Al-Risala · August 1980

مومن اللہ میں جیتا ہے

Al-Risala, August 1980, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک چھوٹے بچے کے لئے سب کچھ اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے والدین میں جیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اللہ میں جینے لگے۔ اس کی یادوں میں اللہ بسا ہوا ہو۔ اس کو ڈر لگتا ہو تو اللہ کا ڈر لگتا ہو، اس کے اندر محبت کے جذبات امڈتے ہوں تو اللہ کے لئے امڈتے ہوں۔ وہ جو کچھ کرتا ہو اللہ کے لئے کرتا ہو۔ وہ اللہ کو اپنے اوپر نگراں بنائے ہوئے ہو۔

لوگ عام طور پر دوسری دوسری چیزوں میں جیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو کبھی چین حاصل کوئی کسی انسانی شخصیت میں جی رہا ہے۔ کوئی دنیا کی رونقوں میں جی رہا ہے۔ اپنے بیوی، بچوں میں جی رہا ہے۔ کوئی دولت اور عزت کی طلب میں جی رہا ہے۔ اسی طرح کوئی ہے جو کسی کی دشمنی میں جی رہا ہے۔ کوئی کسی کو اکھاڑنے اور برباد کرنے کی سازشوں میں جی رہا ہے۔ کوئی کسی کو بے عزت کرنے کے منصوبوں میں جی رہا ہے۔ یہ سب جینے کے باطل طریقے ہیں ۔ یہ بے حقیقت چیزوں میں جینا ہے۔ یہ ایسی چیزوں میں جینا ہے جو فانی بھی ہیں اور خدا کی کائنات میں بے جوڑ بھی۔ اس لئے ایسی چیزیں آدمی کو نہ سچا سکون دے سکتی ہیں اور نہ یہی ممکن ہے کہ وہ آدمی کو اس خدائی راستہ پر چلا سکیں جو کسی کے لئے منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ ایک ایسی دنیا جہاں تمام چیزیں خدا میں جی رہی ہوں، کوئی شخص اپنے لئے جینے کا دوسرا سہارا تلاش کرے تو وہ ایسا جھوٹا سہارا ہوگا جو اس کے کسی کام آنے والا نہیں۔ جب آدمی خدا میں جینے لگے تو اس کے اندر ایک نیا انسان ابھرتا ہے۔ اب اس کو بولنے سے زیادہ چپ رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ اس کو سرکشی کے بجائے اعتراف میں لذت ملتی ہے۔ اس کو شکایت کے موقع پر معاف کر دینے میں سکون ملتا ہے۔ اس کو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرکے راحت حاصل ہوتی ہے۔ امتیاز کے مقام پر بیٹھنے سے زیادہ خوشی اس کو اس وقت ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے کو عجز کے مقام پر بیٹھا ہوا دیکھے۔

Printed page