الرسائل، اگست ۱۹۸۰ء
Al-Risala, August 1980, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد ل اور ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے۔ اور اللہ نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم کروگے اور زکوٰۃ ادا کروگے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤگے اور ان کی مدد کروگے اور اللہ کو قرض حسن دوگے تو میں تم سے تمہارے گناہ ضرور دور کردوں گا اور تم کو ضرور ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس تم میں سے جو شخص اس کے بعد انکار کرے گا تو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ پس ان کی عہدشکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کردی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو۔ بجز تھوڑے لوگوں کے۔ ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۱۲-۱۳ بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبر کی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا عہد لیا گیا اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سرداران کی نگرانی کے لئے مقرر کئے گئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیا گیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعہ اپنے کو اللہ والا بنائیں۔ وہ زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں۔ پیغمبروں کا ساتھ دے کر وہ اپنے کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا اثاثہ خرچ کریں۔ ان کاموں کی ادائیگی اور اپنے درمیان ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ خدا کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ خدا ان کا ساتھی ہو۔ وہ ان کو پاک صاف کر کے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہوسکیں۔ جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے نہ کہ کسی قسم کے نسلی تعلق سے۔
اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو خدا اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ کے دائیں یا بائیں مڑ جاتی ہیں۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق بحثیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کر لئے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا کئے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوت حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنی قسم کے دنیوی ہنگامے جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں اور انھیں کو دین کے لئے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے دنیوی مصالح کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو خدا اپنی توجہ اس سے ہٹالیتا ہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، ان سے ہم نے عہد لیا تھا۔ پس جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ پھر ہم نے قیامت تک کے لئے ان کے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ اور آخر اللہ ان کو آگاہ کر دے گا اس سے جو کچھ وہ کر رہے تھے ۱۴ آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے ممحکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میں رسوائی کی صورت میں۔ مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا "میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں" اب حضرت مسیح کے بارہ میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہ راست طور پر معلوم ہوتا ہے۔ صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ " انسان وہ ہے جو کسی باپ کا مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لئے وہ خدا کے بیٹے تھے" پہلی رائے کی بنیاد خود مسیح کا حکم اور مستند قول ہے اس لئے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہوگا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لئے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہو جائے گا، جیسا کہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔
آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہو جاتی وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہیں۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروازہ کھل جاتا فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا ورسول نے جو کھلے ہوئے احکام دئے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئی نئی بحثیں نکالتے ہیں۔ کبھی زمانہ کے خیالات سے متاثر ہو کر کبھی اپنی دنیوی خواہشوں کو دینی جواز عطا کرنے کے لئے۔ کبھی بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لئے اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃ دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخران کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلاف کا ور ثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کر دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیونکہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔
اے اہل کتاب ، تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے۔ وہ کتاب الہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن کو تم چھپاتے تھے۔ اور وہ در گزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ بے شک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ہے۔ پھر کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اہل کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کر دیا ۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لئے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لئے بالکل کافی تھی ۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی انھیں۔ طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑ لیا۔
قرآن ان کے لئے ایک نعمت بن کر آیا۔ اس نے ان کے لئے دین خداوندی کی " تجدید کی ۔ ان کو اس اندھیرے سے نکالا کہ وہ ایسے راستہ پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہے ہیں ، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔ قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیر ضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کر لیا تھا اس سے انھیں آزاد کر دیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اور جن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل تھیں لوگوں کے ذہن کا جزو بنتی ہے جو اس کے لئے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں ۔
خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کر سکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہو سکتی ہیں ۔