رسالت اور پیغمبری
Al-Risala, July 1980, pp. 33–42
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غیر مسلم آئے اور آپ سے آپ کے پیغمبر ہونے کا انھوں نے کہا کہ خدا کے پیغمبر حضرت موسیٰ عصا اور ید بیضا لے کر آئے جو لوگوں کے لئے ان کی پیغمبری کا ثبوت تھا۔ اسی طرح خدا کے پیغمبر حضرت عیسیٰ اندھوں کو بینا کرتے تھے اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے ، یہ ان کا معجزہ تھا جو ان کے پیغمبر خدا ہونے کو ثابت کرتا تھا۔ اسی طرح دوسرے پیغمبر بھی کوئی نہ کوئی معجزہ لائے اور اس کو اپنی پیغمبری کے ثبوت کے لئے پیش کیا۔ آپ بتائیں کہ آپ اپنی پیغمبری کے ثبوت کے لئے کیا معجزہ لائے ہیں۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ ان کے سوال کو سنا اور اس کے بعد سورہ آل عمران کے آخر کی یہ آیتیں پڑھیں : زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی بناوٹ میں غور کرتے ہیں۔ وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے اس سے کہ تو عبث کام کرے ۔ پس اے ہمارے رب ، ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب ، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی ۔ اے ہمارے رب ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہم سے درگزر فرما۔ ہماری برائیوں کو دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آیتیں پڑھ کر سنانا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا تھا کہ میری نبوت کا ثبوت وہ پوری کائنات ہے جو تمھارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ زمین و آسمان کا پورا نظام اپنی خاموش زبان میں رسالت اور پیغام رسالت کی تصدیق کر رہا ہے۔ پھر اس کے بعد کسی اور معجزہ کی کیا ضرورت ۔ پیغمبر اسلام کی نبوت دائمی نبوت تھی۔ اس لئے آپ کے لئے وقتی معجزہ کار آمد نہ تھا۔ آپ کے لئے وہ معجزہ مفید تھا جو آپ کی نبوت کی طرح مستقل ہو اور آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی باقی رہے۔ تاکہ ہر دور کا انسان اس کو دیکھ سکے۔ اسی لئے آپ نے خدا کی دنیا کو اپنے حق میں ابدی معجزہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ قرآن میں عالمی نظام کے ان پہلوؤں کی نشان دہی کی گئی جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح کے لئے خدائی رہنمائی کا انتظام ہونا چاہئے۔
کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک سوال ہے اور پیغمبری اسی سوال کا جواب ۔ ہمارے سامنے ایک انتہائی عظیم اور مکمل دنیا ہے۔ وہ نہ صرف موجود ہے بلکہ ایک درجہ محکم نظام کے ساتھ مسلسل متحرک ہے۔ کے اندر نہ کوئی نقص ہے اور نہ کوئی خلا۔ وہ ناقابل قیاس پھیلاؤ اور تنوع کے باوجود کمال درجہ ہم آہنگ ہے۔
اس کے اندر انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وہ اپنے بے شمار اجزار کے ساتھ انتہائی محکم بنیادوں پر چل رہی ہے۔ ایسی ایک کائنات کو دیکھ کر فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا خالق و مالک کون ہے، کون ہے جو اس کو عدم سے وجود میں لے آیا۔ کائنات یہ انتہائی اہم سوال ہمارے سامنے لاتی ہے مگر وہ اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ وہ ہم کو قوس قزح کا مشاہدہ کراتی ہے مگر وہ ہم کو اپنے خالق کا چہرہ نہیں دکھاتی۔ میں حرکت ہے، زندگی ہے، روشنی ہے، تخلیق ہے، مختلف قسم کی طاقتیں ہیں۔ حتیٰ کہ طرح طرح کے جانداروں کی صورت میں بولنے والی زبانیں بھی ہیں۔ مگر اس اہم ترین سوال کے بارے میں سب خاموش ہیں۔ انسان کو اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا نہیں ہے جہاں اس سوال کا جواب لکھ دیا گیا ہو۔ یہ صورت حال پکار رہی ہے کہ کوئی بتانے والا ہو جو انسان کو اس سوال کے بارے
اسی کے ساتھ دوسرا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کائنات کا انجام کیا ہے۔ کائنات کی ہر چیز حرکت میں ہے ۔ زمین مسلسل سفر کر رہی ہے۔ شمسی نظام زمین اور دوسرے سیاروں کو لئے ہوئے ایک طرف کو چلا جا رہا ہے۔ پھر کہکشاں ہمارے شمسی نظام اور دوسرے ستاروں کو لئے ہوئے ہر لمحہ رواں دواں ہے۔ کائنات کا قافلہ اپنے تمام اجزار کے ساتھ کسی منزل کی طرف چلا جا رہا ہے۔ مگر کوئی بھی اپنی منزل کے بارے میں اعلان نہیں کرتا۔ کائنات کچھ نہیں بتاتی کہ وہ کہاں سے چلی ہے اور کہاں چلی جارہی ہے اور بالاخر اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ یہ شدید ترین اہمیت رکھنے والا سوال ہے۔ کیوں کہ کائنات کے تیز رفتار قافلہ میں انسان بھی شریک ہے اور وہ مسلسل ایک نامعلوم سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اگر وہ اپنے سفر اور اپنی منزل کی بابت نہ جانے تو سارا سفر اندھیرے کا سفر بن جائے گا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ یہاں کوئی انتظام ہو جو انسان کو اس معاملہ کی حقیقت سے باخبر کرے۔
پھر اسی سے متعلق یہ سوال ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ آدمی کے سامنے بے شمار معاملات آتے ہیں اور ان کے درمیان ایک سے زیادہ طریقے اختیار کرنا اس کے لئے ممکن رہتا ہے، پھر انسان کون سا معیار اپنے سامنے رکھے۔ وہ کون سا طریقہ اختیار کرے اور کون سا طریقہ اختیار نہ کرے۔ انسان کے لئے راہ عمل پانی کا راستہ زمین کے نشیب و فراز سے بن جاتا ہے۔ درخت سے لے کر ستاروں تک ہر چیز کا ایک نظام مقرر ہے جس پر وہ پابندی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں۔ کائنات کی دوسری چیزوں کے لئے یہ سوال نہیں کہ وہ کسے لے اور کس کو چھوڑ دے۔ جب کہ انسان اپنے اختیار کی وجہ سے ہر وقت اس سوال سے دوچار رہتا ہے پوری کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے سامنے کوئی معلوم اور مقرر راہ عمل نہیں ہے سورج ایک صدور جہ پابند نظام کے تحت ہر روز ہمارے لئے روشنی بھیجتا ہے مگر وہ ہماری اپنی زندگی کے سوال پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔ ہوا ایک مکمل نظام کے تحت چلتی ہے اور پھولوں کی خوشبو ہمارے مشام تک پہنچاتی ہے
مگر وہ ہمارے اصل مسئلہ کے بارے میں ہم کو کوئی خبر نہیں دیتی ۔ پانی ایک متعین قانون میں بندھا ہوا ہے ، وہ ہمارے لئے ٹھنڈک اور تراوٹ لے کر آتا ہے مگر ہماری تلاش کے بارے میں وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرتا ۔ اپنی محوری گردش کے ذریعہ ہر روز ہمارے لئے دن لاتی ہے اور رات کا پردہ ہمارے اوپر سے ہٹاتی ہے گردہ زندگی کے بھید کا پردہ نہیں کھولتی ۔ درخت زمین کو پھاڑ کر نکلتے ہیں اور ایک منظم کارخانہ کی طرح عمل کرتے ہوئے ہمارے لئے سایہ اور رزق فراہم کرتے ہیں ۔ مگر وہ ہماری ذہنی غذا کے لئے ہمیں کوئی چیز فراہم نہیں کرتے ۔ چڑیاں چہچہاتی ہیں ، ان کو اپنی زندگی کا نظام پوری طرح معلوم ہے مگر وہ ہماری قابل فہم زبان میں ہم کو کوئی پیغام نہیں دیتیں ۔ ستارے اور سیارے اپنے نظام میں ایک سیکنڈ کا فرق کئے بغیر دوڑ رہے ہیں مگر وہ نہیں بتاتے کہ وہ کون سی منزل ہے جس کی طرف انسان کورواں دواں ہونا چاہئے ۔ کائنات کی ہر چیز ایک ہی مقرر راستہ پر چل رہی ہے ، حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشائوں تک سب کے سب اپنے مقرر نظام کے اس طرح پابند ہیں جیسے ان کو اپنی راہ عمل پوری طرح معلوم ہو۔ یہاں صرف ایک انسان ہے جو اپنی راہ عمل سے بے خبر ہے۔ کائنات میں وہ بالکل بے خبر حالت میں کھڑا ہو اتمام چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنی منزل کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ خود کیا کرے اور کدھر جائے ۔ کائنات میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب کا ایک نظام عمل مقرر ہے جس پر وہ حد درجہ پابندی کے ساتھ یہاں صرف ایک انسان کا استثنا ہے ۔ انسان واحد مخلوق ہے جو کسی نظام میں بندھا ہوا نہیں ہے۔ وہ اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ زمین اپنے مدار میں گھومتی ہے۔ سیاروں کے مدار میں داخل نہیں ہوتی ۔ ایک متعین صورت حال جہاں دوسری چیزیں ہمیشہ ایک ہی رخ اختیار کرتی ہیں، انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ کئی رخ اختیار کرسکے ۔ وہ اپنے " مدار " سے نکل کر دوسرے کے " مدار " میں مداخلت کرنے لگے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے لئے راہ عمل پانے کا معاملہ اس سے مختلف ہے جو بقیہ کائنات کا ہے ۔ بقیہ چیزیں اپنے لئے راہ عمل خود اپنے ساتھ لاتی ہیں مگر انسان کو اپنی راہ عمل باہر سے حاصل کرنا ہے ۔
مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنی راہ عمل خود دریافت نہیں کر سکتا ۔ انسان عقل و فہم رکھتا ہے مگر اس کی عقل و فہم اصل مسئلہ کی نسبت سے اتنی محدود ہے کہ کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی کوشش سے اس سوال کا جواب معلوم کر سکے ۔ پچھلے ہزاروں سال کی تاریخ نے اس کو تجرباتی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔ کائنات کے اندر اپنے سوال کا جواب نہ پا کر انسان نے خود تحقیق شروع کی ۔ مگر نسلوں کی کوششیں بھی اس کو کسی ایسی بات تک نہ پہنچا سکیں جس پر وہ یقین کر سکے ۔ اس نے ستاروں اور سیاروں کی حرکت کے اصول معلوم کر لئے مگر انسان کے سفر اور اس کے آغاز وانجام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ کر سکا ۔ اس نے جمادات ، نباتات اور حیوانات کا قانون دریافت کر لیا مگر خود انسان کا قانون دریافت کرنے میں ناکام رہا ۔ اس نے یہ جان لیا کہ مادہ فنا ہوتا ہے تو انرجی
بن جاتا ہے ار انرجی ختم ہوتی ہے تو وہ مادہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے مگر انسان مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ اس نے معلوم کر لیا کہ کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی محکم قانون میں بندھی ہوئی ہیں اور اس سے ادنیٰ انحراف کئے بغیر کھرب ہا کھرب سال تک چلتی رہتی ہیں ۔ مگر انسان کا قانون حیات کیا ہو، اس کے بارے میں وہ کچھ معلوم نہ کر سکا ۔ اس نے کائنات کی وسعتوں کو اپنے آلات کی مدد سے دیکھ لیا اور انتہائی چھوٹے ایٹم کے اندرونی نظام کا پتہ کر لیا ۔ مگر انسان کی حقیقت کیا ہے، وہ کس منصوبہ کے تحت وجود میں آیا ہے، اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کے بارے میں انسان کی یہ مجبوری ثابت کرتی ہے کہ اس کو اس بارے میں ایک خصوصی رہنما در کار ہے۔ اس سے پیغمبر کی ضرورت پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کے لئے پیغمبر کا لازمی طور پر محتاج ہے۔ اس کے بعد جب ہم ان تعلیمات پر غور کرتے ہیں جو پیغمبر نے پیش کی ہیں تو مزید یقین ہو جاتا ہے کہ پیغمبر فی الواقع انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ پیغمبر کی بتائی ہوئی باتیں ان تمام سوالات کا تسلی بخش اور مکمل جواب ہیں جو انسان کو درپیش ہیں۔ یہ تعلیمات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیغمبر واقعی اللہ کی طرف سے ہے ۔ اللہ نے اس کو حقیقت کا علم دے کر انسانوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ بقیہ چیزوں کا قانون عمل ان کے پیدا کرنے والے نے اندرونی طور پر ان کے اندر رکھ دیا اور انسان کا قانون عمل پیغمبر کے ذریعہ اس کے پاس بھیجا۔ پیغمبر ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے اور وہ اپنی غیر معمولی قدرت کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ اس جواب سے زیادہ صحیح جواب کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ یہ جواب ایسا ہی ہے جیسے ایک مشین بہت عمدہ چل رہی ہو۔ لوگ اس کی کارکردگی کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوں۔ مگر اس کی ساخت اس پر لکھی ہوئی نہ ہو۔ ایک واقف کار یہ کہے کہ یہ فلاں کارخانہ کی بنی ہوئی ہے جو دنیا بھر میں انجینئرنگ کا سب سے اچھا کارخانہ ہے۔ یہ بات معلوم ہوتے ہی دیکھنے والوں کی الجھن ختم ہو جائے گی کیونکہ اب ان کو مشین کی اعلیٰ کارکردگی کی توجیہہ مل گئی۔ اسی طرح ایک عظیم کائنات کا موجود ہونا اور پھر اس کا حد درجہ محکم طریقہ پر چلنا اس کے بارے میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کیوں کر بنی اور کیسے چل رہی ہے ۔ جب پیغمبر یہ کہتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کو بنایا اور جو اس کو اپنی خدائی طاقتوں سے چلا رہا ہے تو فوراً اہم کو اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ جواب ہمارے لئے ذرا بھی بعید از قیاس نہیں۔ کیوں کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ہم اپنی ذات کی سطح پر ایک ایسے وجود کا تجربہ کر رہے ہیں جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سوچتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے ، جو واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ " انسان " کی صورت میں جن قوتوں کو ہم محدود و طور پر دیکھ رہے ہیں وہی قوتیں زیادہ کامل طور پر خدا کی صورت میں موجود ہوں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے ۔ یہ تو گویا اسی واقعہ کو زیادہ بڑے پیمانہ پرماننا ہے جس کا ہر وقت ہم چھوٹے پیمانہ پر تجربہ کر رہے ہیں۔ " میں " ہوں یہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ " خدا " ہے۔
دوسری بات جو پیغمبر بتاتا ہے وہ یہ کہ یہ کائنات بے انجام نہیں ۔ اس کا ایک انجام ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے ۔ آدمی کو بظاہر اس دنیا میں جو آزادی حاصل ہے وہ صرف امتحان کے لئے ہے۔ یہ آزادی ایک خاص مدت تک ہے ۔ اس مدت کے ختم ہونے کے بعد موجودہ نظام توڑ دیا جائے گا ۔ نیا زیادہ کامل اور ابدی نظام بنایا جائے گا ۔ وہاں خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا جو اس وقت امتحان کی مصلحت کی بنا پر غیب کے پردہ میں چھپا ہوا ہے ۔ آج کی دنیا میں ہر ایک کو فائدہ اٹھانے کا موقع ہے ۔ مگر آنے والی دنیا میں خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا حق صرف ان لوگوں کو ہوگا جنھوں نے حالتِ غیب میں خدا کی وفاداری کی ہوگی ۔ بقیہ تمام لوگ خدا کی نعمتوں سے دور پھینک دئے جائیں گے ۔ پیغمبر کی یہ خبر بھی پوری طرح سچائی کے مطابق معلوم ہوتی ہے ۔ ایک ایسا خدا جس نے دیکھنے اور سمجھنے والے انسان کو بنایا ، کیسی عجیب بات ہوگی کہ انسان یوں ہی پیدا ہو کر مر جائے اور اس کا خدا اس کے سامنے ظاہر نہ ہو کہ وہ اس کو دیکھے اور جانے۔ پھر موجودہ کائنات اتنی با حکمت ہے کہ کسی طرح بھی یہ بات قابلِ تصور نہیں ہے کہ اس کا کوئی انجام نہ ہو ، کوئی ایسا دن نہ آئے جہاں ظلم ظلم کی صورت میں اور انصاف انصاف کی صورت میں نمایاں ہو۔ پیغمبر کی خبر عین وہی ہے جس کا انسانی فطرت تقاضا کر رہی تھی ، ایک ایسی دنیا جہاں عدم سے وجود کے مظاہرے ہوتے ہوں ۔ جہاں رات کے بعد دن آتا ہو ، جہاں ایک معمولی بیج سے بے شمار بڑے بڑے درخت پیدا ہوتے ہوں ۔ ”آج “ ہمیشہ ”کل“ میں تبدیل ہوتا ہو ، ایسی دنیا کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ایک آخرت ہے حد درجہ قابلِ فہم ہے ۔ جو دن ہم ہر روز نکلتا دیکھتے ہیں ، یہ اسی کے زیادہ بڑے پیمانہ پر نکلنے کی خبر ہے۔ جو کل ہر روز ہمارے اوپر آتی ہے یہ اسی کے زیادہ بڑی صورت میں ظاہر ہونے کی اطلاع ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر ہماری اپنی فطرت کی مانگ کو شعور تک پہنچاتا ہے ، جس بات کے اشارے آج بھی کائنات میں موجود ہیں اس کو وہ یقینی علم کا درجہ عطا کرتا ہے ۔
پیغمبر نے انسان کے لئے جو راہِ عمل بتائی ہے وہ بھی حد درجہ قابلِ فہم ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ کیوں کہ اتنی صحیح بات وہی کہہ سکتا ہے جو خدا کی طرف سے بول رہا ہو۔ پیغمبر یہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے راہِ عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ عبادت کا مطلب ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ۔ اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا۔ اللہ ہی کو اپنا سب کچھ بنالینا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا وجود ہے جو اپنی توجہات کا ایک مرکز چاہتا ہے۔ اس کو کوئی ایسا نقطہ درکار ہے جس کے اوپر وہ اپنی سوچ اور اپنے جذبات کو مرتکز کر سکے ۔ یہ انسان کی ایسی ضرورت ہے جس سے وہ کسی حال میں خالی نہیں ہو سکتا ، اور نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اس سے خالی ہو۔ کسی کا مرکز توجہ اس کے بیوی بچے ہیں ، کسی کا مرکز اس کا قبیلہ اور برادری ہے ، کسی کا مرکز تو چہ قوم اور وطن ہے ۔ کوئی دولت کو اور کوئی اقتدار کو اپنا مرکز توجہ بنائے ہوئے ہے ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں جو حقیقتہً اس قابل ہو کہ انسان
اس کو اپنا مرکز توجہ بنائے ۔ مرکز توجہ بننے کے قابل وہ ہو سکتا ہے جو انسان کو سہارا دے سکے۔ جو زندگی کے انجام کو بہتر بنانے میں انسان کی مدد کر سکتا ہو۔ مگر ان میں سے کسی چیز کو بھی یہ طاقت حاصل نہیں ۔ چیزیں خود ہی دوسروں کی محتاج ہیں پھر وہ کسی انسان کی کیا مدد کر سکتی ہیں ۔ پھر مرکز توجہ بننے کے قابل وہ ہے جس کو بیک وقت سارے انسان مرکز توجہ بنائیں اور اس کے باوجود معاشرے میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔ میں سے ہر چیز کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ وہ تمام چیزیں جن کو آدمی عام طور پر مرکز توجہ بناتا ہے وہ محدود ایک آدمی کا انھیں پانا ہمیشہ دوسرے آدمی کی محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سماج میں مستقل چھین جھپٹ جاری رہتی ہے ۔ ایک شخص جب پاتا ہے تو وہ دوسرے شخص سے چھین رہا ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف خدا ہی کی شان ہے کہ بیک وقت سارے انسان اس کو پانے کے لئے دوڑیں اور پھر بھی لوگوں میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہ ہو۔ کیوں کہ خدا مادی چیزوں سے بلند ہے ، خدا ہر قسم کی محدودیت سے پاک ہے ۔ انسانی سماج کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خواہ کتنا ہی اچھا قانون بنایا جائے ، انسان اس سے بچنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے ۔ کسی کے پاس طاقت ہے تو وہ طاقت کے بل پر دھاندلی کرتا ہے ۔ کسی کے پاس دولت ہے تو وہ دولت کے ذریعہ انصاف کو خرید لیتا ہے ۔ کسی کے پاس الفاظ ہیں تو وہ خوبصورت الفاظ کے ذریعہ اپنے ظلم کو عدل ثابت کرتا ہے ۔ غرض ہر ایک اپنے ناحق کو حق ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر پا لیتا ہے ۔ مگر جب خدا کو درمیان میں کھڑا کر دیا جائے تو ہر آدمی محسوس کر لیتا ہے کہ اس کی تدبیریں بے معنی ہیں ۔ تمام تدبیریں اسی وقت تک تدبیریں ہیں جب تک معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہو۔ جب معاملہ کو انسان اور خدا کا معاملہ بنا دیا جائے تو ہر آدمی مکمل طور پر سنجیدہ اور محتاط ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ خدا سے نہ کوئی بات چھپائی جاسکتی اور نہ وہاں کسی قسم کا کوئی زور چل سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا پرستی ہی واحد بنیاد ہے جس سے لوگوں میں قانون کے احترام کا جذبہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو سکے ۔ دنیا میں صحیح نظام بنانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہ قربانی ہے ۔ کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے کو چھوڑ نا پڑتا ہے ۔ کہیں اپنے ایک کریڈٹ کو دوسرے کے حوالے کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ کہیں اپنے گھر والوں کے مفاد کے مقابلہ میں دوسروں کے مفاد کو ترجیح دینی پڑتی ہے ۔ کہیں اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال کو دوسروں کے حوالے کر دینا پڑتا ہے ۔ کہیں ایک ایسے کام میں اپنی قوتیں کھپانے کا سوال ہوتا ہے جس میں بظاہر کچھ ملنے والا نہیں ہے ۔ جب تک افراد میں اس قسم کی قربانی کا مزاج نہ ہو حقیقی معنوں میں کسی درست نظام کا قائم ہونا ممکن نہیں ۔ اس کے بغیر ہر آدمی اپنی بات پر اصرار کرے گا اور نتیجہ پورا سماج چھین جھپٹ کا سماج بن جائے گا ۔ اگر یہی موجودہ دنیا سب کچھ ہو تو آدمی اس قسم کی قربانیاں کیوں کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس سماج میں خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو مرکز توجہ بنایا جائے وہاں مستقل فساد برپا رہتا ہے ۔ دینے پر تیار نہیں ہوتے اس لئے صالح ماحول بننے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ مگر پیغمبر زندگی کے جس مقصد کی
نشان دہی کرتا ہے اس میں یہ مسئلہ نہایت خوبی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔ اب قربانی کرنے کے لئے بہت بڑا محرک مل جاتا ہے۔ اب انسان جان لیتا ہے کہ اس کی ہر قربانی کی اللہ کے یہاں بہت بڑی قیمت ہے جو مرنے کے بعد اس کو ابدی زندگی میں لوٹائی جائے گی۔ یہ ذہن انسانی سماج میں ہر قسم کے ظلم کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور حق و انصاف کے لئے مضبوط ترین بنیاد فراہم کر دیتا ہے۔ اب ہر شخص اس قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے جو ماحول کو صالح بنانے کے لئے ضروری ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے وہ وہی دین ہے جو خدا کے دوسرے پیغمبر لے کر مگر دوسرے پیغمبروں کا دین ان کے بعد محفوظ نہ رہ سکا۔ ان کے بعد ان کے دین کے ماننے والے اتنے طاقت ور ثابت نہ ہو سکے کہ ان کے دین کو اس کی اصلی صورت میں محفوظ رکھ سکتے ۔ پیغمبر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی کی حیثیت سے بھیجا اور ان کی خصوصی مدد کر کے ان کو تمام قوموں اور مذہبوں کے اوپر غالب کر دیا ۔ آپ کی یہ غیر معمولی فتح ایک طرف آپ کے پیغمبر خدا ہونے کی دلیل بن گئی ۔ آپ کی کامیابی اتنی غیر معمولی تھی کہ دنیا میں کبھی کسی کو ایسی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک محسوس ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے تھے اور خدا نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو یہ غلبہ اور کامیابی عطا فرمائی ۔ کوئی عام آدمی کبھی اس قسم کی کامیابی پر قادر نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف آپ کی اسی کامیابی کے ذریعہ آپ کے لائے ہوئے دین کی مستقل حفاظت کا انتظام ہو گیا۔ آپ کی اس کامیابی کی وجہ سے آپ کے ماننے والوں کی ایک بہت بڑے رقبہ پر طاقت ور حکومت قائم ہو گئی۔ یہ حکومت آپ کے دین کی دائمی محافظ بن گئی ، چنانچہ آپ کی آمد کو چودہ سو سال ہوگئے اور آج تک آپ کے دین میں کوئی تبدیلی نہ ہو سکی ۔ وہ اسی خالص صورت میں محفوظ ہے جس صورت میں آپ نے اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ آپ قیامت تک کے لئے تمام انسانوں کے اوپر خدا کے پیغمبر ہیں۔ نیا پیغمبر آنے کی ضرورت ہمیشہ اس لئے پڑتی ہے کہ خدا کا دین اپنی اصلی صورت میں محفوظ نہ رہا ہو۔ پچھلے زمانہ میں بار بار ایسا ہوا کہ آسمانی کتاب کی حامل قو میں اپنی کتاب کو ضائع کرتی رہیں۔ لئے بار بار نبی آئے تاکہ خدا کی تعلیمات کو زندہ کریں اور ان کو دوبارہ ان کی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں جو کتاب پیش کی وہ مکمل طور پر اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے اور پریس کا دور آنے کے بعد آخری طور پر محفوظ ہو چکی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ آج بھی ایک زندہ نبی کی حیثیت سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کیوں کہ آپ کے اقوال، آپ کے حالات، آپ کی پیغمبرانہ جد و جہد ، غرض آپ کے پورے عمل کا ریکارڈ اس طرح مکمل طور پر محفوظ ہے کہ جب ہم اس کو پڑھتے ہیں تو گویا کہ ہم آپ کو اپنے درمیان محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت رسول آپ نے جو کچھ کیا وہ سب کا سب ہم شروع سے آخر تک آج بھی معتبر کتابوں میں دیکھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اب نیا نبی آنے کی کیا ضرورت ۔
الا هل عسى رجل يبلغه الحديث وهو متكىٔ سند۔ ایسا ہوگا کہ ایک شخص کے پاس میری حدیث پہنچے علی اریکته فیقول : بیننا وببینکم کتاب الله نما گی۔ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا ہوگا ، دہ وجدنا فیه حلالاً استحللنا ها وما وجدنا فیه سن کر کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اس کو حلال قرار دیں گے ۔ اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں گے اس کو حرام قرار دیں گے ۔ حالاں کہ جو اللہ کے رسول نے حرام کیا وہ ویسا ہی ہے جیسے اللہ نے حرام کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں پوری ہو گئی ہے۔ آج ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہدایت کے لئے صرف قرآن کافی ہے۔ ہم قرآن کو مانیں گے اور حدیث کو نہ مانیں گے۔ مگر یہ اتنی زیادہ بے معنی بات ہے کہ جو شخص ایسا کہے وہ صرف یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس کی دیانت داری حد درجہ مشکوک ہے ۔ حتی کہ یہ یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ وہ خدا کی کتاب کو صحیح معنوں میں مانتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی کتاب کو ماننا اور خدا کی کتاب لانے والے کی بات کو نہ ماننا دونوں ایسی متضاد باتیں ہیں جو کسی ایک ذہن میں سنجیدگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں ۔
رائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو سنجیدہ رائے ہو۔ دوسری وہ جو آدمی کی سنجیدہ رائے نہ ہو بلکہ اس نے محض تفنن یا شرارت کے طور پر اس کو اختیار کر لیا ہو۔ اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ یہ حکم ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں قوت فراہم کرو (انفال (۶۰) یہاں قوت سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں حدیث میں آیا ہے کہ قوت سے مراد تیراندازی ہے (الا ان القوة الرمی) اب ایک شخص رمی کو وسعت دے کر کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد دور مار ہتھیار ہیں۔ دوسرا شخص لفظی مفہوم پر اصرار کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد تیر کمان والی طاقت فراہم کرنا ہے ۔ یہ دونوں رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، تاہم یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ سنجیدہ ہوں اور پوری نیک نیتی کے ساتھ انھوں نے اپنی رائیں قائم کی ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رمی کے معنی عربی زبان میں تہمت لگانے کے بھی آتے ہیں۔ اور یہاں یہ مراد ہے کہ دشمنوں پر خوب تہمت لگاؤ اور ان کی عیب جوئی کرکے ان کے مقابلہ میں طاقت حاصل کرو تو یہ ایک فضول بات ہوگی ۔ یہ کوئی رائے نہیں بلکہ محض حقیقی اظہار رائے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے ۔ جو اظہار رائے غیر سنجیدہ ذہن سے نکلا ہو، اس کو اظہار رائے نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کی تشریح نہ قواعد زبان کے اعتبار سے درست ہے اور نہ عقل
فہم کے اعتبار سے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث دین میں حجت نہیں ہے وہ اسی دوسری قسم کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ ان کی اس رائے کو رائے نہیں کہا جاسکتا بلکہ اسے فتنہ انگیزی کہا جائے گا کیونکہ قرآن کو ماننا اور حدیث کو ماننا اتنی زیادہ غیر معقول بات ہے کہ کوئی آدمی سنجیدگی کے ساتھ بھی ایسی بات نہیں کہہ سکت۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن سے متعلق دو ذمہ داریاں تھیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ آپ پر اترا ہے اس کو آپ اسی طرح پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں (روان اتلو القرآن ، نمل ۹۲) دوسری ذمہ داری یہ تھی کہ آپ لوگوں کے سامنے اترے ہوئے قرآن کی تشریح و توضیح کریں :
وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اور یہ قرآن ہم نے تمھارے اوپر اتارا تا کہ تو لوگوں (نحل ۳۹) کے سامنے وہ چیز بیان کر دے جو ان کے لئے اتری ہے تا کہ وہ غور کریں۔
پہلی ذمہ داری کے تحت آپ کو صرف یہ کرنا تھا کہ جو الفاظ آپ پر اتارے گئے ہیں ان کو ان کی اصلی صورت میں پڑھ کر سنا دیں ۔ مگر دوسرا کام جو تبیین و وضاحت کا کام تھا ، اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ نازل شدہ الفاظ کے علاوہ مزید الفاظ بولیں ۔ انھیں مزید وضاحتی الفاظ کا نام حدیث ہے۔ یہ مزید الفاظ اگر چہ داخل قرآن نہیں ہیں مگر وہ آپ کے منصب رسالت کا لازمی جز رہیں ۔ یہ خود خدا کے حکم کے تحت اور اس کے منصوبے کے مطابق بولے گئے ہیں۔ اس لئے اللہ کی مرضی کو جاننے کے لئے وہ بھی اسی طرح مستند ہیں جس طرح قرآن مستند ہے اللہ کی قربت چاہنے والا کوئی بندہ جس طرح اللہ کی کتاب کو نظر انداز نہیں کر سکتا ، اسی طرح وہ اللہ کے رسول کے کلام کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان میں جدائی
قرآن ہم کو رسول کے ذریعہ سے ملا ہے۔ رسول کے کہنے ہی کی وجہ سے ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ خدا کی پیغمبر کی صداقت پر ایمان لا کر ہی ہم قرآن کی صداقت پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر اسی پیغمبر کی زبان سے نکلی ہوئی دوسری باتوں کو ہم کیوں کر جھٹلا دیں گے۔ ابو داؤد کی روایت کے مطابق پیغمبر نے فرمایا : سن لو، مجھے یہ قرآن دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا مثل بھی (الا انی اوتیت هذان الکتاب و مثلہ معہ) ہم نے اپنی آنکھوں سے نہ جبریل کو دیکھا اور نہ یہ کہ جبریل آپ کو کتاب اللہ کی تعلیم کر رہے ہیں ۔ صرف پیغمبر کے کہنے پر ہم یہ مانتے ہیں کہ آپ کو وحی متلو دی گئی ہے۔ پھر رہی پیغمبر جب یہ کہے کہ مجھ کو وحی غیر متلو بھی دی گئی ہے تو اس کے بعد کسی کے پاس وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر وہ یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ وحی متلو کی حد تک وہ پیغمبر کے بیان کو مانے گا اور وحی غیر متلو کے بارے میں وہ پیغمبر کے بیان کو چھوڑ دے گا۔ اس قسم کی متضاد رائے رکھنے کا کسی کے پاس کوئی منطقی جواز نہیں۔
قرآن کو ماننے کے بعد علی طور پر کسی کے پاس حدیث کو جانچنے کا صرف ایک ہی معیار رہ جاتا ہے اور وہ وہی ہے جس کا اعتبار خود قرآن کے سلسلے میں کیا جاتا ہے ۔ یعنی روایت ۔ جس کتاب کو ہم قرآن کہتے ہیں
اس کو بھی ہم قرآن اسی لئے سمجھتے ہیں معتبر راویوں کی کثرت سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے اتری ہے۔ اسی طرح معتبر راویوں کے ذریعہ جب یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں قول یا فلاں حکم آپ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا قول یا حکم ہے تو صرف یہ ثابت ہوجانا ہی کافی ہے کہ اس کو بھی اسی طرح مقدس مانا جائے جس طرح قرآن کو مقدس مانتے ہیں۔ معتبر راویوں کے ذریعہ کسی حدیث کا آپ سے انتساب ثابت ہوجانے کے بعد اس کو نہ ماننا صرف حدیث کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ یہ خود قرآن کو نہ ماننا ہے کیونکہ حدیث اور قرآن دونوں جب راویوں کے ایک ہی سلسلے سے ہم تک پہنچ رہے ہوں تو حدیث کے معاملے میں ان کی خبر رسانی کو مشکوک سمجھنے کے بعد قرآن کے معاملے میں ان کی خبر رسانی کو قابل اعتماد سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ۴- یہ ایک معلوم اور مسلم بات ہے کہ قرآن میں عام طور پر دین کے اساسی احکام ہیں، ان کی عملی تفصیلات قرآن میں درج نہیں ہیں۔ اب جو شخص قرآن کو ماننے میں سنجیوہ ہو وہ کبھی حدیث کے حجت ہونے پر شبہ نہیں کرسکتا، کیونکہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے لے کر حدود کی اقامت تک کسی بھی قرآنی حکم پر وہ عملاً کاربند نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حدیث اور سنت سے مدد نہ لے۔ ایک آدمی اگر فی الواقع قرآن کو مانتا ہے تو ضرور در ایس ہوگا کہ قرآن میں جب وہ پڑھے فاقہ نماز ادا کرو" تو وہ چاہے گا کہ قرآنی حکم کی تعمیل میں نماز ادا کرے، مگر اس کے بعد جب وہ قرآن میں اس کی عملی تفصیل ڈھونڈے گا تو وہاں اس کو اس کی تفصیل نہیں ملے گی۔ اب اگر وہ سنجیدہ ہے تو لازماً اس کی تلاش اس کو سنت تک لے جائے گی، کیوں کہ سنت کے سوا کوئی بھی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے کوئی طالبِ قرآن یہ جان سکے کہ اقیموا الصلوٰۃ کے حکم کی تعمیل کی عملی صورت کیا ہے۔
اس معاملے کے دو پہلو ہیں اور دونوں ہی کی تعمیل پیغمبر کی سنت سے ہوتی ہے۔ بعض اعمال ایسے ہیں جن کی صرف لفظی تفصیل بتانا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کو کر کے دکھایا جائے۔ آدمی بالفعل ان کے دیکھنے کے بعد ہی ان پر عمل کرسکتا ہے۔ دوسرے اعمال دہ ہیں جن کے لئے اگرچہ عملی مظاہرہ ضروری نہیں مگر ان کو زیرِ عملی لانے کے لئے تفصیلی قواعد کی تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ عبادات کا تعلق زیادہ تر پہلی قسم سے ہے اور حدود کا تعلق زیادہ تر دوسری قسم سے۔ یہ دونوں ہی باتیں وہ ہیں جن کو ہم صرف قرآن سے معلوم نہیں کرسکتے۔ ایک عالم نے اپنے سفرِ حجاز کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا : کتبِ فقہ و حدیث کے درس و تدریس یا بہ نہیں پچیس سالہ مشغولیت کی بنا پر گمان تھا کہ بغیر کسی راہ نما کے بآسانی عمرہ کی ادائیگی مسنون طریقہ پر کی جا سکے گی۔ مگر بیت اللہ پہنچ کر اندازہ ہوا کہ تنہا کتابی علم نہ صرف کافی نہیں بلکہ عملی نمونہ کے بغیر علم سفینہ کیا علم سینہ بھی بے راہ ہی نہیں گمراہ بھی بنا سکتا ہے (الفرقان جون 1979) قرآن میں عبادت کے سلسلہ میں صرف اساسی احکام دئے گئے ہیں۔ ان کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف لفظی احکام کو پڑھ کر کوئی شخص صحیح طور پر عبادت کی ادائگی نہیں یہ ایسا کام ہے جو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو (صلوا كما رأيتموني اصلي، بخاری) حج کے بارے میں آپ نے فرمایا: تم مجھ کہ سے حج کے طریقے سیکھ لو (خذوا عني مناسککم، مسلم)۔