی آدمی عادل ہے یا ظالم ، اس کا فیصلہ آدمی کے حقیقی عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ بولے اور لکھے ہوئے الفاظ کی بنیاد پر ۔ مزید یہ کہ ظالم صرف وہ نہیں ہے جس نے اپنے ہاتھوں سے ظلم بلکہ وہ لوگ بھی یکساں طور پر نظام میں جنھوں نے ظالم کو شہ دی ہو، جنھوں نے قدرت کے باوجود ظالم کا ہاتھ نہ پکڑا ہو، جو ظالم کے ظلم کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس پر راضی ہے ہوں۔ اللہ کے یہاں یہ سارے لوگ ایک ساتھ اٹھائے آخرت میں ان میں سے ایک کا جو انجام ہوگا وہی انجام ان میں سے دوسرے کا بھی ہوگا ”بہت سے شاعر اپنے اشعار میں انسان دوست ہوتے ہیں ، مگر ان کو زید، عمر، بکر سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی“ یہ بات جو ادبی ناقد نے شاعروں کے بارے میں کہی ہے ، وہی ہمارے قائدین کے بارے میں صدفی صد درست ہے۔ ہمارا ہر قائد ملت کی ہمدردی کی باتیں کرتا ہے۔ وہ ملت کے مسائل پر تقریریں کرتا ہے اور بیان دیتا ہے۔ ہو جائے تو فورا ہوائی جہاز سے اگر وہاں حالات کا جائزہ لینے کے لئے جاتا ہے۔ ملی مسائل کے بارے میں حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقاتیں کرتا ہے اور بڑے بڑے اجتماعات میں اس کی بابت تجویزیں پاس کرتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ جس ملت کے بارے میں ہوتا ہے، اسی ملت کا ایک فرد اگر اس سے ہمدردی اور انصاف کی مانگ کرے تو اس کو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ ”ملت “ پر قربان ہونے کے لئے تیار ہے مگر "فرد" کو اس کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔ جمشید پور کے فساد کا واقعہ ایک لیڈر اپنے مکان سے باہر نکلا تو اس کے محلہ کا ایک آدمی اس کے سامنے آگیا ۔ اس آدمی کو لیڈر کے کارندے نے پریشان کر رکھا تھا۔ آدمی نے اس کی شکایت کی اور صورت حال بتائی ۔ مگر لیڈر نے پوری بات سننے کی زحمت نہیں یہ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا " مجھے اس وقت کی فلائٹ سے جمشید پور جانا ہے " لیڈر ہوائی جہاز کے ذریعہ جمشید پور اگلے دن " بذریعہ ٹیلیفون" موصول شدہ خبر اس کے اپنے اخبار میں چھپی کہ لیڈر محترم نے جمشید پور کا دورہ کیا اور وہاں اقلیتی فرقہ کے ساتھ جو بر بریت کی گئی ہے اس کے سلسلے میں حکام سے ملاقاتیں کیں۔ تمام لیڈروں کا حال ہے۔ ملت پر فدا ہونے کے لئے ہر شخص بے قرار ہے مگر فرد ملت پر فدا ہونے کی فرصت کسی کو نہیں۔ ”ڈرامہ نے“ کی سطح پر ہر آدمی مظلوموں کا ہمدرد رہے مگر ”کرنے“ کی سطح پر کوئی مظلوموں کا ہمدرد نہیں۔ (۱۰ اپریل ۱۹۸۰)

انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف اسلام کا مطلب اپنے جان اور مال کو اللہ کے حوالے یہ حوالہ گی مکمل معنوں میں ہے۔ تا ہم ایک خاص حد تک اس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ اسی قسم کا ایک حکم ہے جو یاد دلاتا ہے کہ آدمی کے مال میں خدا اور اس کے دین کا بھی حق ہے۔ قرآن میں زکوٰۃ کے جو مصارف بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک فی سبیل اللہ (توبہ ٦٠) ہے۔ یعنی اللہ کے راستہ میں دینا۔ اس سلسلے میں فی سبیل اللہ کا مفہوم متعین کرنے کے لئے بہت سی علمی و فقہی بحثیں کی گئی ہیں ۔ شیخ یوسف القرضاوی (قطر نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب "فقہ الزکوٰۃ " میں مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے اور آخر میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال نہیں ہے ، نہ شخصی تملیک اس کے لئے ضروری ہے ، بلکہ عمومی نوعیت کا تربیتی اور علمی جہاد بھی اس میں داخل ہے ۔ اور شاید آج مسلمان اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں “ ذیل میں شیخ یوسف القرضاوی کی بحث کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے ۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں :

” موجودہ حالات میں فی سبیل اللہ سے جو اولین اور اہم ترین چیز مراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کے احیاء کا وہ پرو گرام جو اسلام کے جملہ احکام، عقائد، تصورات، شعائر، شرعی قوانین اور اخلاق و آداب کو بروئے کار لانے کے لیے ہو۔

یہ کام اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اسلام کے غیرت مندوں کو اپنی زکوٰۃ کا مال اور اپنی اعانتیں اس پر صرف کرنی چاہئیں ۔

ہماری رائے یہ ہے کہ بحالات موجودہ زکوٰۃ کے اس مصرف کو ثقافتی، تربیتی اور علمی جہاد کے لیے استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ بشرطیکہ وہ خالص اور صحیح اسلامی جہاد ہو۔ عصر حاضر میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جن سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں ۔ ان کا شمار بجا طور پر فی سبیل اللہ میں کیا جا سکتا ہے۔

صحیح اسلام کو پیش کرنے کے لئے دعوتی مراکز قائم کرنا جن کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ادیان و مذاہب کی کش مکش کے درمیان غیر مسلمین تک اسلام کا پیغام پہنچا یا سورہ توبہ (آیت ۶۰) میں صدقات کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں جن میں سے پہلے چار مصارف فقراء ، مساکین ، عاملین ، مولفہ القلوب) کے لئے حرف لام استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات " ان کے لئے " ہیں۔ مگر بعد کے چار مصارف (غلام ، قرضدار، سبیل اللہ ، مسافر) کے لئے حرف فی استعمال کیا گیا ہے، یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات ان کی مد میں صرف کرنے کے لئے ہیں۔ پہلے چار مستحقین کے لئے لام ہے جو تملیک کا معنی دیتا ہے۔ بقیہ چار مستحقین کے لئے فی ہے جو عربی زبان میں ظرفیت کے لئے آتا ہے۔ الفاظ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چار اصناف کو زکواۃ اس طور پر ملتی ہے کہ وہ اس کی مالک ہو جاتی ہیں جب کہ بقیہ چار اصناف کی حیثیت چار مدات کی ہے ( فقہ الزکوٰۃ از شیخ یوسف القرضاوی ، قطر )

جا س یقیناً جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

اسلامی ممالک کے اندر ایسے اسلامی مراکز قائم کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہے جو مسلم نوجوانوں کی صحیح تربیت کریں ۔ اسلام کے اعتدال پسندانہ نقطۂ نظر کے مطابق ان کی رہنمائی کریں ، الحاد ، فکری انحراف اور عملی بے راہ روی سے انہیں بچائیں اور انھیں اسلام کی حمایت و نصرت اور اس کے دشمنوں سے نبرد آزمائی کے لئے تیار کریں۔

اسی طرح خالص اسلامی پر چہ کا اجرا و گمراہ، صحافت کے درمیان اللہ کا کلمہ بلند کرنے حق بات کا اظہار کرنے ، اسلام پر عائد کئے جانے والے جھوٹے الزامات کی تردید کرنے ، شبہات کا ازالہ کرنے، اور اسلام کو ہر قسم کی حاشیہ آرائی اور شائبوں سے پاک کرکے صحیح شکل میں پیش کرنے کی خدمت انجام دے۔ بلا شبہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ایسی دینی کتاب کی وسیع پیمانہ پر اشاعت جو بنیادی اہمیت کی حامل ہو اور جو اسلام کو یا اس کے کسی پہلو کو اُس خوبی کے ساتھ پیش کرے کہ اس کے پوشیدہ جواہر پر سے پردہ اُٹھ جائے۔ اس کی تعلیمات کی خوبیاں نمایاں ہوں اور اس کے حقائق بے نقاب ہوں جہاد فی سبیل اللہ کے مترادف ہے۔

پختہ کار، امانت دار اور مخلص افراد کو فارغ کرنا تا کہ وہ دین کی خدمت کریں ، اس کی روشنی چاردانگ عالم میں پھیلائیں، اس کے دشمنوں کی چالوں کو بے اثر کر کے رکھ دیں ۔ فرزندانِ اسلام میں بیداری پیدا کریں اور عیسائی مشن، الحاد اور اباحیت کے طوفان کا مقابلہ کریں من جملہ جہاد فی سبیل اللہ کے ہے اور دینِ حق کے داعیوں کی معاونت کرنا جن پر خارج سے اسلام دشمن طاقتیں داخلی عناصر، مرتد اور سرکش افراد کی مدد سے مسلط ہو جاتی ہیں اور انھیں طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دینے لگتی ہیں۔ ان کی معاونت کرنا تاکہ وہ کفر اور سرکشی کے مقابلہ میں ثابت قدم رہیں سراسر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ زکوٰۃ کے صرف میں ایسے کاموں کو اولین اہمیت دیں کیوں کہ اسلام کے مددگار اللہ کے بعد فرزندانِ اسلام ہی ہیں اور خاص طور سے ایسے دور میں جب کہ اسلام غربت سے دوچار ہے۔ فقہ الزکوٰۃ، ترجمہ از مولانا شمس پیرزادہ ۔ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اس کا مقصد تعمیر ملت اور احیائے اسلام کے لئے جدوجہد کرنا ہے ماہنامہ الرسالہ اور مکتبہ الرسالہ اسی مرکز کے تحت قائم ہیں اس دینی وعلی مہم میں ہر طرح تعاون کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے

النسا ر ک اے ایمان والو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص انکار کرے، اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بہک کر دور جا پڑا۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے، پھر انکار کیا، پھر ایمان لائے، پھر انکار کیا، پھر انکار میں بڑھتے گئے تو اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ان کو راہ منافقوں کو خوش خبری دے دو وہ ان کے لیے حق درد ناک عذاب ہے۔ وہ لوگ جو مومنوں کو چھوڑ کر منکروں کو دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت کی تلاش کر رہے ہیں، تو عزت ساری اللہ کے لئے ہے ۱۳۶-۱۳۹ "ایمان والو ایمان لاؤ" ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانو! اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لئے کافی نہیں کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین و اعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لئے بے حقیقت ہو جائے ۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہو جائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکی دار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے نزدیک خود کو کتنا ہی مومن سمجھتا ہو۔

ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے ۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف ۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار اس کے برعکس اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنائے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک ایک بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ اس کو ٹھکرا دے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی ۔ سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت وجاہ کو پسند کرتا ہے، اس لئے کہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہل باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہل حق ہوں۔

اور اللہ کتاب میں تم پر حکم اتار چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق کیا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ وسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ بھی انہیں جیسے ہوگئے ۔ اللہ منافقوں کو اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھا کرنے والا ہے۔ وہ منافق تمہارے لئے انتظار میں رہتے ہیں ۔ اگر تم کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ اور اگر منکروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا۔ تو اللہ ہی تم لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا ۱۳۰- اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔ اس لئے کہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ اس کا مذاق اڑا کر اس کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے اس رویہ سے یہ بتا رہے ہیں کہ وہ حق کے معاملہ کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے اور جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو اس وقت اس سے بحث کرنا بالکل بے کار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی چپ ہو جائے اور اس وقت کا انتظار کرے جب گفتگو کا موضوع بدل جائے اور مخاطب اس قابل ہو جائے کہ وہ بات کو سن سکے جس مجلس میں خدا کی دعوت کا مذاق اڑایا جائے وہاں بیٹھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی حق کے معاملہ میں غیرت مند نہیں۔ منافق اس کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے اس طرف جھک جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حلقہ کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا ساتھ دینے میں اس کے دنیوی حوصلے پورے ہوتے ہوں، خواہ وہ اہل ایمان کا حلقہ ہو یا غیر اہل ایمان کا۔ وہ جس مجلس میں جاتا ہے اس کو خوش کرنے والی باتیں کرتا ہے۔ یہ مصلحتوں کی بنا پر کبھی اس کو سچے اہل ایمان کے ساتھ جڑ نا پڑے تب بھی وہ دل سے ان کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ سچے اہل ایمان کا وجود کسی معاشرہ میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ اس لئے جو لوگ جھوٹی دین داری پر کھڑے ہوئے ہوں وہ چاہتے ہیں کہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں جو ان کی دین داری کو مشتبہ ثابت کرنے والے ہیں۔ مگر اہل ایمان کے بد خواہ جو کچھ زور د دکھا سکتے ہیں اسی دنیا میں دکھا سکتے ہیں ۔ میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔

منافق وہ ہے جو ظاہراً دیندار اور مگر از اندر سے بے دین ہو۔ ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہر کوئی دین داری اور کسی سچی یا بے دینی میں کوئی فرق نہیں ، کیوں کہ ظاہر کی سطح پر خواہ دونوں مختلف نظر آئیں مگر باطن کی سطح پر دونوں ایک ہونے ہیں۔ اور اللہ کے یہاں اعتبار باطن کا ہے نہ کہ ظاہر کا۔

منافقین اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ اللہ ہی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھانے کے لئے۔ اور وہ اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ وہ دونوں کے بیچ لٹک رہے ہیں ، نہ ادھر ہیں اور نہ اُدھر ۔ اور جس کو اللہ بھٹکا دے تم اس کے لئے کوئی راہ نہیں پا سکتے ۔ اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر منکروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی کھلی حجت قائم کر لو ۔ بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے اور تم ان کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے ۔ البتہ جو لوگ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر لیں تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ ایمان والوں کو بڑا ثواب دے گا ۔ اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان اللہ بڑا قدرداں ہے سب کچھ جاننے والا ہے ۔ جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے کئے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے کئے ہوئے ہوتے دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہو جاتے ہیں خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین ۔ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کا عمل اللہ کے لئے نہیں ہوتا ۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے لئے ہوتا ہے ۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گو یا خدا کو دھوکا دے رہے وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں ، اس کے باوجود اپنے مفادات کو چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں ، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے لئے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سے محروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے لئے اللہ کے راستہ پر چلنا ضروری ہے ۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی ــــ حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہو چکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ کسی کے قابل سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔

اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے۔ اس لئے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہو گا نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے ۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہو جاتا ۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں ، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو خدا کی طرف لائیں ، متوکل ہو کر خدا کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کر دے گا۔

اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اگر تم بھلائی کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ معاف کرنے والا قدرت رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں ایک راہ نکالیں۔ ایسے لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کو جدا نہ کیا ان کو اللہ ان کا اجر دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لئے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہئے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی اللہ صبح و شام لوگوں کے جرائم کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کر دے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے لئے چھوٹے غم بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔

مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لئے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ ردعمل سے دو چار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دو چار ہونا پڑا۔ اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لئے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھا نچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے ۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لئے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طور پر آدمی کے ذہن کا جز دین چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانہ کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض "ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے اس کو ماننے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے ۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے نہ تقلیدی ایمان کی۔

مطالبہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کو بالکل سامنے دکھا دو۔ پس ان کی اس زیادتی کے باعث ان پر پھر کھلی نشانی آچکنے کے بعد انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ پھر ہم نے اس سے درگزر کیا۔ موسیٰ کو ہم نے کھلی حجت عطا کی ۔ اور ہم نے ان کے اوپر کوہ طور کو اٹھایا۔ ان سے عہد لینے کے واسطے ۔ ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہو سرحد کات ہوۓ اور ان سے کہا کہ سبت کے معاملہ میں زیادتی نہ کرنا۔ اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے اس لئے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائنوہ مان لیں۔ یقین کر لیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لئے مقرر ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کر رہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھا ؤیا خدا خود تمہاری تصدیق کے لئے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمہاری بات مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لئے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی دہ بے فائدہ ہو گا۔ کیونکہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہو گا نہ کہ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی ۔ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کر دے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کر رہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔ کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کر کے یہود سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (باب) میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لئے جو جد و جہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں نہ کہ اس سے آزاد ہوکر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عہدوں کو توڑ دیا۔

"موسیٰ کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت ) دی اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر چہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کر رہے ہوتے ہیں ۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتا ہے جس کے بعد وہ اس کو رد کر کے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے ۔

ان کو جو سزا ملی وہ اس پر کہ انھوں نے اپنے عہد کو توڑا اور اس پر کہ انھوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس پر کہ انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو بند ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے انکار کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے تو وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انکار پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح بن مریم، اللہ کے رسول کو قتل کر دیا ۔ حالاں کہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں، وہ صرف اٹکل پر چل رہے ہیں۔ اور بے شک انھوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے ۱۵۸۔

یہود پر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیا البتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے " ہمارے دل تو بند ہیں" ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔

جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہو جاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لئے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجکتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ "مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مار ڈالا" مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور ہر مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کر لیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین لیتا وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیتے ہیں۔

اہل کتاب میں سے کوئی ایسا وہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔ پس یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو ان کے لئے اور اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی راہ سے بہت رو کتے تھے۔ اور اس وجہ سے کہ وہ سود لیتے تھے حالانکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھاتے تھے۔ اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مگر ان میں جو لوگ علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو تمہارے اوپر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی اور وہ نماز کے پابند ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم ضرور بڑا اجر دیں گے ۔ ۶۲ - ۱۵۹ عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لا يموت النصرانی ولا اليهودی حتی يؤمن بمحمد صلى الله عليه وسلم) یہود و نصاری کے پاس آسمانی علم تھا ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت اصل خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پر د ےہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے، موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کر لیتا ہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔

جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لئے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام و حلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کر کے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ لوگوں کا دین محض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے نہ کہ اللہ والا بنے پر۔ چنانچہ نہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع کئے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لئے ہوتے والے کام کا راستہ روکیں۔ کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔

یہودیوں میں چند لوگ ، عبداللہ بن سلام وغیرہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر خالص آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔

ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف وحی بھیجی تھی ۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی ۔ اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔ اور ہم نے ایسے رسول بھیجے جن کا حال ہم تم کو پہلے سنا چکے ہیں اور ایسے رسول بھی جن کا حال ہم نے تم کو نہیں سنایا۔ اور موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا۔ اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے - ۱۶۳ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لئے ہے۔ وہ اس لئے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طور پر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طور پر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لئے اللہ نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تا کہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الہیٰ منصوبہ کا پتہ نہ تھا کہ ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔ اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنیٰ یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پر چہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ایک تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوں نے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جائے گا۔ تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔ البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان کو خدا کی تائید مختلف صورتوں میں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لئے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے تا کہ وہ اپنی دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

مگر اللہ گواہ ہے اس پر جو اس نے تمہارے اوپر اتارا ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ گواہی کے لئے کافی ہے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا وہ بہک کر بہت دور نکل گئے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور ظلم کیا ان کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا نہ ہی ان کو جہنم کے سوا کوئی راستہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں ۔ اور اللہ کے لئے یہ آسان ہے۔ اے لوگو، تمہارے پاس رسول آ چکا تمھارے رب کی ٹھیک بات لے کر۔ پس مان لوتا کہ تمہارا بھلا ہو۔ اور اگر نہ مانو گے تو اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی کی بڑائی تسلیم کریں۔ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ آپ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لئے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں گے وہ اس کا اعراض وانکار کر یں، وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں گے وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بندگی کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کر رہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں، ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لئے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لئے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کر رہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگا کہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے، یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوا نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو بس اللہ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف القا فرمایا اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔ باز آجاؤ، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ معبود تو بس ایک اللہ ہی ہے۔ وہ پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کا کارساز ہونا کافی ہے۔ مسیح کو ہرگز اللہ کا بندہ بننے سے عار نہ ہوگا اور نہ مقرب فرشتوں اور جو اللہ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ضرور سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ پھر جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے تو ان کو وہ پورا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے ان کو مزید بھی دے گا۔ اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہوگا ان کو درد ناک عذاب دے گا اور وہ اللہ کے مقابلے میں کسی کو اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔ آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلا اسی غلو کی پیداوار ہیں۔

دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔ — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔

ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ شعور کے کمال درجہ پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادرمطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبر اور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں اس لئے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ یہ اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے جس کو اپنے عجز کا شعور ہو جائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لئے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلت کے گڑھے میں جاگرے۔

النسا ء ۴ اے لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہارے اوپر ایک واضح روشنی اتار دی۔ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کو انھوں نے مضبوط پکڑ لیا، ان کو ضرور اللہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کو اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا۔ لوگ تم سے حکم پوچھتے ہیں۔ اللہ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اس کے ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس کے ترکہ کا نصف ہے۔ اور وہ مرد اس بہن کا وارث ہو گا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر دو بہنیں ہوں تو ان کے لئے اس کے ترکہ کا دو تہائی ہو گا ۔ اور اگر کئی بھائی بہن مرد عورتیں ہوں تو ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ اللہ تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔ اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کر کے حقائق کو آخری حد تک روشن کر دے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کر سکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ خدا وہ ہے جو سورج کو نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہو جاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لئے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے، جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے، کیونکہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بد کا تا رہتا اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑ کر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقیناً شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی ۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوں گے۔ جب آدمی کا یہ حال ہو جائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچارہے۔

میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ” اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ میں نہ پڑو " ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔

سورۃ المائدہ مدنیہ۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے ایمان والو، عہد و پیمان کو پورا کر و۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے سو ان کے جن کا ذکر آگے کیا جا رہا ہے۔ مگر احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ جانو۔ اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے۔ والو، بے حرمتی نہ کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینوں کی اور نہ حرم میں قربانی والے جانوروں کی اور نہ پٹے بندھے ہوئے نیاز کے جانوروں کی اور نہ حرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی ڈھونڈنے نکلے ہیں۔ اور جب تم احرام کی حالت سے باہر آ جاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی کہ اس نے تم کو مسجد حرام سے روکا ہے تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۱-۲ مومن کی زندگی ایک پابند زندگی ہے۔ وہ دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اس کے باوجود وہ اللہ کی آقائی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو از خود عہد کی رسی میں باندھ لیتا ہے۔ معاملہ ہر بندوں کا معاملہ، دونوں قسم کے معاملات میں اس نے اپنے کو پابند کر لیا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کرے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق عمل کرے۔ وہ اٹھیں چیزوں کو اپنی خوراک بنائے' جو خدا نے اس کے لئے حلال کی ہیں اور جو چیزیں خدا نے حرام کی ہیں ان کو کھانا چھوڑ دے۔ کسی موقع پر اگر کسی جائز چیز سے بھی روک دیا جائے جیسا کہ احرام کی حالت میں یا حرام مہینوں کے بارے میں حکم سے واضح ہوتا ہے تو اس کو بھی بے چون و چرا مان لے۔ کوئی چیز کسی دینی حقیقت کی علامت بن جائے تو اس کا احترام کرے، کیوں کہ ایسی چیز کا احترام خود دین کا احترام ہے، اور یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے کرے نہ کسی اور جذبہ سے۔

آدمی عام حالات میں اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہوتی ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا یکایک اللہ سے بے خوف انسان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے یہ موقع وہ ہے جب کہ کسی کی کوئی مخالفانہ حرکت اس کو مشتعل کر دیتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی انصاف کی حدوں کو بھول جاتا ہے اور یہ چاہنے لگتا ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنے حریف کو ذلیل اور ناکام کرے۔ مگر اس قسم کی معاندانہ کارروائی خدا کے نزدیک جائز نہیں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ مسجد حرام کی زیارت جیسے پاک کام سے کسی نے دوسرے کو روکا ہو کوئی شخص اس قسم کی ظالمانہ کارروائی کرنے کے لئے اٹھے اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دینے لگیں تو یہ گناہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا ہو گا۔ جب کہ اللہ سے ڈرنے والوں کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ صرف نیکی کے کاموں میں دوسرے کی جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دینا اور جو ناحق پر ہو اس کا ساتھ نہ دینا موجودہ دنیا کا سب سے مشکل کام مگر اسی مشکل کام پر آدمی کے اخروی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جو مرگیا ہو گھونٹنے سے یا چوٹ سے یا اونچے سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور وہ جس کو درندے نے کھایا ہو مگر جس کو تم نے ذبح کرلیا اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ آج کا فر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ۔ پس تم ان سے نہ ڈرو ، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ پس جو بھوک سے مجبور ہوجائے لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۳ بعض جانور اپنے طبی اور اخلاقی نقصانات کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ انسان ان کو اپنی خوراک بنائے خنزیر کو اللہ تعالیٰ نے اسی سبب سے حرام قرار دیا۔ اسی طرح جانور کے جسم میں گوشت کے علاوہ کئی دوسری چیزیں ہوتی ہیں جو انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔ اٹھیں میں سے خون بھی ہے۔ چنانچہ اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کی ایک خاص صورت مقرر کی گئی تاکہ جانور کے جسم کا خون پوری طرح بہہ کر نکل جائے۔ ذبح کے سوا جانور کو مارنے کے جو طریقے ہیں ان میں خون جانور کے گوشت میں جذب ہوکر رہ جاتا ہے ، وہ پوری طرح اس سے الگ اسی سبب سے شریعت میں مردار کی تمام قسموں کو بھی حرام کر دیا گیا۔ کیوں کہ مردار جانور کا خون فوراً ہی اس کے گوشت میں جذب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایسا گوشت بھی حرام کر دیا گیا جس میں کسی طرح مشر کا نہ عقیدہ کی آمیزش ہو جائے۔ مثلاً غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا یا غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور کو قربان کرنا۔ تاہم اللہ نے اپنی رحمت خاص سے یہ گنجائش دے دی کہ کسی کو بھوک کی ایسی مجبوری پیش آجائے کہ اس کو موت یا حرام خوراک میں سے ایک کو لینا ہو تو وہ موت کے مقابلہ میں حرام خوراک کو اختیار کرے۔

" آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا ، یعنی تم کو جو احکام دئے جانے تھے وہ سب دے دئے گئے۔ تمہارے لئے جو کچھ بھیجا مقدر کیا گیا وہ سب بھیجا جا چکا ۔ یہاں علی الاطلاق دین کے کامل کئے جانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ امت محمدی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ کی تکمیل کا ذکر ہے نہ کہ دین کی تکمیل کا۔ اسی لئے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ " آج میں نے دین کو کامل کر دیا " بلکہ یہ فرمایا کہ " آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا " حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیا گیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان کے پاس نہیں بھیجا۔

قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جا چکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کم زوریوں کی وجہ سے نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

Printed page