روزہ کس کے لئے
Al-Risala, August 1980, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ بقرہ رکوع ۲۳ میں رمضان کے روزوں کا بیان ہے۔ روزہ کے احکام بتاتے ہوئے درمیان میں ارشاد ہوا ہے : اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں۔ والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ پس چاہئے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ امید ہے کہ وہ بھلائی کو پالیں گے (بقرہ ۱۸۶) گویا خدا سے پانے کے لئے بندہ کو بھی خدا کو کچھ دینا ہے۔ روزہ اسی ”دینے“ کے عمل کی ایک علامت ہے۔ روزہ میں آدمی خدا کی خاطر اپنا کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے جو آدمی کی آخری سب سے بڑی یہ اس بات کا ایک سبق ہے کہ دنیا کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ اپنے رب کے سامنے پیش کرنا ہے اس کا سلسلہ ناگزیر ضروریات تک پہنچتا ہے۔ روزہ یہ پیغام دیتا ہے کہ آدمی خود ”بھوکا“ رہ کر اپنی متاع کو خدا کے حضور نذر کردے ۔
روزہ عمل کا خاتمہ نہیں بلکہ عمل کا آغاز ہے۔ روزہ دار کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اللہ کے لئے وقف کردے۔ اس کو اپنے بیوی بچوں کی امنگوں میں کمی کرکے دین کے تقاضے پورے کرنا ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی یہاں تک مختصر کرنی پڑے کہ بہت سی ضروری چیزوں سے اس کے لئے ”فاقہ“ کرنے کی نوبت آجائے۔ اگر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو وہ سب کچھ ملے جو خدا کے پاس ہے تو اس کو بھی وہ سب کچھ دینا پڑے گا جو اس کے پاس ہے۔ ”سب کچھ“ دے کر ہی سب کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جس طرح رمضان کے مہینہ میں خدا روزہ کے لئے پکارتا ہے اسی طرح سال بھر اس کی پکار بلند ہوتی رہتی ہے۔ آدمی کے سامنے ناجائز کمائی کی صورتیں آتی ہیں، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ اے میرے بندے ناجائز کمائی کو چھوڑ کر جائز کمائی پر قناعت کر کسی بھائی کے خلاف اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑکتی ہے، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے تو اس کو معاف کردے۔ حق کو ماننے میں مفاد یا عزت نفس کا سوال رکاوٹ بنتا ہے ، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے تو کسی مصلحت کی پروا کئے بغیر حق کو مان لے۔ اسی طرح زندگی کے ہر موقع پر خدا اپنے بندوں کو پکارتا ہے۔ اب جو شخص ان مواقع پر وہی کرے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے تو اس نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔ اسی کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے (بقرہ - ۱۸۳)
روزہ کا عمل اللہ کو بڑا بنانا ہے (بقرہ ۱۸۵) کی ایک علامت ہے۔ اللہ کے حکم سے آدمی اپنے ایک ایسے تقاضے پر پابندی لگا لیتا ہے جو اس کی زندگی کا سب سے زیادہ ضروری تقاضا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا عہد ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا ”کبیر“ اور اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں ”صغیر“ بنائے گا۔
یہی تکبیر ہے جو زبان سے اللہ اکبر کی صورت میں نکلتی ہے اور عمل سے اپنی انا کو ختم کر دینے کی صورت آدمی کی پوری زندگی اس بات کا امتحان ہے کہ وہ کس کو بڑا بناتا ہے، خدا کو یا اپنے آپ کو۔ بڑا بنانے والے کے اندر گھمنڈ کی نفسیات پرورش پاتی ہیں اور خدا کو بڑا بنانے والے کے اندر تواضع کی جو شخص خدا کو اپنا بڑا بنائے اس کے اندر سے انانیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی پوری ہستی خدا کے آگے جھک جاتی ہے۔ خدا کی عظمت کا تصور اس کے اوپر اتنا چھا جاتا ہے کہ اپنی ہستی اس کو بالکل بے قیمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ ایسے شخص نے جب کسی کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ "عبد" کی طرح اس سے معاملہ کرتا ہے نہ کہ "معبود" کی طرح۔ وہ خدا کے بندوں کے مقابلہ میں سرکشی نہیں دکھاتا۔ وہ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا ، اس کو دولت یا عہدہ یا حیثیت کا کوئی حصہ مل جائے تو وہ اپنے کو دوسروں سے بڑا نہیں سمجھتا۔ اللہ کو اپنا بڑا بنانا اللہ کے سامنے ذکر اور عبادت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور بندوں کے سامنے تواضع اور بے نفسی کی صورت میں۔
روزہ ایک ایسا تجربہ ہے جو بالاخر " افطار " تک پہنچاتا ہے۔ بھوک کا لمبا وقفہ گزار کر آدمی اپنے آپ کو کھانے اور پانی سے سیراب کرتا ہے۔ اس طرح وہ خدا کی نعمتوں کے بارے میں اپنے اندر شکر کے احساس (بقرہ ۱۸۵) کو جگاتا ہے۔ وہ عمل کی زبان میں اپنے آپ کو بتاتا ہے کہ خدا کی وہ عنایات کتنی بڑی ہیں جو روزانہ اس کو خدا کی طرف سے ملتی رہتی ہیں۔ روزہ کے مہینہ میں قرآن کا اتارنا اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ قرآن بھی تمہارے لئے ایک خدائی افطار کا انتظام ہے تم ہدایت کے معاملہ میں بھوکے تھے۔ خدا نے اپنی نعمت ہدایت سے تم کو سیراب کیا۔
اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کو بہترین صلاحیتیں عطا کیں ۔ دنیا میں اعلیٰ ترین انتظام کر کے یہاں اس کو بسایا۔ اس کے لئے ایک ابدی جنت بنائی اور اپنی کتاب کے ذریعے پیشگی بتا دیا کہ اس جنت تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے ۔ جس خدا کے اتنے احسانات ہوں اس کے ساتھ آدمی کا تعلق ایسا ہونا چاہئے کہ اس کا تصور اس کی روح کو سرشار کر دے۔ اس کی یاد آتے ہی قلب و دماغ شکر کے سجدہ میں گر پڑیں۔ اس کی احسان مندی کے نغمے جاری ہوں۔ اس کی اندرونی ہستی اس کے احسانات کے اعتراف سے بھر جائے ۔ اس کی عملی زندگی ایسی گزرے گویا کہ وہ خدا کے انعام و احسان کی بارش میں نہائی ہوئی ہے ۔ تقویٰ اور تکبیر اور تشکر کا یہ ثبوت جو بندے کو دینا ہے وہ بہت بڑی قیمت مانگتا ہے، وہ اپنے نفس اور مفادات کی قربانی ہے۔ اس پر آدمی اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب کہ اس کا ایمان اس کے لئے حقیقی معنوں میں یقین و اعتماد کے ہم معنی بن گیا ہو۔