انسانوں کی تین قسمیں
Al-Risala, August 1980, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان و اسلام کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہو۔ وہ اپنے معاملات میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ وہ اس طرح زندگی گزارے گویا وہ اپنے آپ پر خدا کی نگرانی قائم کئے ہوئے ہے۔ وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی تمام دکھائی دینے والی طاقتوں سے زیادہ اس کا اندیشہ رکھتا ہو۔ وہ خدا کے پاس ایسا دل لے کر پہنچے جو دنیا کی زندگی میں ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہا ہو۔ یہی اللہ کے مطلوب اور محبوب بندے ہیں۔ جب اللہ کی خاطر وہ دنیا کا دکھ اٹھا کر آخرت میں پہنچیں گے تو ان کا رب ان کو نہال کر دے گا۔ وہ ان سے کہے گا کہ ہرے بھرے باغوں والے جنتی مکانات میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ وہاں رہو۔ یہاں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جو تم چاہو۔ اور ہمارے اتھاہ انعامات اس کے علاوہ ہیں۔ (ق ۳۵ - ۳۱) دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ تاہم ان سے کوتاہیاں ان کے ٹھیک کام میں غلط کام بھی شامل ہوتا رہا۔ مگر اس کمزوری کے باوجود وہ ڈھیٹ نہیں بنے۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے معافی مانگتے رہے اور بار بار اس کی طرف پلٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ امید ہے کہ اللہ ان کو بھی اپنی رحمت کے سایہ میں لےلے گا۔ وہ جب خدا کی طرف لوٹے تو خدا بھی ان کی طرف لوٹے گا۔ کیوں کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے (توبہ ۱۰۲)
اس کے بعد تیسرا گروہ وہ ہے جس نے نفس پرستی، دنیا طلبی اور گھمنڈ کو اپنا دین بنایا۔ نے اپنی زبان اللہ کے لئے بند نہیں کی۔ ان کے قدم اللہ کے لئے نہیں رکے۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے لئے نہیں جئے بلکہ اپنے لئے جئۓ۔ انھوں نے آخرت کی فکر نہیں کی بلکہ دنیا کی فکر کی۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا کی ابدی دنیا میں عزت کا مقام حاصل کر سکیں (ہود ۱۶-۱۵)