عقلیت کا فریب
Al-Risala, August 1980, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک سوال میں الجھ گیا ہوں، ایک صاحب نے کہا، آپ اس کو حل کیجئے ۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ اسلام کی صداقت کے بارے میں میرا یقین ختم نہ ہو جائے ۔ ان کا سوال موت کے بعد آنے والے انجام سے متعلق تھا۔ نے کہا کہ اسلام کے مطابق آدمی کے مرنے کے بعد ہی اس کا اخروی انجام شروع ہو جاتا ہے۔ اب ایک شخص آج پیدا ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو دس ہزار سال پہلے پیدا ہوا۔ دونوں پچاس پچاس سال زندگی گزارتے ہیں اور اس کے بعد کرا اپنی آخرت میں پہنچ جاتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق ان میں سے ایک شخص دس ہزار سال پہلے سے اپنا انجام پا رہا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کا اخروی انجام دس ہزار سال بعد آج سے شروع ہو گا۔ یہ آخر کون سا
میں نے کہا کہ اس مسئلہ کو سمجھنا نا ممکن نہیں۔ مثلاً جدید نظریہ اضافیت نے زمان و مکان کے تصور کو ختم کر دیا ہے۔ ماضی اور مستقبل کی تقسیم در اصل ہماری ذہنی محدودیت کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم اپنی ذہنی حد بندیوں سے آزاد ہو جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس قسم کی تمام تقسیمات بالکل اضافی تھیں۔ اس کا ایک تجربہ وہ ہے جو ہر آدمی کو خواب میں ہوتا ہے۔ خواب میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سالوں کے اندر گزرنے والے واقعات کو ایک لمحہ میں دیکھ لیتا ہے۔ خواب کی دنیا میں دور اور قریب، ماضی اور مستقبل کی کوئی تقسیم نہیں۔ تاہم اصل بات یہ ہے کہ ان سوالات میں الجھنا اصولی طور پر درست نہیں۔ اس قسم کے سوالات سوالات نہیں ہیں بلکہ موشگافیاں ہیں۔ اور آدمی اگر موشگافیوں میں پڑ جائے تو ان کا کبھی خاتمہ نہیں ہوتا یہ سوچنے کا یہ انداز صرف بھٹکانے والا ہے۔ آدمی اگر اس قسم کے سوالات کے حل پر اصرار کرے تو نہ وہ دنیا میں کوئی کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور نہ آخرت میں۔
میں نے کہا کہ آپ دنیوی حیثیت سے ایک کامیاب آدمی ہیں۔ یہ کامیابی آپ نے اپنی محنت سے حاصل کی ہے آپ کو معلوم ہے کہ آپ سے پہلے کے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ پیدا ہوئے اور انھوں نے دنیوی کامیابیاں اب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آپ سے پہلے پیدا ہونے کی وجہ سے ان کو زیادہ موقع ملا۔ بے حد سستی زمینیں خرید لیں۔ ان کو ہر قسم کا سامان بہت کم قیمت میں مل گیا۔ آجکل کی سیاست اور قانونی الجھاؤں کے وجود میں آنے سے پہلے انھوں نے اپنی زندگیاں بنا لیں۔ مذکورہ سوال کی طرح یہاں بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان کے حالات اور دوسرے انسان کے حالات میں یہ فرق کیوں ۔ جب تک اس سوال کا جواب نہ ملے میں کوئی معاشی کام نہیں کروں گا۔ مگر یہاں آپ ان موشگافیوں میں نہیں پڑتے۔ بلکہ ایک عملی انسان کی طرح پہلا موقع ملتے ہی اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن جب اسلام کا اور آخرت کا معاملہ آتا ہے تو موشگافیاں کر کے سوالات پیدا کرتے ہیں اور ان کا جواب چاہتے ہیں۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ اس قسم کے تمام سوالات بالکل غیر فطری ہیں، موجودہ دنیا کا ڈھانچہ
حقائق کی بنیاد پربنا ہے۔ یہاں کامیابی اس کے لئے ہے جو ایک عملی انسان کی طرح حقائق کی پیروی کرے۔ موشگافیوں میں الجھے اس کے لئے یہاں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایک نوجوان نے بی اے کیا۔ مگر اپنے قریب اس کو کوئی ملازمت نہیں ملی۔ اس نے طے کیا کہ وہ باہر کے کسی شہر میں جائے اور وہاں اپنے لئے روزگار تلاش کرے۔ بالآخر ایک روز صبح کو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں بمبئی جا رہا ہوں۔ اب میں اس وقت تک نہیں آؤں گا جب تک اپنے لئے کوئی کام حاصل نہ کر لوں۔
دادی نے کہا آج شُبھ ساعت نہیں ہے۔ تم کو جانا ہی ہے تو کسی اور دن جانا۔ ماں نے کہا کہ آج کل ریلوے میں ایکسیڈنٹ کی خبریں آرہی ہیں، آج کل اتنا لمبا سفر کرنا ٹھیک نہیں۔ باپ نے کہا کہ بمبئی میں ان دنوں برسات کا موسم چل رہا ہے اور وہاں برسات کے موسم میں کام بہت کم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ آپ چلے جائیں گے تو محلہ کے لڑکے ہم کو ماریں گے۔ آپ کی وجہ سے وہ سب ڈرتے تھے۔ نوجوان اگر اپنے گھر والوں کی ان باتوں پر دھیان دیتا تو ان میں سے ہر بات اس کو سفر سے روکنے کے لئے کافی تھی۔ مگر اس نے ان میں سے کسی بات پر سرے سے غور ہی نہیں کیا۔ اس نے سب باتوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک بات اپنے سامنے رکھی: مجھے بمبئی جانا ہے اور وہاں اپنے لئے روزگار حاصل کرنا ہے۔ وہ سب کو سلام کر کے تیزی سے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور ٹرین میں سوار ہو کر بمبئی پہنچ گیا۔ بمبئی میں اس کو اتنے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے گھر والوں کے بدترین اندیشوں سے بھی کہیں زیادہ تھے۔ تاہم اس کے عزم اور اس کی جدوجہد نے مشکل آسان کردی۔ آج وہ ایک بڑی تجارتی فرم میں اعلیٰ عہدہ پر ہے اور اپنے گھر والوں کو لے کر ایک شان دار مکان میں کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ یہی مثال ہر معاملہ پر صادق آتی ہے حتیٰ کہ دینی معاملات پر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو کچھ اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ہر کام میں موافق امکان کے ساتھ ناموافق امکان چھپا ہوا ہے۔ ہر یقین کے ساتھ ایک شبہ کا پہلو لگا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ انسان کی عقل تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لئے قطعا ناکافی ہے۔ کوئی آدمی اگر اس پر اصرار کرے کہ وہ سارے پہلوؤں کو عقل کی گرفت میں لانے کے بعد اس کی طرف اقدام کرے گا تو ایسا شخص کبھی کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔ ہر آدمی کو لازماً یہ کرنا پڑتا ہے کہ کسی معاملہ میں جب وہ بنیادی پہلوؤں کے اعتبار سے مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اپنا دماغ غیر ضروری بحثوں میں نہیں الجھاتا۔ وہ بے شمار غیر حل شدہ پہلوؤں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ آدمی اگر ایسا نہ کرے تو موجودہ دنیا میں وہ کسی بھی قسم کا کوئی کام نہیں کر سکتا۔
یہی بات قرآن سے ہدایت لینے کے لئے بھی درست ہے۔ قرآن بلا شبہ ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں روشنی اور سکون ہے۔ مگر جو شخص قرآن کا طالب ہو اس کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ وہ آخرت کی دنیا میں نہیں اتری ہے بلکہ ہماری موجودہ دنیا میں اتری ہے جو امتحان اور آزمائش کی دنیا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے والا اپنی اس محدود عقل کے ساتھ اس کا مطالعہ کر رہا ہے جو موجودہ دنیا میں اس کو حاصل ہے نہ کہ اس عقل سے جو اس کو آخرت کے لامحدود عالَم میں
اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ ہے کہ قرآن میں آدمی کو اگر ایسی باتیں ملیں جو سمجھ میں آتی ہوں تو اسی کے ساتھ اس کے سامنے ایسی باتیں آئیں جو بظاہر سمجھ میں نہ آرہی ہوں ۔ اگر اس کو یقین کے صفحات پڑھنے کو ملیں تو اسی کے ساتھ وہ ایسے صفحات کبھی پڑھے جوکہ پردے والے ذہن کو بے یقینی میں مبتلا کرنے والے ہوں۔ اور موجودہ دنیوی حالات کی بنا پر ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیونکہ بھی تو آدمی کا امتحان ہے۔ دنیوی کامیابی اس بات کا امتحان ہے کہ وہ کون شخص ہے جو راستے کے "کانٹوں"، کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ کون شخص ہے جو "کانٹوں"، میں الجھ کر اپنے سفر کو چھوٹا کر لیتا ہے۔ اسی طرح اخروی کامیابی بھی اس بات کا امتحان ہے کہ حقیقی عقلمند اور جھوٹے عقلمند کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ حقیقی عقلمند وہ ہے جو بے فائدہ سوالات میں نہ الجھے اور تمام ناموافق باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھے۔ اس کے برعکس جھوٹا عقلمند وہ ہے جو بے فائدہ موضوعاتوں کو حل کرنے میں لگا رہے، جو اس پر اصرار کرے کہ وہ مکمل عقلی اطمینان کے بعد قرآن کو قرآن سمجھے گا۔ ایسا آدمی بھی قرآن کو نہیں پاسکتا۔ شبہات کے باوجود یقین کا درجہ حاصل کرنا ہی سی آدمی کو کامیاب بناتا ہے، موجودہ دنیا میں یہی اور آخرت کی دنیا میں بھی۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ موجودہ دنیا میں التباس (انعام ۹) کا قانون جاری ہے۔ حقیقتوں کو کھولنے کے باوجود ان کے اوپر شبہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شبہات میں نہ پڑے بلکہ عقل سے صحیح کام لیتے ہوئے حقائق کو اپنی روح کی غذا بنائے۔ اگر آدمی یہ اصرار کرے کہ شبہات کا پردہ اس کے لئے پھٹ جائے اور وہ "مکمل عقلی اطمینان"، کے ساتھ حقیقتوں کو پاسکے تو ایسا مکمل عقلی اطمینان یہاں کبھی ممکن نہ ہوگا۔ اس قسم کا عقلی اطمینان و تلاش کرنے والے کے لئے اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔ ایسے مزاج کے تحت یہاں نہ کوئی لادینی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی دینی کامیابی ۔ جو چیز خدا نے اپنی دنیا میں نہ بنائی ہو وہ آپ اس کی دنیا میں حاصل نہیں کر سکتے ۔ قدرت کے نظام سے صرف مطابقت کر سکتے ہیں ، اس کے خلاف اپنی راہ نہیں بنا سکتے۔
ایک طالب علم امتحان ہال میں بیٹھا ہوا ہے اس کے سامنے امتحان کا پرچہ آتا ہے، پرچہ میں ایک مسئلہ مبہم شکل میں وہ اس طرح واضح صورت میں درج نہیں جیسا کہ ایک باقاعدہ کتاب میں ہوتا ہے ۔ اب اگر وہ مطالبہ کرے کہ امتحان کا پرچہ مبہم شکل میں لینا مجھے منظور نہیں۔ میں تو اس کو اس وقت لوں گا جب کہ وہ مجھے کتاب کی کسی واضح صورت میں ملے تو ایسا مطالبہ کبھی منظور نہیں کیا جائے گا۔ قرآن کی مثال بھی جزئی طور پر اسی قسم کی ہے۔ قرآن بلاشبہ کتاب ہدایت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ ہمارے امتحان کا پرچہ بھی ہے۔ ہمیں قرآن سے رہنمائی بھی حاصل کرنا ہے اور اسی کے ساتھ یہ ثبوت بھی دینا ہے کہ ہم غیب کا پردہ باقی رہتے ہوئے خدا کو پاسکتے ہیں۔ شبہات کا غبار رہتے ہوئے بھی یقین کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ حقیقت سے دور ہوتے ہوئے بھی اس سے قربت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ آدمی کا امتحان ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو امتحان کس بات کا ہوگا۔