اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لئے
Al-Risala, January 1980, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی دو سورتوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ابدی طور پر غلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ہے تاکہ وہ اس کو ہر دین سے اوپر کردے خواہ شرک (توبه ۳۳، صف ۹) کرنے والوں کو کتناہی ناگوار ہو۔
اس آیت میں ہدایت کی تفسیر قرآن سے کی گئی ہے اور دین حق کی اسلام سے۔ اور اظہار سے مراد حجت وبیان کے اعتبار سے اس کو سب پر فائق کر دینا ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کی صورت میں اللہ نے اپنا جو آخری دین اتارا ہے وہ کلی صداقت کا حامل ہے۔ اس کے لئے مقدر ہے کہ وہ ہر دوسرے دین کے مقابلہ میں بالا و برتر ثابت ہو، ہر دوسرا دین اس کے سامنے بے اصل ہو کر رہ جائے۔ اظہار اسلام سے مراد تقریباً اسی قسم کا ایک نظریاتی غلبہ ہے جو موجودہ زمانہ میں جمہوری طرز فکر کو بادشاہی طرز فکر پر اجتماعی ملکیت کے نظریہ کو انفرادی ملکیت کے نظریہ پر اور طبیعی علوم (سائنس) کو فلسفیانہ علوم پر حاصل ہوا ہے۔
قرآن کا یہ بیان دور اول میں مکمل طور پر واقعہ بن چکا ہے۔ اسلام کے ظہور نے دوسرے تمام مذاہب پر سایہ ڈال دیا۔ اس وقت جو ادیان رائج تھے ـــــ بت پرستی، پارسیت، یہودیت، عیسائیت، سب کے سب خود اپنے پیروؤں کی نظر میں اس طرح بے وزن ہو گئے کہ ان کی بہت بڑی اکثریت اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ایشیا اور افریقہ کے جن ممالک کو آج مسلم ممالک کہا جاتا ہے، وہ سب نزول قرآن کے وقت غیر مسلم قوموں کی آبادیاں تھیں۔ مگر اسلام کے برتر فکر نے ان کو اس طرح متاثر کیا کہ وہ اپنے مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کے سایہ
اسلام کی یہ برتری موجودہ زمانہ میں واقعہ نہ بن سکی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اس کو برتر بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ہماری تحریکیں زیادہ تر دوسروں سے سیاسی زور آزمائی میں مصروف رہیں ۔ دوسروں کے اوپر اسلام کے فکری اظہار کی جد و جہد نہ کی۔ یہ جد و جہد اگر آج سے ہونے لگے تو آج ہی سے اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے ۔
ایک شخص نماز کے لئے مسجد روانہ ہوا راستہ میں کسی سے اس کا ٹکراؤ ہوگیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا، یہاں تک کہ جماعت کی نماز ختم ہوگئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ان کو اسلام کی مثبت دعوت کے لیے اٹھنا تھا۔ مگر وہ بعض سیاسی شکایات سرمتاثر د کو کھودوں اور قلم اور سانی جنگ رب زم مصروف ہونے