Al-Risala · August 1980

امتِ مسلمہ کی طاقت: اتحاد

Al-Risala, August 1980, pp. 30–42

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں تکمیل دین کی آیت کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ آج کفر کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، اب تم ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو (مائدہ ۳) یہ آیت حجتہ الوداع کے موقع پر10ھ میں نازل ہوئی۔ اس کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد کے بعد اسلام کی تاریخ جہاں پہنچ چکی ہے وہ اتنی مضبوط ہے کہ اسلام اب اپنی ذاتی بنیادوں پر قائم ہو گیا ہے۔ اب اسلام بیرونی خطرات کی زد سے نکل گیا ہے، اب اس کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے تو اندر کی طرف سے نہ کہ باہر کی طرف سے۔ مذکورہ آیت میں امتِ مسلمہ کے لئے اللہ کا یہ کھلا ہوا وعدہ ہے کہ اب اس کے لئے تشویش کی بات یہ نہیں ہے کہ اس کے اوپر اس کے دشمن غلبہ پا لیں۔ بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امت کے افراد میں اللہ کا ڈر باقی نہ رہے۔ اب مسلمانوں کے لئے کمزوری کی بات خوفِ خدا کا نہ ہونا ہے نہ کہ کسی خارجی قوت کے مقابلہ میں ان کا کمزور ہونا۔ یہ اعتقادی بات نہیں ہے بلکہ وہ معلوم حقائق پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے معاملہ کو اللہ نے یہاں تک پہنچایا کہ زمین کے بڑے رقبہ پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ وہ اس اندیشہ سے باہر نکل گئے کہ محض تعداد کی کمی کی وجہ سے وہ کسی کے مقابلہ میں شکست کھا سکیں۔ پاس بہترین اقتصادی خطے ہیں۔ انتہائی اہم فوجی مقامات پر ان کا قبضہ ہے۔ ہر قسم کی صلاحیتوں والے افراد رات دن ان کے یہاں پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کو ایک ایسی کتاب حاصل ہے جو ان کو ساری دنیا میں فکری برتری عطا کر سکے۔ ان کی تاریخ اتنی شان دار ہے جو قیامت تک ان کی نسلوں کو جوش و ولولہ کی خوراک دینے کے لئے کافی ہے۔

جس قوم کے پاس برتری کے اتنے اسباب جمع ہو جائیں باہر کی کوئی قوم اس کو زیر کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی، الا یہ کہ اس نے اپنی حماقت سے اپنے کو کمزور کر لیا ہو اور یہ حماقت دراصل اندرونی اختلاف ہے قوم کے افراد جب اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ انصاف کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ حسد اور بغض کی نفسیات سے پاک ہوتا ہے۔ اور جس معاشرہ کا یہ حال ہو اس میں باہمی اتحاد کے سوا کیا چیز جنم پائے گی۔ اس کے برعکس جب قوم کے افراد اللہ سے بے خوف ہو جائیں تو ہر ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی خود غرضی کے خول میں سمٹ جاتا ہے۔ بدخواہی، انتقام اور حسد سے پورا معاشرہ کھوکھلا ہو جاتا ہے ـــــــــــــ اللہ کا ڈر اتحاد کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب سے بڑی طاقت ہے۔ سے ڈر نہ ہو جانا اختلاف پیدا کرتا ہے اور جو قوم باہمی اختلافات کی شکار ہو جائے وہ لازماً کمزور ہو جاتی ہے خواہ اس کی تعداد بظا ہر کتنی ہی زیادہ ہو۔

دو مسلمان مل کر ایک کام شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد کسی وجہ سے دونوں میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ اب اگر دونوں خاموشی سے اپسے کام کو الگ کر لیں اور اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے الگ الگ میدان تلاش کر لیں تو اس سے معاشرہ میں کوئی خرابی یا کمزوری پیدا وہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جائے تو دونوں کے تعلقات میں فساد پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر معاشرہ کی کمزوری کا باعث ہوتا ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے یہاں نکاح کا پیغام دیتا ہے۔ دوسرا مسلمان کسی وجہ سے پیغام قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اب اگر پہلا مسلمان اس سے کوئی برا اثر نہ لے اور اپنے لئے کوئی دوسرا رشتہ ڈھونڈ لے تو معاشرہ کسی خرابی کا شکار نہیں ہوتا، اس کے برعکس اگر پہلے مسلمان کے اندر دوسرے مسلمان کے خلاف دشمنی کی آگ بھڑک اٹھے۔ دو اس کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کرے اور اس کی بربادی کے منصوبے بنائے تو وہ مسلمان خاندان نامعلوم مدت کے لئے ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے اور نتیجہ پورے معاشرہ میں بگاڑ پھیل ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عمارت میں کرایہ دار ہے۔ مالک مکان کو کرایہ دار سے کوئی شکایت ہو گئی ۔ اب اگر مالک مکان وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کرے تو دونوں کے تعلقات میں کوئی بگاڑ نہیں آئے گا اور ملت کا اتحاد قائم رہے گا۔ اس کے برعکس اگر مالک مکان یہ کرے کہ کرایہ دار کو اکھاڑنے کے لئے اس کو بدنام اس کے خلاف تخریبی منصوبے بنائے ۔ اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے تو یہ ملت کے قلعہ میں نقب لگانے کے ہم معنی ہو گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ لوگ کرایہ دار کا ساتھ دیں گے اور کچھ لوگ مالک مکان کا ۔ دو جتھوں میں بٹ جائے گی ۔ ملت کی جو طاقت ملت کی ترقی و استحکام میں لگتی وہ ملت کی بربادی میں صرف ہونے

یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ملت کے افراد ایک رویہ اختیار کر کے اپنے کو طاقت ور بناتے ہیں اور دوسرا رویہ اختیار کر کے اپنے کو اور بالآخر پوری ملت کو کمزور کرنے کا سبب بنتے اس قسم کی تمام کمزوریوں کی واحد وجہ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہونا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرنے تو وہ ایسے الفاظ اپنی زبان سے نہیں نکالے گا جو اللہ کے یہاں بے قیمت ہو جانے والے ہیں۔ وہ ایسے عمل نہیں کرے گا جو اللہ کی میزان میں جرم ثابت ہونے والے ہیں۔ ہر آدمی اپنی غلطی کو تسلیم کرنے گا۔ ہر آدمی دوسرے کو تکلیف دینے سے بچے گا اور جس معاشرہ میں یہ فضا ہو وہاں لازماً اتحاد فروغ پاتا ہے اور اتحاد ہی کا دوسرا نام طاقت ہے۔ آدمی دوسرے کی بربادی کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے پہلے کہ دوسرے کے خلاف اس کے ارادے پورے ہوں خود اس کی موت کا وقت آجائے گا۔ وہ دنیا سے اٹھا کر آخرت میں پہنچا دیا جائے گانہ ہاں اس کو جواب دینا ہوگا کہ خدا نے اس کو جو کچھ دیا تھا وہ خدا کی امانت تھا۔ اس کو کیا حق تھا کہ ان کو خدا کے بندوں کی بربادی کے لئے استعمال کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر صرف موت کو یاد رکھے تو نہ اس کی اصلاح کے لئے کافی ہو۔

آپ کس پیغام کے ساتھ بھیجے گئے ؟

ابو ثیح عمروبن عنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے بھی میرا یہ احساس تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں۔ بتوں کی پرستش جس میں وہ لگے ہوئے ہیں، اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ پھر میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو آسمانی باتیں بتاتا ہے، میں اپنی بیزاری پر بیٹھ کر وہاں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر بہت جری ہو گئی ہے۔ مکہ میں جب میں آپ سے ملاقات میں کامیاب ہو گیا تو میں نے پوچھا: ما انت ؟ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: انا نبٌّی (میں نبی ہوں) میں نے پوچھا نبی کس کو کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا مجھ کو اللہ نے بھیجا ہے: میں نے پوچھا کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا :

ارسلنی بصلۃ الارحام و کسر الاوثان مجھے کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ رشتوں کو جوڑا جائے وان توحید اللہ لا یشرک بہ شی (مسلم) اور بتوں کو توڑا جائے۔ اور اللہ کو ایک سمجھا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ۔

Printed page