اوپر اٹھ کر سوچنا
Al-Risala, August 1980, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
جب تیز ہواؤں کا طوفان آتا ہے تو کم زور بازوؤں والی چھوٹی چڑیاں اس کے اندر گھر کر رہ جاتی ہیں۔ مگر بڑی چڑیاں ہوتی ہیں وہ اپنے مضبوط بازوؤں کے ساتھ اڑ کر اوپر چلی جاتی ہیں اور اس طرح وہ طوفان کی زد سے باہر نکل جاتی ہیں۔ اسی واقعہ کی روشنی میں انگریزی مثل ہے دی بگ برڈ آف دی اسٹارم (طوفان کی بڑی چڑیا) یہ مثل اس وقت بولی جاتی ہے جب کہ کوئی شخص حالات کے گھراؤ کو توڑ کر باہر نکل جانے میں کامیاب ہو گیا ہو۔ اسی طرح سوچنے کی بھی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی سوچ ان کے قریبی حالات کے زیر اثر بنتی ہے۔ جن معاملات میں وہ گھرے ہوئے ہیں ان سے الگ ہو کر وہ سوچ نہیں پاتے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو ” طوفان کی بڑی چڑیا کی طرح اپنے قریب کے حالات سے اوپر اٹھ وہ حالات سے متاثر ہو کر نہیں سوچتے بلکہ حالات سے بلند ہو کر اپنی رائے قائم
مومن کی سوچ بڑی چڑیا کے انداز کی سوچ (بگ برڈ تھنکنگ) ہوتی ہے۔ سے اوپر اٹھ کر جیتا ہے۔ وہ تکلیفوں میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ مشکل حالات میں بھی دین پر جمنے والا ہوتا ہے۔ وہ شکایتوں کے باوجود لوگوں سے خیر خواہی اور انصاف کا معاملہ وہ حالات کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ حالات سے الگ اپنی شخصیت بناتا ہے۔ طوفانوں سے باہر زندگی گزارتا ہے نہ کہ ان کے اندر۔
غیر مومن رد عمل کی نفسیات میں جیتا ہے اور مومن مثبت نفسیات میں۔ غیر مومن دوسروں کی تخریب میں اپنی تعمیر کا راز سمجھتا ہے اور مومن خود اپنے امکانات کو بروئے کار لانے میں۔ غیر مومن دنیا کے قائم لئے ہوئے ہوتا ہے اور مومن آخرت کا غم۔ غیر مومن کا دل انسانوں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے اور مومن کا دل صرف اللہ میں۔