تذکیر القرآن المائدہ ۵
Al-Risala, August 1980, pp. 10–32
By Maulana Wahiduddin Khan
اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گنا ہوں پر تم کو سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، وہ تم کو صاف صاف بتا رہا ہے رسولوں کے ایک وقفہ کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ پس اب تمہارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرا نے والا آ گیا ہے اور اللہ ہر چیز پر 19 - ۱۸ جو قوم کتاب اور پیغمبر کی حامل بنائی جائے اور وہ اس کو ماننے کا ثبوت دیدے تو اس پر خدا کی بہت سی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ مخالفین کے مقابلہ میں خصوصی نصرت، زمین پر اقتدار، مغفرت اور جنت کا وعدہ، وغیرہ ۔ قوم کے ابتدائی لوگوں کے لئے یہ ان کے عمل کا بدلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو خدا کے حوالے کیا اس لئے خدا نے ان پر اپنی نعمتیں برسائیں۔ مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے اب ان کے لئے سارا معاملہ قومی معاملہ بن جاتا ہے۔ اولین لوگوں کو جو چیز عمل کے سبب سے ملی تھی، بعد کے لوگ قومی اور نسلی تعلق کی بنا پر اپنے کو اس کا مستحق سمجھ لیتے ہیں۔ وہ یقین کر لیتے ہیں کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں اور وہ خواہ کچھ بھی کریں خدا کی نعمتیں ان کو مل کر رہیں گی۔ حامل کتاب قوموں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کی خاطر خدا نے ان کے لئے یہ خصوصی قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ان کی جزا کا آغاز اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ اسی موجودہ دنیا میں دیکھ سکتے ہیں کہ آنے والی دنیا میں ان کا خدا ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اگر وہ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غالب آ رہے ہوں تو وہ خدا کے مقبول گروہ ہیں اور اگر ان کے دشمن ان پر غلبہ پالیں تو وہ خدا کے نا مقبول کوئی حامل کتاب گروہ کثرت تعداد کے باوجود اگر دنیا میں مغلوب اور ذلیل ہو رہا ہو تو اس کو ہرگز یہ امید نہ رکھنا چاہئے کہ آخرت میں وہ سربلند اور باعزت رہے گا۔
کسی قوم کو بحیثیت قوم کے خدا کا محبوب سمجھنا سراسر باطل خیال ہے۔ خدا کے یہاں فرد فرد کا حساب ہوتا ہے نہ کہ قوم قوم کا۔ ہر آدمی جو کچھ کرے گا اسی کے مطابق وہ خدا کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ہر آدمی اللہ کی نظر میں بس ایک انسان ہے، خواہ وہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہو یا اُس قوم سے۔ ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ امتحان کی دنیا میں اس نے کس قسم کی کارکر دگی کا ثبوت دیا ہے۔ جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں۔ اللہ کے فیصلہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اٹھاتا ہے جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کو جہنم سے ڈراتے ہیں اور جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ اسی بشیر و نذیر کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے نہ کہ کسی اور طریقے سے۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے ا اے میری قوم، اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تمھارے اندر نبی پیدا کئے۔ اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ دیا جو دنیا پس کسی کو نہیں دیا تھا۔ اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لئے لکھ دی ہے۔ اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لوٹو ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے ۔ انھوں نے کہا کہ وہاں ایک زبردست قوم ہے۔ ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔ دو آدمی جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، انھوں نے کہا کہ تم ان پر حملہ کر کے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں ہیں۔ میں تم اور تمھارا خداوند دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور اس کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے ۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے ۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب ہے کہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہو سکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کر کے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک دئے جائیں گے ۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طور پر نہیں دیا جاتا اس کے لئے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے ۔
بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتیٰ کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے ۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لئے تیار نہ ہوئی ۔ حتیٰ کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا ۔ جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لئے قربانی نہ دے تو گویا کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے ، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے ۔
موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کردے۔ اللہ نے کہا: وہ ملک ان پر چالیس سال کے لئے حرام کردیا گیا۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو ۲۴ - ۲۵ بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہو جاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالؤ گے ۔ بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا کہ وہ چالیس سال (۴۰۔ تک فاران اور شرقی اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ۲۰ سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ اس دوران ان کی نئی نسل نئے حالات میں پرورش پا کر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ۴۰ سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکز ختم ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام و فلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہو جاؤ۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے ، مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا ۔ بچوں میں یہ طاقت اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ کے باپ جن پر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔
موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کر کے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لئے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طور پر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفا کشی اور حقیقت پسندی پیدا کر دی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں ۔ کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لئے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ سناؤ۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اس نے کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا کہ اللہ تو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ توہی لے لے پھر تو آگ والوں میں شامل ہو جائے ۔ اور یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔ اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں ۔ آدم کے بیٹوں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لئے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر قابیل نے بھی اپنی بھیڑ بکریوں میں سے کچھ اللہ کے لئے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا اور وہ خدا کی برکت پانے سے یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لئے حسد پیدا ہو گیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمہاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے ۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے : وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے : یہ کہ جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کر دے۔
ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھاؤ ، میں تمہارے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے در پے ہو جائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے ۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کر کے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرے کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں ۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق کئے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔
دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے در پے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔
پھر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر راضی کر لیا اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ پھر وہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو گیا۔ پھر خدا نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین میں کریدتا تھا تاکہ وہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ اس نے کہا افسوس میری حالت پر کہ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔ پس وہ بہت شرمندہ ہوا ۳۱۔ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لئے کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلنا اور اس کے نقصان کے درپے ہونا یا خدا کے منصوبہ کو باطل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا آدمی اگر چہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایک حد تک عمل کرنے کا موقع پاتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں وہ بدترین مجرم ہے۔ ہابیل نے اپنے بڑے بھائی کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی ۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ واقعی بلا سبب اپنے بھائی کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مگر اس کا حسد کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہو سکا۔ اس نے اپنے ذہن میں ایسے عذر ات گھڑ لئے جو اس کے لئے اپنے بھائی کے قتل کو جائز ثابت کر سکیں۔ اس کی اندرونی کش مکش نے بالآخر خود ساختہ توجیہات میں اپنے لئے تسکین تلاش کر لی اور اس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا ۔ ضمیر کی آواز خدا کی ۔ ضمیر کے اندر کسی عمل کے بارے میں سوال پیدا ہونا آدمی کا امتحان کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اگر آدمی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہے تو وہ کامیاب ہوا۔ اور اگر اس نے جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر ضمیر کی آواز کو دبا دیا تو وہ ناکام ہو گیا۔
حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحم ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتی ہے (ما من ذنب اجدر ان یجعل اللہ عقوبتہ فی الدنیا مع ما ید خر لصاحبہ فی الآخرة من البغی و قطیعة الرحم) قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ جو ناحق ظلم کیا تھا اس کی سزا اس کو نہ صرف آخرت میں ملی بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہو گیا۔ مجاہد اور جبیر تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا، یہاں تک کہ اسی حال میں ذلت اور تکلیف کے ساتھ مر گیا (ابن کثیر) قابیل کو کوے کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کر دے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستہ کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں۔ نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ جرم سے پہلے اگر آدمی جرم کے ارادہ کو اپنے سینہ میں دفن کر دے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے، اس کو دل سے باہر اگر واقعہ نہ بننے دے۔ برے احساس کو دل کے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اس نے اس کو باہر نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی لاش کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لئے پیدا ہو جائے گا جو دفن ہو کر بھی خدا کے یہاں دفن نہیں ہوتا۔
اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیاد تیاں کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کے لئے دوڑتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں یا ان کو ملک سے باہر نکال دیا جائے۔ یہ ان کی رسوائی دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہیں مگر جو لوگ توبہ کر لیں تمھارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہو گئی ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا ہمارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرہ میں ہے کہ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سبب سے بڑے دشمن ہیں۔
خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کر رہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہے۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتی طور پر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا اور رسول سے جنگ کریں۔ اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کو مفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ کے لئے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔
اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ہے اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور ہو تاکہ وہ اس کو فدیہ میں دے کر قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹ جائیں تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر وہ اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کے لئے ایک مستقل عذاب ہے۔ اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تو اللہ بے شک اس پر توجہ کرے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے معاف کر دے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بندے کے لئے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتا ہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں ہربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے، اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقوی اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی انا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی انا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کر کے خدا کو پکڑے ۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّیات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص تقوی اور جہاد کے راستہ پر چلنے کے لئے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پا سکے گا۔
جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کرے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زور پر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لئے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے یم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔
مدینہ میں اندرونی طور پر دو قسم کے لوگ اسلامی دعوت کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایک منافقین ، منافقین وہ لوگ تھے جو ظاہری اور نمائشی اسلام کو لئے ہوئے تھے۔ سچے اسلام کی دعوت میں ان کو اپنے اغراض ومفادات پر زد پڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ یہود وہ لوگ تھے جو مذہب کی نمائندگی کی گدیوں پر بیٹھے ان کو محسوس ہوتا تھا کہ اسلامی دعوت ان کو ان کے برتری کے مقام سے نیچے اتار رہی ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ سچے اسلام کی دعوت کو اپنا مشترک دشمن سمجھتے تھے۔ اس لئے اسلام کے خلاف مہم چلانے میں دونوں ایک ان کے بڑے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ خود نہ آتے ۔ البتہ ان کے چھوٹے اس پر لگے ہوئے تھے کہ وہ آپ کی باتوں کو سنیں اور ان کو اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔ یہ لوگ اس کو الٹے معنی پہناتے اور آپ کو اور آپ کی تحریک کو بدنام کرتے ۔ ان کی سرکشی نے ان کو ایسا ڈھیٹ بنا دیا تھا کہ وہ اللہ کے کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کر اس سے اپنا مفید مطلب مفہوم نکالنے سے بھی نہ ڈرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو خدا اور رسول کے تابع نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ جو بات اپنے ذوق کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو بات ذوق کے مطابق نہ ہو اس کو چھوڑ دو۔ یہ مزاج کسی آدمی کے لئے سخت فتنہ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ حق کے مقابلہ میں مفاد اور مصلحت کو ترجیح دیں، جو ہر حال میں اپنے کو بڑائی کے مقام پر دیکھنا چاہیں، جو حق کو زیر کرنے کے لئے اس کے خلاف تخریبی سازشیں کریں، حتیٰ کہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرنے کے لئے خدا کے کلام کو بدل ڈالیں، ایسے لوگوں کی نفسیات بالآخر یہ ہو جاتی ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے خدا کا ساتھ چھوڑا ، اس لئے خدا نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر باطل مشغلوں میں لگے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آگ کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ کا جو بندہ اللہ کے سچے دین کا پیغام لے کر اٹھا ہو اس کو مخالفتوں کی وجہ سے بے ہمت نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسے لوگوں کی سرگرمیان حقیقہ داعی کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہیں۔ اس لئے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔ عمل سے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ اصل بات سے بخوبی طور پر لوگوں کو آگاہ کر دیا جائے ۔ اور یہ کام اللہ کی مدد سے لازماً اپنی تکمیل تک پہنچ کر رہتا ہے۔
وہ جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں، حرام کے بڑے کھانے والے ہیں۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو خواہ ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا ان کو ٹال دو۔ اگر تم ان کو ٹال دو گے تو وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ کیسے تم کو حکم بناتے ہیں حالاں کہ ان کے پاس تو رات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے ۔ اور پھر وہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ۔ اور یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں ہیں ۔ حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز و اکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔
دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نا مقبول ہو جائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے ۔ وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لئے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔
یہود کے قائدین اِسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے ۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کر رہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز و اکرام تک ہر چیز نثار کر رہے تھے۔ حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچے کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہو گئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دلچسپی نہ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کر کے اس کو جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان و اسلام کا انکار کرنا ہے۔
بے شک ہم نے تورات اتاری ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق خدا کے فرماں بردار انبیاء یہودی لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے اور ان کے درویش اور علماء بھی۔ اس لئے کہ وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اور وہ اس کے گواہ تھے۔ پس تم انسانوں سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کو متاع حقیر کے عوض نہ بیچو۔ جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔ اور ہم نے اس کتاب میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلا ان کے برابر۔ پھر جس نے اس کو معاف کر دیا تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے۔ شخص اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا تصدیق کرتے ہوئے اپنے سے قبل کی کتاب تورات کی اور ہم نے اس کو انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے اور وہ تصدیق کرنے والی تھی اپنے سے اگلی کتاب تورات کی اور ہدایت اور نصیحت ڈرنے والوں کے لئے۔ اور چاہئے کہ انجیل والے اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں اتارا ہے۔ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا تو وہی لوگ نافرمان ہیں 44-47 - ۴۷ خدا کی کتاب اس لئے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگر یہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات و نزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے کو مسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔
قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کئے بغیر اس کا نفاذ کیا جائے۔ تا ہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کر دے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لئے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی نصاپید کرنے کا ذریعہ۔
اور ہم نے تمھاری طرف کتاب تمھاری حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی پچھلی کتاب کی اور اس کے مضامین پر پس تم ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا ۔ اور جو حق تمھارے پاس آیا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو ۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر اللہ نے چاہا کہ وہ اپنے دئے ہوئے حکموں میں تمھاری آزمائش پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو آگاہ کر دے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کر رہے تھے ۴۸ یہاں ”کتاب“ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور نہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف انبیاء کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ نہیں کہ دین کے اتارنے میں کوئی ارتقائی ترتیب ہے۔ یعنی پہلے کم ترقی یافتہ اور غیر کامل دین اتارا گیا اور اس کے بعد زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ کامل دین اترا۔ اس فرق کی وجہ خدا کی حکمت ابتلا ہے نہ کہ حکمت ارتقار۔ قرآن کے مطابق ایسا صرف اس لئے ہوا کہ لوگوں کو آزمایا جائے ۔ زمانہ گزرنے کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ دین کی اندرونی حقیقت گم ہو جاتی ہے اور ظواہر ورسوم مقدس ہو کر اصل بن جاتے ہیں، لوگ عبادت اس کو سمجھ لیتے ہیں کہ ایک خاص ڈھانچہ کو ظاہری شرائط کے ساتھ دہرالیا جائے۔ اس لئے ظاہری ڈھانچہ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ڈھانچہ کی مقصودیت کا ذہن ختم ہو اور خدا کے سوا کوئی اور چیز توجہ کا مرکز نہ بننے پائے۔ اس کی ایک مثال قبلہ کی تبدیلی بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کریں۔ یہ حکم صرف رخ بندی کے لئے تھا۔ مگر دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے ہی کا نام عبادت ہے۔ اس وقت سابقہ حکم کو بدل کر کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اب کچھ لوگ سابقہ روایت سے لپٹے رہے اور کچھ لوگوں نے خدا کی ہدایت کو اس طرح تبدیلی قبلہ سے یہ کھل گیا کہ کون درد دیوار کو پوجنے والا تھا اور کون خدا کو پوجنے والا (بقرہ ۱۴۳)۔ اب اس قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ ڈھانچہ کو نبی بدلتا ہے اور نبی اب آنے والا نہیں۔ تاہم جہاں تک اصل مقصود کا تعلق ہے وہ بدستور باقی ہے۔ اب بھی خدا کے یہاں اس کا سچا پرستار وہی شمار ہوگا جو ظاہری ڈھانچہ کی پابندی کے باوجود ظاہری ڈھانچہ کو مقصودیت کا درجہ نہ دے، جو ظواہر سے ذہن کو آزاد کر کے خدا کی عبادت کرے۔ پہلے یہ مقصد ظاہری ڈھانچہ کو توڑ کر حاصل ہوتا تھا اب اس کو ذہنی شکست و ریخت کے ذریعہ حاصل کرنا ہو گا۔
ظواہر کے نام پر دین میں جو جھگڑے ہیں وہ صرف اس لئے ہیں کہ لوگوں کی غفلت نے ان کو اصل حقیقت سے بے خبر کر دیا ہے۔ اگر حقیقت کو وہ اس طرح پالیں جس طرح وہ آخرت میں دکھائی دے گی تو تمام جھگڑے ابھی ختم ہو جائیں۔
اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور ان لوگوں سے بچو کہ کہیں وہ تم کو پھسلادیں تمہارے اوپر اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ اور یقیناً لوگوں میں سے زیادہ آدمی نافرمان ہیں۔ کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں ۵۰-۴۹ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتاب الہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ”الکتاب“ کہا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی تھا۔ تاہم پچھلی کتابوں کے حاملین بعد کے زمانہ میں ان کو ان کی اصلی صورت میں محفوظ نہ رکھ اس لئے خدا نے ایک کتاب مھیمن (قرآن) اتارا یہ خدا کی طرف سے اس کی کتاب کا مستند ایڈیشن ہے اور اس بنا پر وہ ایک کسوٹی ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جائے کہ بقیہ کتابوں کا کون سا حصہ اصلی حالت میں ہے اور کون سا دہ ہے جو بدلا جا چکا ہے ۔
یہود خدا کے سچے دین کے ساتھ اپنی باتوں کو ملا کر ایک خود ساختہ دین بنائے ہوئے تھے۔ اس خود ساختہ دین سے ان کی عقیدتیں بھی وابستہ تھیں اور ان کے مفادات بھی ۔ اس لئے وہ کسی طرح تیار نہ تھے کہ اس کو چھوڑ کر پیغمبر کے لائے ہوئے بے آمیز دین کو مان لیں۔ انھوں نے حق کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے لئے یہ طریقہ پسند کیا کہ وہ حق کے علم بردار کو اتنا زیادہ پریشان کریں کہ وہ خود ان کے آگے جھک جائے ، وہ خدا کے سچے دین کو چھوڑ کر ان کے اپنے بنائے ہوئے دین کو اختیار کر لے۔ خدا اگر چاہتا تو پہلے ہی مرحلہ میں ان ظالموں کا ہاتھ روک دیتا اور وہ حق کے داعی کو ستانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ مگر اللہ نے انھیں چھوٹ دی کہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو بروئے کار لاسکیں۔ اس لئے ہوا تاکہ یہ بات پوری طرح کھل جائے کہ دین داری کے یہ دعوے دار سب سے زیادہ بے دین لوگ ہیں ۔ خدا کے پرستار نہیں ہیں بلکہ خود اپنی ذات کے پرستار ہیں۔ اللہ کی یہ سنت اگر چہ حق کے داعیوں کے لئے بڑا سخت امتحان مگر یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا ۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چاہتا ہے ، اللہ کے حکم کا پابند بن کر رہنا اس کو گوارا نہیں ہوتا ۔ حتیٰ کہ دین خداوندی کی خود ساختہ تشریح کر کے وہ اس کو بھی اپنی خواہشوں کے سانچہ میں ڈھال ایسی حالت میں بے آمیز دین کو وہی لوگ قبول کریں گے جو چیزوں کو خواہش کی سطح پر نہ دیکھتے ہوں بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہوں ۔ اللہ کی بات بلاشبہ صحیح ترین بات ہے ۔ مگر موجودہ آزمائشی دنیا میں ہر سچائی پر ایک شبہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پردہ کو پھاڑ کر اس پر یقین کرے ، وہ غیب کو شہود میں دیکھ لے۔ جو شخص ظاہری شبہات میں اٹک جائے وہ ناکام ہو گیا اور جو شخص ظاہری شبہات کے غبار کو پار کر کے سچائی کو پالے وہ کامیاب رہا۔
اے ایمان والو ، یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور تم میں سے جو شخص ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔ اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ ان ہی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ تو ممکن ہے کہ اللہ فتح دیدے یا اپنی طرف سے کوئی خاص بات ظاہر کرے۔ تو یہ لوگ اس چیز جس کو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو زور شور سے اللہ کی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ گھاٹے میں رہے ۵۳ - ۵۱ عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف ملک کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ ملک کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوں پر بٹھارکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ ہم کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں ۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہو تو یہود و نصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لئے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کر رہے تھے ، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہو تو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے ، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔
کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لئے اس کو کسی قسم کی قربانی ایسے مواقع پر آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لئے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کی محبت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان و مال خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر اسلامیت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر اسلامیت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کر لیا۔
دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کر کے ارادہ کا ثبوت دے ، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھادے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے ، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ خدا ایک طرفہ طور پر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔