المائدہ ۵
Al-Risala, July 1980, pp. 30–32
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال کی گئی ۔ کہو کہ تمہارے لئے ستھری چیزیں حلال ہیں ۔ اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے ، تم ان کو سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تم کو سکھایا۔ پس تم ان کے شکار میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔ اور ان پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرو، اللہ بے شک جلد حساب لینے والا آج تمہارے لئے سب ستھری چیزیں حلال کر دی گئیں ۔ اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اور حلال ہیں تمہارے لئے پاک دامن عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم انہیں ان کے مہر دے دو اس طرح کہ تم نکاح میں لانے والے ہو، نہ علانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرلے گا تو اس کا عمل ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں سے ہوگا ۵ - ۴ وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لئے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی فساد شرعی یا طبّی نہ پیدا ہوا ہو۔ تا ہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کر سکتا اس لئے اس کو تعین کے ساتھ بھی بیان کر دیا گیا ہے سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لئے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لئے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا یا شکار کے معاملہ میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا ۔
حلال و حرام کا قانون خواہ کتنی ہی تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے ۔ اسی لئے حرام و حلال کا قانون بتاتے ہوئے کہا گیا : اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
مسلمان عورت کے لئے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرة تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لئے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جا ئے۔ "جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہو گیا" یعنی اعمال کے بدفعلی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہے جو خالص اللہ کے لئے کیا جائے ۔ جو عمل اللہ کے لئے نہ ہو وہ خود اپنے لئے بدنما ہے۔ چھراپنی طرح کرنے والے کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔
اے ایمان والو ، جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو غسل کر لو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجا سے آئے یا تم نے عورت سے صحبت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے۔ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم شکر گزار بنو ۔
نماز کا مقصد آدمی کو برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ وضو اسی کی ایک خارجی تیاری ہے۔ آدمی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔ پانی بہت بڑی نعمت ہے جو آدمی کے لئے ہر قسم کی گندگی کو دھونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی طرح نماز بھی ایک ربانی چشمہ ہے جس میں نہا کر آدمی اپنے آپ کو برے جذبات اور گندے خیالات سے پاک کرتا ہے۔
آدمی وضو کو شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتا ہے تو گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرے ان ہاتھوں کو برائی سے بچاؤ اور ان کے ذریعہ جو برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں ان کو دھو کر صاف کر دے۔ پھر وہ اپنے منہ میں پانی ڈالتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی روح زبان حال سے کہہ اٹھتی ہے کہ خدایا میں نے اپنے منہ میں جو غلط خوراک ڈالی ہو، میں نے اپنی زبان سے جو برا کلمہ نکالا ہو، میری آنکھوں نے جو بری چیز دیکھی ہو ان سب کو تو مجھ سے دور کر دے۔ پھر وہ پانی لے کر اپنے ہاتھوں کو سر کے اوپر پھیرتا ہے تو اس کا وجود سراپا اس دعا میں ڈھل جاتا ہے کہ خدایا میرے ذہن نے جو بری باتیں سوچی ہوں اور جو غلط منصوبے بنائے ہوں ان کے اثرات کو مجھ سے دھودے اور میرے ذہن کو پاک صاف ذہن بنا دے۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا عمل اس کے لئے اپنے رب کے سامنے یہ درخواست بن جاتا ہے کہ وہ اس کے پیروں سے برائی کی گرد کو دھودے اور اس کو ایسا بنادے کہ سچائی اور انصاف کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پر وہ کبھی نہ اس طرح پورا وضو آدمی کے لئے گویا اس دعا کی عملی صورت بن جاتا ہے کہ : خدایا مجھے غلطی سے پلٹنے والا بنا اور مجھ کو برائیوں سے پاک رہنے والا بنا۔
عام حالات میں پانی کا احساس پیدا کرنے کے لئے وضو کافی ہے۔ مگر جنابت کی حالت ایک غیر معمولی حالت ہے اس لئے اس میں پورے جسم کا دھونا (غسل) ضروری قرار دیا گیا۔ وضو اگر چھوٹا غسل ہے تو غسل بڑا وضو ہے۔ تاہم اللہ تعالی کو یہ پسند نہیں کہ وہ بندوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالے۔ معذوری کی حالتوں میں پاکی کے احساس کو تازہ کرنے کے لئے تیمم کو کافی قرار دیا گیا۔ وضو اور غسل کے سادہ طریقے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح طہارت شرعی کو طہارت طبعی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے معذوری کی حالت میں تیمم کی اجازت مزید نعمت ہے کیونکہ یہ ظلم سے بچانے والی ہے جس میں اکثر مذاہب مبتلا ہوئے۔
اور اپنے اوپر للہ کی نعمت کو یاد کرو اور اس کے اس عہد کو یاد کرو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ جب تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اے ایمان والو، اللہ کے لئے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔ اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ایسے لوگ دوزخ والے ہیں۔ ایمان والو، اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کرے تو اللہ نے تم سے ان کے ہاتھ کو روک دیا۔ اور اللہ سے ڈرو اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۱۱۔ ایمان ایک عہد ہے جو بندے اور خدا کے درمیان قرار پاتا ہے۔ بندہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ سے ڈر کر رہے گا اور اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں بندہ کا کفیل ہو جائے گا ۔ بندے کو اپنے عہد میں پورا اترنے کے لئے دو باتوں کا ثبوت دینا ہے۔ ایک یہ کہ وہ قوام اللہ بن جائے۔ خدا کی باتوں پر خوب قائم رہنے والا ہو۔ اس کا وجود ہر موقع پر صحیح ترین جواب پیش کرے جو بندے کو اپنے رب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔ وہ جب کائنات کو دیکھے تو اس کا ذہن خدا کی قدرتوں اور عظمتوں کے تصور سے سرشار ہو جائے ۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھے تو اس کو اپنی زندگی سراپا فضل اور احسان نظر آئے ۔ اس کے جذبات امنڈیں تو خدا کے لئے امڈیں۔ اس کی تو جہات کسی چیز کو اپنا مرکز بنائیں تو خدا کو بنائیں۔ اس کی محبت خدا کے لئے ہو ۔ اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوں، اس کی یادوں میں خدا سمایا ہوا ہو۔ وہ خدا کی عبادت واطاعت کرے۔ خدا کے راستے میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرے، وہ اپنے آپ کو خدا کے دین کے راستے میں لگا کر خوش ہوتا ہو۔ عہد پر قائم رہنے کی دوسری شرط بندوں کے ساتھ انصاف ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کمی بیشی کئے بغیر وہ سلوک کرنا جس کا وہ باعتبار واقعہ مستحق ہے۔ معاملات میں حق کو اپنانا نہ کہ اپنی اس معاملہ میں بندے کو اتنا زیادہ پابند بننا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اپنے کو انصاف سے باندھے رہے جب کہ وہ دشمنوں اور باطل پرستوں سے معاملہ کر رہا ہو، جب کہ شکایتیں اور تلخ یادیں اس کو انصاف کے راستہ سے پھیرنے لگیں۔
دنیا میں خدا نشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی ایسے دلائل کی صورت میں جس کی کاٹ آدمی کے پاس موجود نہ ہو۔ جب آدمی کے سامنے خدا کی دلیل آئے اور وہ اس کو ماننے کے بجائے لفظی تکرار کرنے لگے تو اس نے خدا کی نشانی کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا پائیں گے۔ اور جن لوگوں نے اس کو مان لیا وہ خدا کے انعام کے مستحق ہوں گے۔