Al-Risala · September 1980

جیسا بونا ویسا کاٹنا

Al-Risala, September 1980, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

کاٹنے کے دن وہی آدمی کھیتی کاٹتا ہے جس نے کاٹنے کا دن آنے سے پہلے کھیتی کی ہو اور وہی چیز کاٹتا ہے جو اس نے اپنے کھیت میں بوئی تھی۔ یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ ہر شخص کو وہی فصل ملے گی جو اس نے موت سے پہلے دنیا میں بوئی تھی۔ جو شخص حسد و عداوت اور ظلم و خود پرستی کے طریقوں پر چلتا رہا وہ گویا اپنی زمین میں کانٹے دار درخت کا بیج بورہا ہے ایسا شخص آخرت میں کانٹے دار پھل پائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص انصاف اور خیر خواہی اور اعتراف حق کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خوشبودار درخت کا بیج بورہا ہے۔ ایسا شخص آخرت میں خوشبو دار پھلوں کا وارث بنے گا۔

آدمی دنیا میں سرکشی دکھاتا ہے پھر بھی یہ خیال کرتا ہے کہ آخرت میں وہ خدا کے فرماں بردار بندوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ وہ دنیا میں تخریبی سرگرمیوں میں مشغول رہتا ہے پھر بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ آخرت کے تعمیری نتائج میں اپنا حصہ پائے گا۔ وہ دنیا میں الفاظ کے اوپر اپنی زندگی کھڑی کرتا ہے پھر بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ آخرت میں حقائق کی صورت میں اس کا انجام اس کی طرف لوٹے گا۔ اس کے پاس خدا کا پیغام آتا ہے مگر وہ اس کو نہیں مانتا پھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے مقبول بندوں میں شامل کیا جائے گا۔ خدا انسان کو جنت کی طرف بلا رہا ہے جو ابدی آرام اور خوشیوں کی جگہ ہے۔ چند دن کی جھوٹی لذتوں میں کھویا ہوا ہے، وہ خدا کی پکار کی طرف نہیں دوڑتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حاصل کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف کھو رہا ہے۔ دنیا میں مکان بنا کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف ریت کی دیواریں کھڑی کر رہا ہے جو صرف اس لئے بنتی ہیں کہ بننے کے بعد ہمیشہ کے لئے گر پڑیں۔

Printed page