وہ لوگوں کے اسلام کے سب سے زیادہ حریص تھے
Al-Risala, August 1980, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عبداللہ بن عباس قرآن کے بہت بڑے عالم تھے ۔ قرآنی مضامین کی گہرائیوں تک پہنچنے کی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ایک بار انھوں نے سورہ بقرہ کی تفسیر اپنے مخصوص انداز میں بیان کی۔ اس کو سن کر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا : لو سمع ھذا الذی لم لاسلمت (دیلم کے کفار بھی اگر اس کو سنیں تو ضرور اسلام قبول کر لیں ۔
آخرت کی بات رسول کے لیے اہم، ابولہب کے لیے غیر اہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوت عام کا حکم ہوا تو آپ نے صفا کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر مکہ والوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا : لوگو! میں تم کو آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہوں (انی نذیر لكم بين يدی عذاب شدید). ابولہب نے یہ سن کر کہا: تبا لك سائر اليوم اما دعوتنا الالهذا (سیرت ابن کثیر) سارے دن تیرا برا ہو، کیا یہی بات بتانے کے لئے تم نے ہم کو بلایا تھا۔