جو خدا کو پالے اس نے سب کچھ پالیا
Al-Risala, January 1980, pp. 4–7
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص "سیب" کھائے۔ مگر سیب کے کھانے سے اس کو نہ کوئی مزہ ملے اور نہ وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر اس کو طاقت دے تو کہا جائے گا کہ اس نے سیب نہیں کھایا، اس نے سیب کی شکل کی کوئی چیز چبائی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ خدا کا بھی ہے۔ خدا کو پانا وہی پانا ہے جو آدمی کے لئے مزہ بن جائے۔ جب "خدا" کو پا کر بھی آدمی مزہ سے خالی رہے تو کہنا چاہیے کہ اس نے خدا کو اس نے کوئی اور چیز پائی ہے اور غلطی سے اس کو خدا سمجھ رہا ہے۔ وہ مٹی کا سیب چبا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں حقیقی سیب کھار ہا ہوں ۔
دنیا اپنی ابتدائی شکل میں صرف ایک قسم کا مادہ ہے۔ ساری دنیا ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ بالفاظ دیگر ساری دنیا بے روح مادہ ہے، اس بے روح مادہ کو خدا بے شمار صورتوں میں جلوہ گر کر رہا ہے۔ اس بے روح مادہ سے خدا کہیں روشنی پیدا کر رہا ہے اور کہیں حرارت، کہیں وہ اس بے روح مادہ کو ہریالی میں تبدیل کر رہا ہے اور کہیں پانی کی روانی میں، کہیں وہ اس بے روح مادہ کو رنگ کی صورت میں ظاہر کر رہا ہے اور کہیں مزہ اور خوش بو کی صورت میں۔ کہیں اس بے روح مادہ سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہورہے ہیں اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے عجیب و غریب قدرت والے خدا کو پاناکیا ایک خشک عقیدہ کو پا نا نہیں ایسے خدا کو پا نا تو یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک اتھاہ روشنی سے جگمگا اٹھے۔ وہ اس کے قلب کے لئے لطف لذت بن جائے۔ آدمی ایک عمدہ پھل کھاتا ہے تو وہ باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو وہ ہمہ تن وجد میں آ جاتا ہے۔ یہاں ایک خوبصورت بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کا پا نا کسی کو بے قرار نہیں کرے گا، وہ محض ایک بے کیف واقعہ بن کر رہ جائے گا۔
خدا کو پا نا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا شامہ معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف وہ ایک لطافت ہو جو اس کے لامسہ کو کیف سے بھر دے۔ وہ ایک حسن ہو جس کی بصارت کو ایک حیرت ناک نظارہ میں محو کر دے۔ وہ ایک ترنم ہو جو اس کے سامعہ کو ایسی لذت دے جس سے وہ کبھی سیر نہ ہو۔ ہم میں خدا نے روشنی پیدا کی، کیسے ممکن ہے کہ اس کے اندر روشنی نہ ہو۔ جس خدا نے مزہ پیدا کیا کیسے ممکن ہے کہ اس میں مزہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام روشنیوں سے زیادہ روشن ہے۔ وہ تمام مزوں سے زیادہ مزہ والا ہے۔ کسی کو خدا کی قربت ملنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رنگت اور خوشبو کے ابدی چمنستان میں جا بسے، جیسے وہ ایک پیکر نور کے پڑوس میں پہنچ جائے ۔
خدا ساری حکمتوں کا خزانہ ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کو انتہائی باشعور بنا دیتا ہے۔ خدا سارے زمین و آسمان کا نور ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کی پوری شخصیت کو ربانی نور سے جگمگا دیتا ہے۔ خدا تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کو اتنا طاقت ور بنا دیتا ہے کہ کوئی سیلاب اس کو غرق نہ کر سکے اور کوئی طوفان اس کے درخت کو اکھاڑ نے والا ثابت نہ ہو۔ لوگ خدا سے بہت دور ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے قریب کھڑے ہوئے ہیں۔ لوگ خدا کے فیضان سے نا آشنا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خدا کے فیضان سے اپنا کلیان بھر رکھا ہے۔
کسی غیر معمولی شیفتگی اور وارفتگی اپنے دلوں میں لیے ہوئے تھے۔ مرحوم کی موت نے ان کے دل کے پیمانہ کو چھلکا دیا اور انہوں نے مرحوم کے تذکرے انتہائی والہانہ انداز میں بیان کئے۔ ان مضامین کو دیکھ کر میں نے مرحوم کے ایک معتقد سے پوچھا کہ آپ کے یہ اخبارات ورسائل چوتھائی صدی سے بھی زیادہ مدت سے نکل رہے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان پرچوں میں کبھی خدا کا تذکرہ بھی اس جوش اور وارفتگی کے ساتھ شائع ہوا ہو۔ مومن کی تعریف یہ ہے کہ وہ خدا کے کارناموں سے سرشار ہو اور خدا کے نام سے اس کے قلب درد میں حرکت پیدا ہوجائے۔ پھر کیا آپ کے اخبارات ورسائل کے صفحات میں کبھی خدا کے لئے ان غیر معمولی کیفیات کا مظاہرہ ہوا ہے جو آپ نے اپنے رہنما کے بارے میں ظاہر کیا ہے اس کے جواب میں وہ خاموش ہو گئے۔ یہ صرف کسی ایک اسلامی تحریک کا معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے تمام اداروں اور تحریکوں کا حال یہی ان کی مجلسیں اپنے "اکابر" کے تذکرے سے معمور ہیں۔ ہر ایک نے اپنے کچھ بڑے بنالیے ہیں اور جب ان بڑوں کا نام آتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زبان و قلم پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی ہو۔ اس کے برعکس کسی بھی حلقہ میں یہ نظر نہیں آتا کہ وہاں خدا کے چرچے میں لوگوں کو لطف ملتا ہو، خدا کا نام آنے پر لوگوں کے اندر والہانہ کیفیت پیدا ہوتی ہو۔ خدا کی حیثیت بس ایک خشک عقیدہ کی ہے۔ جب کہ ان کی اپنی محبوب شخصیتوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی ان کی پوری ہستی جھوم جاتی ان کے دل و دماغ کا تعین کہیں اٹھتا ہے۔ ان کے تصور سے ان کی یادوں کی دنیا میں بہار آ جاتی ہے خدا اپنے سورج کے ذریعہ سارے عالم کو روشن کر رہا ہے مگر اس کو دیکھ کر کسی پر غیر معمولی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ البتہ دنیا کو یہ بتانے میں وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت نے سارے عالم کو اپنی تقریروں سے جگمگا دیا ہے۔ کا نظام دیکھ کر انھیں خدا کی کاریگری پر وجد نہیں آتا۔ البتہ اپنے بزرگوں کے کارنامے بتانے کے لئے وہ یہ شان دار الفاظ پارہے ہیں کہ انھوں نے ساری دنیا میں اپنے فیض کی ہوائیں چلادی ہیں۔ زمین و آسمان میں خدا کی بے پایاں حکمتیں ان کی روح پر رقص طاری نہیں کرتیں۔ البتہ اپنے محبوب قائد کے فکر و تدبیر کی عظمت کو بتانے کے لئے لغت کے سارے الفاظ بھی ان کو ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ خدا نے اپنی بے پناہ طاقت سے زمین و آسمان کو سنبھال رکھا ہے مگر اس کو دیکھ کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوتے۔ البتہ اپنے بڑے، ان کو اس طرح دکھائی دے رہے ہیں جیسے وہ تمام ملکوں اور قوموں کو تھامے پانی کا عجیب و غریب انتظام جس نے زمین کو ساری معلوم کائنات میں ایک استثنائی کرہ بنا دیا ہے ان کو حیرانی میں مبتلا نہیں کرتا۔ البتہ اپنے پیشواؤں کے کارنامے بیان کرنے کے لئے وہ پورے جوش سے کہہ اٹھتے ہیں کہ ان کے فیض کے چشمے سے ساری دنیا سیراب ہو رہی ہے۔ شاید انسان کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا مرکز محبت بنانا چاہتا ہے اور جب خالق اس کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ کسی مخلوق کو اپنا مرکز محبت بنا لیتا ہے۔
وہ لوگ جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ کیوں کہ انھوں نے یہ سب کچھ شہرت کے لئے کیا ہو گا (402) دوسری طرف مسلم ہی کی ایک روایت کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں سے کہے گا کہ تم نے میری عیادت نہیں کی۔ تم نے مجھ کو کھانا نہیں کھلایا۔ تم نے مجھ کو پانی نہیں پلایا۔ وہ لوگ کہیں گے کہ خدایا تو سارے جہان یا مالک ہے، تجھ کو ان چیزوں کی کیا ضرورت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فلاں شخص بیمار تھا، تم نے اس کی عیادت نہیں کی۔ فلاں شخص بھوکا تمھارے پاس آیا تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ فلاں شخص تم سے پانی مانگا تم نے اس کو پانی نہیں پلایا۔ تم ایسا کرتے تو مجھ کو تم وہاں پاتے (۴۰۵)
عمل کرنے کی ایک جگہ وہ ہے جہاں دیکھنے والے اس کو دیکھتے ہیں اور چرچا کرنے والے اس کا چرچا جہاں وہ فوراً اخبار کی خبر بنتا ہے۔ عمل کرنے کی دوسری جگہ وہ ہے جہاں یا تو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا یا اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ ایسا واقعہ ہوتا ہے جس کو لوگ چرچا کے قابل نہیں سمجھتے۔ اخبار میں اس کی شان دار سرخی نہیں بنائی جاتی۔ بالفاظ دیگر ایک عمل مجمع عام کی سطح پر کیا جاتا ہے اور دوسرا عمل فرد کی سطح پر۔ پہلے عمل کو "لوگ" دیکھتے ہیں۔ دوسرا عمل وہ ہے جس کو خدا دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ہمارے اسلام کا امتحان جہاں مطلوب ہے وہ "فرد" ہے نہ کہ مجمع عام۔ فرد کی سطح پر جو شخص تقویٰ اور اسلامیت کا ثبوت دے رہا ہے وہی اللہ کی نظر میں مسلم اور متقی ہے۔ عوامی سطح پر اسلامیت کا اظہار شہرت طلبی کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے۔ مگر آدمی کے سامنے جب ایک تنہا شخص آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے تو اس میں شہرت کا کوئی محرک نہیں ہوتا۔
آج مظلوم قوم کی حمایت میں ہر شخص بول رہا ہے مگر مظلوم فرد کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں۔ وہی آدمی جو اسٹیج پر ملت کی مظلومی کے بارے میں تقریر کا دریا بہارہا ہے جب اس کے سامنے ملت کا ایک فرد اپنی مصیبت لے کر آتا ہے تو اس کو فرد کا مسئلہ حل کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ ملت پر کوئی افتاد پڑے تو وہ تار اور ٹیلی فون اور ہوائی جہاز کی سی تیزی کے ساتھ اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے دوڑ پڑتا ہے۔ مگر اسی ملت کا ایک فرد اپنے مسئلہ کے حل کے لئے اس کو پکارتا ہے تو وہ اس کے سینہ میں پتھر کا سا دل پا تا ہے۔ دور کے مقام پر اخلاق اور انسانیت کا اسلامی قانون پر سمینار ہو تو ہر آدمی چاہتا ہے کہ ہوائی جہاز میں اڑ کر جائے اور بین اقوامی سمینار میں ایک شاندار تقریر پیش کرے، مگر پڑوس کا ایک آدمی جو اس سے اسلامی سلوک کی بھیک مانگے، جو اس کے سامنے اخلاق اور انسانیت کی دہائی دے رہا ہو، اس کی درخواست کو سننے کے لئے اسے فرصت نہ ہوگی۔
دنیا کا خطرہ آدمی ہمیشہ اپنے اوپر محسوس کرتا ہے اور آخرت کا خطرہ صرف دوسروں کے اوپر ایک بار میں ہریانہ کے علاقہ میں بس سے سفر کر رہا تھا۔ لمبی بس تقریباً پوری بھری ہوئی تھی۔ ایک مقام پر سامنے سے آنے والے ٹرک کے لئے اس کو راستہ دینا پڑا۔ برسات کا زمانہ تھا۔ پختہ سڑک کے کنارے مٹی کا حصہ نرم ہو گیا تھا۔ بس کے پہئے ایک طرف زمین پر سڑک سے اتر گئے۔ بس ابھی الٹی نہیں تھی صرف کروٹ ہوئی تھی کہ تمام مسافروں میں سگھڑ ہر آدمی اپنی سیٹ سے اٹھ کر بھاگنے لگا۔ بس کے دونوں دروازوں پر بے تحاشا ہجوم ہو گیا۔ جلدی میں کھڑکی کی طرف سے کود پڑے۔ لوگ اس قدر بے تاب تھے جیسے ہر شخص کو یہ محسوس ہو رہا ہو کہ سارا خطرہ اسی کے لئے ہے اور صرف وہی حادثہ کا شکار ہونے والا ہے۔ میں لوگوں کی گھبراہٹ دیکھنے میں اتنا محو ہوا کہ مجھے یاد نہ رہا کہ اس نازک موقع پر مجھے بھی ان کی پیروی کرنی چاہئے۔
جب آدمی کو کسی خطرہ کا سامنا ہو تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ خطرہ کا مسئلہ خواہ کروڑوں آدمیوں کے لئے ہو، ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ سارا خطرہ بس اسی کے لئے ہے۔ اور سب سے پہلے اسی کو اس سے بچنے کی فکر اس کا ایک تجربہ اگست ۱۹۷۹ میں۔ ۸۰ٹن کے اسکائی لیب کے سلسلہ میں ہوا۔ امریکہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ اسکائی لیب پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ زمین پر گر پڑے۔ اس خبر کو سن کر ساری دنیا میں ہر شخص اس طرح ڈر گیا جیسے کہ اسکائی لیب اسی کے سر پر گرنے والی ہو۔ ________ عجیب بات ہے کہ دنیا کے خطرہ کے بارے میں جو بات لوگوں کو اتنی اہمیت کے ساتھ معلوم ہے۔ اسی بات کو وہ آخرت کے خطرہ کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ دنیا کے خطرہ کو ہر آدمی سب سے پہلے اپنے اوپر آتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس سے بچاؤ کی فکر مگر آخرت کے خطرہ کے بارے میں وہ اس طرح مطمئن ہے گویا اس کا اندیشہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ اس کی اپنی ذات کے لئے اس سے کوئی اندیشہ نہیں۔