تو بہ نے طاقت ور بنا دیا
Al-Risala, September 1980, pp. 4–6
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جادو گر جب فرعون کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا: اگر ہم موسیٰ کے مقابلہ میں غالب رہے تو ہم کو اس کا انعام تو ضرور ملے گا۔ فرعون نے کہا ہاں۔ اس کے بعد جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی مانند نظر آنے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ آپ کا عصا اڑدہا بن کر گھوما تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جادوگروں کی ہر لکڑی لکڑی اور ہررسی رسی ہو کر رہ گئی۔ جادو گر سمجھ گئے کہ موسیٰ نے جو چیز دکھائی ہے وہ جادو نہیں بلکہ خدائی معجزہ ہے۔ ان کا سینہ حق کے لئے کھل گیا۔ اور انھوں نے اسی وقت ایمان قبول کر لیا۔ فرعون غضب ناک ہو کر بولا: تم لوگ موسیٰ کے مومن بن گئے قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دوں۔ یہ تم لوگوں کی خفیہ سازش ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پا کیں مخالفت سمتوں سے کٹواؤں گا اور پھر تم سب لوگوں کو سولی پر چڑھا دوں گا (اعراف) جادو گروں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ خدا کی روشن نشانیوں کے مقابلہ میں ہم تم کو ترجیح دیں۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کر لو۔ تم صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہو اور اللہ زیادہ اچھا ہے اور وہ باقی رہنے والا ہے (طه)
وہی جادو گر ابھی فرعون کے سامنے خوشامدی باتیں کر رہے تھے اور اس کے انعام اور اعزاز کے طالب تھے وہی تھوڑی دیر بعد اتنے دلیر اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ فرعون کی انھیں کوئی پروانہ رہی۔ حتیٰ کہ فرعون کی طرف سے سخت ترین سزا کی دھمکی بھی انھیں مرعوب نہ کر سکی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے جادوگروں کو اچانک پستی سے بلندی اور بزدلی سے بہادری تک پہنچا دیا۔ وہ ایمان کی طاقت تھی۔ انھوں نے انسانوں سے گزر کر خدا کو پا لیا تھا، پھر ان کو انسانوں کا ڈر کیوں ہوتا۔
شہر کے مسلم محلہ کو تخریب کاروں کے ایک غول نے گھیر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے نکلے تو تخریب کاروں نے پتھر پھینکنے شروع کئے۔ مسلمانوں نے بھی اس کے جواب میں پتھر پھینکے۔ تخریب کاروں کو جب پتھراؤ سے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو انھوں نے بندوقوں سے فائر کئے جس سے کچھ مسلمان زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمان بھاگے اور اپنے گھروں میں داخل ہو گئے۔ اب تخریب کاروں کا حوصلہ بڑھا۔ وہ آگے بڑھ کر محلہ میں گھس گئے اور مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانا شروع کر دیا۔
یہ بڑا نازک موقع تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں۔ اس کے بعد محلہ کے ایک " دادا " کو اللہ نے ہمت دی اور اس نے مسئلہ کو حل کر دیا۔ اس شخص میں اور کوئی برائی نہ تھی۔ البتہ وہ شراب پیتا تھا۔
نے یہ دعا کی اور اس کے بعد پڑو سی کی بندوق لی اور تھیلہ میں کارتوس بھر کر مجمع میں گھس گیا۔ اس نے چون چون کر تخریب کاروں کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اگرچہ وہ خود بھی ہر وقت تخریب کاروں کے نشانہ کی زد پر تھا مگر اس وقت ڈر اس کے دل سے بالکل نکل گیا تھا۔ وہ پوری بے خوفی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا۔ تخریب کاروں نے جب دیکھا کہ ان کے بہت سے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں اور ”ہائے مار ڈالا“ کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
قرآن میں ہے کہ اللہ کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے (فاطر ۱۰) مذکورہ مسلمان کی دعا کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔ اس نے جب اپنی دعا کے ساتھ شراب چھوڑنے کا عہد کیا تو اس نے ایک نیک عمل کیا۔ اس نیک عمل کی وجہ سے اس کی دعا اوپر اٹھ کر فوراً خدا کی بارگاہ میں پہنچی اور مقبول جب بھی آدمی اپنی دعا کے ساتھ اس قسم کا کوئی نیک عمل کرے تو اس کی دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل دعا کے ساتھ اس کے موافق نیک عمل دعا کے معاملہ میں آدمی کے سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے، اور جب آدمی اپنی مانگ میں سنجیدہ ہو تو اس کی مانگ ضرور پوری کی جاتی ہے۔
اس واقعہ کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جب آدمی نے یہ کہا کہ ”خدایا میں آج سے شراب کو چھوڑتا ہوں تو میری مدد کر۔ تو اس نے اپنی طاقت کو بڑھایا۔ کیوں کہ اب اس نے خدا کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ صرف ”خدایا مدد کر“ کے الفاظ بولتا تو اس سے اس کے اندر وہ یقین نہ آتا۔ کیوں کہ یہ چھپا ہوا خیال پھر بھی اس کے دل میں باقی رہتا کہ میں خدا کو پکار رہا ہوں حالاں کہ میں خدا کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس نے شراب چھوڑنے کا عزم کیا تو بھر پور طور پر اس کو یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب خدا ضرور میری مدد کرے گا۔ کیونکہ اب اس نے اپنے اور خدا کے درمیان پڑے ہوئے پردہ کو ہٹا دیا تھا۔ پہلی صورت میں اس کی مثال اگر چور کی سی تھی تو اب اس کی مثال اس شخص کی سی ہو گئی جس نے سامان کی قیمت اس کے دکان دار کو ادا کر دی ہو۔ اس کی توبہ نے اس کو نڈر بنایا اور اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ توبہ کے فوراً بعد اس کے اندر سے احساس جرم نکل گیا۔ اس کا یہ اندیشہ مٹ گیا کہ میں خدا سے دور ہوں۔ اب وہ خدا کی مدد کو اپنے حق میں یقینی سمجھنے لگا اس کے اور خدا کے درمیان جو رکاوٹ تھی جب اس رکاوٹ کو اس نے دور
کے بغیر اس کو بخوبی طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ میں نے اس راہ میں ایک عمر صرف کی ہے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکا ہے کہ میں شہر میں سلائی کی ایک دکان کامیابی کے ساتھ چلا سکوں۔
ٹیلر ماسٹر نے اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ اولاً میں نے ایک ٹیلر ماسٹر کی شاگردی کی۔ اس کے یہاں پانچ سال تک کوٹ کی سلائی اور کٹائی کا کام سیکھتا رہا۔ پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد میں اس قابل ہو گیا کہ میں ایک عام کوٹ سی سکتا تھا۔ مگر جب میں نے اپنی دکان کھول کر کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی بہت سے مسائل ہیں جن کو حل کرنا باقی ہے۔ ہر آدمی کا جسمانی ڈھانچہ الگ ہوتا ہے اور کسی کوٹ کو پہننے والے شخص کے اپنے ڈھانچہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ چنانچہ جو کوٹ میں تیار کرتا اکثر اس میں شکایت ہو جاتی۔ کیوں کہ اس میں گاہک کے اپنے جسمانی ڈھانچہ کے لحاظ سے کچھ فرق ہو جاتا اور کوٹ صحیح نہ آتا۔ اس تجربہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ انسانی جسم کی بناوٹ (اناٹومی) کے اچھے مطالعہ کے بغیر یہ ناممکن ہے کہ میں ایک معیاری کوٹ تیار کر سکوں۔ میں ایک گریجویٹ تھا، میں نے باقاعدہ اناٹومی کا مطالعہ شروع کر دیا اور انسانی جسم کی اوپر کی ساخت کے بارے میں پوری معلومات حاصل کیں۔ اس مطالعہ میں مجھ کو مزید پانچ سال لگ گئے ۔ اس طرح دس سال کی محنت کے بعد یہ ممکن ہوا کہ میں ہر شخص کے جسم سے ٹھیک ٹھیک مطابقت رکھنے والا کوٹ تیار کر سکوں۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کا بھی جن میں کڑا پن یا اور کوئی جسمانی فرق ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کوٹ بھی میں اس طرح تیار کر سکتا ہوں کہ کہیں کوئی شکن نہ ہو، ہر لحاظ سے ایک موزوں کوٹ تیار کرنے کے لیے بہت سی باتیں بطور خود جاننی پڑتی ہیں، کیوں کہ ہر چیز کا ناپ نہیں لیا جا سکتا۔ ایک ٹیلر ماسٹر جسم کے جن حصوں کا ناپ لیتا ہے اگر اس کا علم اتنا ہی ہو تو کبھی ایک معیاری کوٹ تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ٹیلر ماسٹر نے اپنے فن کے بارے میں اس طرح کی اور بھی کئی باتیں بتائیں اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں "تعمیر ملت" کے موضوع پر ایک تجربہ کار آدمی کا لیکچر سن رہا ہوں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے جو معاشعی اور سماجی مسائل ہیں ان میں وہی طریقہ کار آمد ہے جس سے مذکورہ ٹیلر ماسٹر نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی لفٹ کے بجائے سیڑھی سے چڑھنا۔ زندگی میں کوئی چھلانگ نہیں۔ یہاں ایسا کوئی بٹن نہیں ہے کہ آپ اس کو دبائیں اور اچانک ایک لفٹ متحرک ہو کر آپ کو اوپر پہنچا دے، یہاں تو زینہ بہ زینہ ہی سفر طے کیا جا سکتا ہے۔ کے ذریعہ اپنی زندگی کو کامیاب بنا کر ایک لفٹ خرید سکتے ہیں مگر لفٹ‘‘ کے ذریعہ اپنی زندگی کو کامیاب نہیں