Al-Risala · January 1980

شہادت سے بھی قرض معاف نہیں ہوتا

Al-Risala, January 1980, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان تمام اعمال میں سب سے افضل ہیں۔ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا، اے اللہ کے رسول آپ کیا فرماتے ہیں، اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں مجھ سے دور ہو جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: ہاں اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے ہو، تمھاری نیت رضائے الہی کو پانا ہو، تم آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو، پھر کچھ دیر میں آپ نے فرمایا " تم نے کیا کہا تھا " انھوں نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں مجھ سے دور ہو جائیں گی" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرما(اے: "ہاں اگر تم صبر کرنے والے ہو، تمہاری نیت ائے الہی کو پانا ہو، تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے الا یہ کہ تمہارے اوپر ق ہو۔ کیوں کہ جبریل نے مجھ کو اسی طرح بتایا ہے۔ انفاق اپنے آپ کو آگ سے چھڑانے کے لئے عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم يجد فبكلمة طيبة آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اور جو یہ بھی نہ پائے تو ایک پاکیزہ بات کے ذریعہ مسلمان کے لئے ایک مسلمان درہم و دینار سے زیادہ محبوب ہوتا ہے طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا:

اتی علینا زمان دما یوری احد منا من انہ احق بالدینار ہمارے اوپر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص والد در هم من اخیہ المسلم ۔ دانا فی زمان نہ تھا جو اپنے بھائی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو درہم و دینار کا الدینار والد رهم احب الینا من اخینا المسلم زیادہ مستحق سمجھتا ہو۔ اور اب میں ایسے زمانے میں ہوں کہ در ہم و دینار ہمارے لئے اپنے بھائی سے زیادہ محبوب بن گئے ہیں۔

Printed page