موت جب آتی ہے
Al-Risala, August 1980, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
اے دیو ۱۹۲۳ء میں شملہ میں پیدا ہوئے انھوں نئے نہایت محنت سے تعلیم حاصل کی ۔ انھوں نے آئی۔ اے ایس کا امتحان پاس کیا۔ وہ مزید تعلیم کے لئے برطانیہ بھی گئے ۔ اس کے بعد ان کو حکومت میں اچھی ملازمت مل گئی۔ جولائی ۱۹۷۹ء میں وہ اپنی اعلیٰ ترین ترقی کے منصب پر پہنچ گئے جب کہ ان کو ڈیفنس سیکرٹری کے عہدہ پر مقرر کیا گیا۔ مگر اس ترقی پر ان کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ10 اپریل ۱۹۸۰ء کو ۵۷ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ۱۱ اپریل کو مسٹر دیو کا جسم نگم بودھ گھاٹ پر اس وقت جلا دیا گیا جب کہ ہندوستانی فوج کے تینوں سپہ سالار ان کے اظہار عقیدت کے لئے گھاٹ پر موجود تھے۔ بری اور بحری اور ہوائی فوجوں کے اعلیٰ ترین افسران جو ساٹھ کروڑ انسانوں کے اس ملک پر کسی بھی حملہ کو پسپا کرنے کی پوری طاقت رکھتے تھے وہ اپنے حاکم اعلیٰ کو موت کے حملہ کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے بے بس ہو گئے ۔
اس سے بھیزیادہ عبرت ناک مثال وہ ہے جو سنجے گاندھی کے ساتھ پیش آئی ہے۔
۱۹۸۰ میں مرکزی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے سنجے گاندھی کی پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد عام طور پر سمجھا جانے لگا کہ اب سنجے گاندھی ہندوستان کے وزیر اعظم مگر وزارت عظمیٰ کی عین چوکھٹ پر پہنچ کر اچانک ۴۳ سال کی عمر میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ ۲۳ جون ۱۹۸۰ کی صبح ، کو سنجے گاندھی ایک نے امریکی ہوائی جہاز میں تفریحی سواری (Joy Ride) کے لئے نکلے۔ ان کا دو سیٹوں کا جہاز صفدر جنگ کے ہوائی اڈے سے اُڑ کر ابھی فضا میں پہنچا ہی تھا کہ اچانک اس کے انجن نے کام کرنا بند کر دیا اور دھماکہ کے ساتھ زمین پر گر پڑا۔ جہاز کے ملبہ سے اس کے دونوں مسافر (سنجے گاندھی اور کیپٹن سکسینا) مردہ اور کچی ہوئی حالت میں باہر نکالے گئے۔ سنجے گاندھی کو اپنے اوپر اتنا اعتماد تھا کہ حادثہ سے صرف ایک دن پہلے دہلی کے لفٹنٹ گورنر مسٹر جگ موہن کے ساتھ کار پر سفر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا : " پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ کار ہو یا ہوائی جہاز ، دھلیل پر اگر میں ہوں تو کچھ بھی نہیں ہوگا؟ ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اگلے دن آنے والی صبح صرف اس لئے آرہی ہے کہ ان کے اس اعتماد کی ہمیشہ کے لئے تردید کر دے ۔
اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۴ جون ۱۹۸۰) نے اس سلسلے میں جو اداریہ شائع کیا ہے اس میں اولاً ان شان دار امکانات کا ذکر کیا ہے جن کے بالکل کنارے سنجے گاندھی پہنچ تھے۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے : قسمت کی کیسی ستم ظریفی ہے کہ اس کے بعد وہ اتنی جلد مر جائیں :
What an irony that he should die so soon afterwards. آدمی دنیا میں جن کامیابیوں کے لئے اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے ان کے بے حقیقت ہونے کا یہی ایک کافی عین اس وقت جب کہ وہ اپنی ترقی کے عروج پر پہنچ چکا ہوتا ہے ، موت اس کے اور اس کی کامیابیوں
کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، گویا کہ وہ اس کا میابی کی نفی کر رہی ہو جس کو آدمی اپنے لئے کامیابی سمجھ کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
آدمی زندگی چاہتا ہے مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت ہے جو اس کا استقبال کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ ۲۴ جون کی شام کو ایک طرف شانتی ون میں سینچے کا ندھی کا مردہ جسم جلایا جا رہا تھا، دوسری طرف وہاں کھڑے ہوئے ان کے ہزاروں معتقدین یہ نعرہ لگا رہے تھے: