دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب
Al-Risala, August 1980, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، میرے لئے کوئی ایسی چیز ٹھہرا دیجیے جس کے ساتھ میں جیوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمزہ، کسی جان کو زندگی دینا تمہیں زیادہ پسند ہے یا کسی جان کو مار ڈالنا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کی جان کو زندگی دینا مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے فرمایا : تمہارے اوپر صرف تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔ (قال الامام احمد جاء حمزہ بن عبد المطلب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ اجعلنی علی شیئ اسیب بہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يا حمزہ نفس تحییھا احب الیک ام نفس تمیتھا قال بل نفس احییھا قال عليك بنفسك، تفسیر ابن کثیر جلد اول صفحه ۵۱۰)
کشادہ چہرہ کے ساتھ ملو اور نرم بات بولو ۔
ابن عمر رضی نے کہا: نیکی آسان ہے ۔ کشادہ رو اور نرم بات (برشیء ھین: وجه طلق و کلام لین)