کعبہ سے زیادہ قابل احترام
Al-Risala, September 1980, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
یا ایہا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتا فکرهتموہ واتقوا ٱللَّهَ ان الله تواب رحیم
قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لما عُرج بی مررتُ بقوم لہم اظفار من نحاس یخمشون وجوہہم وصدورہم فقلتُ من ہؤلاء یا جبریل قال ہؤلاء الذین یأکلون لحوم الناس ویقعون فی اعراضہم (ابو داؤد)
المومن اکرم حرمة من الکعبة (ابن ماجہ) من ردّ عن عرض اخیہ ردّ اللہ عن وجهہ النار یوم القیامة (ترمذی)
اذا حسدتَ فاستغفر اللہ واذا ظننت فلا
یا معشر مَن آمن بلسانہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتہم فانہ مَن یتبع عورة اخیہ یتبع اللہ عورتہ ومَن یتبع اللہ عورتہ یفضحه فی جوف بیتہ (ابوداؤد)
اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ اور کسی کا بھید نہ ٹٹولو اور پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو برا نہ کہو۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، مہربان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کے سفر میں میرا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے وہ اس سے اپنے منہ اور سینے کھرچ رہے تھے۔ کہا اے جبریل، یہ کون لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں پر گرتے تھے ۔
مومن کعبہ سے زیادہ قابل احترام ہے جس نے اپنے بھائی کی عزت کو بچایا تو اللہ قیامت کے دن اس کے منہ کو آگ سے بچائے گا۔
جب تمہارے اندر حسد پیدا ہو تو اللہ سے معافی مانگو اور جب تم کو کسی کے بارے میں گمان گزرے تو اس کی تحقیق نہ کرو۔
اے ایمان لانے والو! مسلمانوں کی برائی بیان نہ کرو اور ان کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے نہ پڑو کیونکہ جو اپنے بھائی کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوتا ہے تو خدا اس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہو جاتا ہے اور خدا جس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوجائے تو وہ ضرور اس کو رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔
ان من اربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغيرِ حقٍّ (ابوداؤد) بد ترین زیادتی یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کیا جائے
حرمتک وللمومن اعظم حرمۃ عند اللہ منک، مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد ثالث، صفحہ ۳۶۶) یہ بات جو حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہی یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اسی کو صحابی رسول نے اپنی زبان میں دہرایا۔
کعبہ ایک خاموش یادگار ہے۔ اس سے کسی آدمی کے وہ معاملات نہیں پڑتے جو زندہ انسانوں سے اس لئے کعبہ کا احترام کرنے کے لئے آدمی آسانی سے راضی ہو جاتا ہے۔ اور انسان کا احترام کرنے پر راضی نہیں بولتا۔ مگر انسان کے تقویٰ کا اصل امتحان کعبہ کی سطح پر نہیں بلکہ انسان کی سطح پر ہو رہا ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف ایک برا گمان گزرتا ہے مگر وہ محض گمان کی بنیاد پر اس کے بارے میں نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وسعت ظرف سے کام لیتے ہوئے وہ اس کی تحقیق سے بھی بچتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی کی جو بات اللہ نے چھپا رکھی ہے وہ اس کو چھپا ہی رہنے دے تو وہ ایک ایسے عمل کا ثبوت دیتا ہے جو کسی مقدس دیوار کا احترام کرنے سے بھی زیادہ بڑا عمل ہے۔ جب اس کو کسی کے اوپر غصہ آتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اُس کی عزت پر حملہ کرنے لگے، وہ اس کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرے تو وہ ایک ایسا عمل کرتا ہے جو مقدس یادگاروں کا ادب کرنے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ جب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ اس کا بھائی کسی پہلو سے ترقی کر گیا ہے اس کے باوجود وہ اس سے حسد نہیں کرتا، وہ اس کا برا نہیں چاہتا تو یہ خدا کے نزدیک اتنا بڑا عمل ہوتا ہے جو اس کے لئے کعبہ کے احترام سے بھی زیادہ بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے۔
دنیا میں ہر آدمی ایک درمیانی مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا خدا ہے جس سے وہ آخرت میں ملنے والا ہے۔ دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کے درمیان وہ آج اپنے آپ کو پاتا ہے۔ آدمی کو دوسرے انسانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہے جو وہ خدا سے اپنے بارے میں چاہتا ہے۔ اگر آدمی چاہتا ہے کہ خدا اس کے بھیدوں کو کھول کر قیامت میں اس کو رسوا نہ کرے تو اس کو دنیا میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے بھید کے پیچھے نہ پڑے۔ وہ اگر خدا کے بندوں کے بھید کو چھپائے گا تو خدا بھی اس کے بھید کو چھپائے گا۔ اور اگر اس نے دوسروں کو رسوا کیا تو خدا اس کو یہ سزا دے گا کہ قیامت کے دن اس کو رسوا کرکے اپنی رحمتوں سے اسے دور کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی عزت بچانا اپنی عزت بچانا ہے، دوسرے کے اوپر وار کرنا خود اپنے اوپر وار کرنا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے کے لئے راضی کر سکیں۔
سب سے بڑا عمل وہ ہے جس کے لئے آدمی کو اپنے نفس سے لڑنا پڑے، جس کے لئے مصلحتوں کے نقصان کو برداشت کرنا ہو، جس کی قیمت یہ دینی پڑے کہ آدمی کی عزت مقبولیت خطرہ میں پڑ جائے۔