Al-Risala · September 1980

اتحاد کی طاقت

Al-Risala, September 1980, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی شخص نے کابھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ سورج کی گرمی سے کاغذ جل گیا۔ حالاں کہ سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ کاغذ تو کیا پورا کا پورا پہاڑ بلکہ سارا کرۂ ارض اس طرح جل سکتا ہے جیسے کسی بھڑ کتے ہوئے تنور میں ایک تنکا۔ مگر یہی سورج جس کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے جنگلوں اور پہاڑوں کو بھک سے اڑا دے وہ موجودہ حالت میں ایک تنکے کو بھی جلانے پر قادر نہیں ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں لاکھوں کروڑوں میل کے دائرے میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس انتشار کی وجہ سے کسی ایک چیز پر بیک وقت اس کی شعاعیں اتنی مقدار میں نہیں پڑتیں کہ وہاں وہ اتنی گرمی پیدا کر سکیں جو کسی چیز کو جلانے کے لئے ضروری ہے۔ حالاں کہ یہی بکھری ہوئی شعاعیں اگر سمیٹ دی جائیں تو وہ خوفناک الاؤ کی شکل میں بھڑک

آفتابی چولھا سورج کی شعاعوں کے اسی قسم کے ارتکاز کا نام ہے۔ بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک خاص دائرے میں سمیٹ دینے کی وجہ سے اس جگہ اتنی گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ کھانا پکنے لگتا ہے۔ آفتابی چولھا تو بھی بہت کم رایج ہو سکا ہے مگر آتشیں شیشہ (Burning Glass) ایک ایسی چیز ہے جو اکثر اشخاص نے کبھی نہ کبھی آتشیں شیشہ کیا ہے۔ یہ ایک محدب یا کر وی عدسہ (Convex Lens) ہے جس سے کاغذ یا دوسری آتش پذیر چیزوں میں آگ لگائی جا سکتی ہے۔ عام حالات میں کاغذ پر سورج کی جو شعاعیں پڑتی ہیں، وہ اتنی زیادہ گرمی نہیں پیدا کر سکتیں کہ اس میں آگ لگ جائے، مگر انھیں شعاعوں کو جب مجتمع کر دیا جاتا ہے تو وہ شعلہ کی مانند بھڑک اٹھتی ہیں۔ کوئی بھی شخص تجربہ کر کے معلوم کر سکتا ہے کہ لینس ان شعاعوں کو طاقت ور بنانے کے لئے کیا کرتا ہے، ذیل کے نقشہ میں شعاعیں آتشیں شیشہ سے گزر کر گزر رہی ہیں۔

بکھری ہوئی شعاعیں ایک نقطہ پر جمع ہو کر طاقت ور ہو جاتی ہیں

اس نقشہ کے مطابق آتشیں شیشہ کا تمام تر عمل صرف یہ ہے کہ وہ ان شعاعوں کو جمع کرے جو لنس کے پورے دائرے میں پڑ رہی ہیں اور ان کو اس طرح موڑے یا منعطف کر دے کہ وہ سب اکٹھا ہو کر ایک محدود رقبہ پر پڑنے لگیں ۔ سورج کی شعاعوں کا یہ اجتماع اس محدود رقبہ میں اتنی حرارت پیدا کر دیتا ہے کہ کاغذ جلنے لگتا ہے۔

یہ مثال میں نے یہ واضح کرنے کے لئے دی ہے کہ انتشار اور اجتماع میں کیا فرق ہے ۔ ایک ہی چیز اگر منتشر حالت میں ہو تو وہ بے وزن ہے ۔ لیکن اگر اسے اکٹھا کر دیا جائے تو اتنی زبردست طاقت بن سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس کمزوری کی حالت میں اپنے آپ کو محسوس کرتے ہیں وہ حقیقتاً اتنے کمزور نہیں ہیں، یہ کمزوری ان کے انتشار کی پیدا کردہ ہے۔ اگر وہ اپنے درمیان اجتماعیت کا آتشیں شیشہ فراہم کرلیں اور انفرادی طور پر بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک مقام پر مجتمع کر دیں تو یکایک وہ دیکھیں گے کہ جو شعاعیں الگ الگ ہونے کی صورت میں تنکا جلانے کے لئے بھی ناکافی نظر آتی تھیں، انہیں کی گرمی سے شہتیر بھڑک اٹھا ہے ۔ ہماری موجودہ تعداد اور موجودہ ذرائع و وسائل جو منفرد طور پر بالکل بے قیمت نظر آتے ہیں، یہی تعداد اور یہی ذرائع کروڑوں گنا زیادہ اہمیت اختیار کر لیں گے ۔ آج ہر مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے ۔ اس وقت ہر شخص اپنے کو ایک پوری قوم کی مانند سمجھنے لگے گا ۔ اور جب ایسا ہوگا تو دوسرے بھی ہم کو اسی نظر سے دیکھیں گے جیسا کہ فی الواقع ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ بتائی جاتی ہے ۔ کروڑ افراد گویا دس کروڑ دھاگے ہیں، اگر وہ الگ الگ ہوں تو کوئی شخص بھی انھیں باری باری توڑ سکتا ہے۔ لیکن یہی دس کروڑ دھاگے اگر مل جائیں تو وہ اتنا مضبوط رسا بن جائیں گے جنھیں ایک ہاتھ تو کیا سیکڑوں ہاتھ بھی توڑنے کی ہمت نہیں کر سکتے ۔ جو چیز الگ سے دیکھنے میں محض ایک دھاگا ہے وہ اتحاد کی برکت سے موٹے رسے کا مقام حاصل کرے گی ۔ قطرہ سمندر میں ہو تو وہ سمندر ہے اور باہر ہو تو وہ قطرہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ اتحاد اور اجتماعیت موجودہ حالات میں مسلمانوں کی شدید ترین ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر حالات کے سدھار کے لئے کوئی مؤثر کام انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ اصلاح حال کی ہر تجویز اپنی کامیابی کے لئے یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ایک نقطہ پر جمع ہوں تا کہ زیادہ سے زیادہ ذرائع و وسائل اس کے لئے مہیا ہو سکیں، زیادہ سے زیادہ حمایت کے ساتھ اس کو مؤثر بنایا جا سکے، جب وہ دنیا کے سامنے آئے تو لوگوں کو وہ زیادہ سے زیادہ دقیق اور باوزن معلوم ہو۔

کوئی بھی اجتماعیت، خواہ وہ کتنے ہی ہلکے درجہ کی ہو، بہر حال قربانی چاہتی ہے ۔ قربانی، رائے کی قربانی، حیثیت کی قربانی، ذاتی مفادات کی قربانی ۔ کبھی ایسا ہوگا کہ ذاتی دائرہ میں آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے، مگر قوم کو اس کی ضرورت ہوگی، کبھی اپنی رائے کو محض اس لئے

چھوڑ نا ہوگا کہ دوسروں کو آپ اس کا قائل نہیں کر سکے اور اشتراک کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ آپ اپنی رائے سے عملی طور پر دست بردار ہو جائیں ۔ کبھی آپ دیکھیں گے کہ اجتماعی ڈھانچہ میں آپ کی حیثیت گھٹ رہی ہے مگر اس کے باوجود ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کے لئے آپ اپنی حیثیت کو نظر انداز کر دیں گے ۔ کبھی اجتماعی تقاضے آپ کے ذاتی مفادات کو متاثر کرنے لگیں گے ۔ ضرورت پکارے گی کہ اس وقت اپنا سرمایه ذاتی خواہش میں نہیں بلکہ قوم کے کام میں لگاؤ اور آپ اس پکار کو لبیک کہیں گے ، کبھی ذاتی اور خاندانی مصالح پر قوم کی مصالح کو ترجیح دینا ہو گا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

ایک ایسے معاشرہ میں یہ اجتماعیت قائم نہیں ہو سکتی جہاں صدارت اور نظامت حاصل کرنے کے لئے رسہ کشی ہوتی ہو ۔ جہاں قوم کے پڑھے لکھے لوگ محض بیرونی ملکوں کی سیاحت کی قیمت پر اس کے رائفنی ہو جائیں کہ وہ باہر جا کر قوم کی غلط نمائندگی کریں ۔ جس کے افراد کو محض ایک اچھا عہدہ دے کر خریدا جا سکتا ہو ، جہاں ایک مسلم گروہ دوسرے مسلم گروہ کو شکست دینے کے لئے قوم کے دشمنوں سے مل جاتا ہو ، جہاں یہ حال ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے خفا ہو تو پولیس کے دفتر میں اس کے خلاف مخبری کرنے پہنچ جائے ۔ جہاں نظر آئے کہ کچھ لوگ ایک ملی کام کے لئے اٹھیں تو بقیہ لوگ اس کا تعاون کرنے کے بجائے یہ سوچنے لگیں کہ کہیں یہ میدان پر قابض نہ ہو جائیں اور فوراً اسی کام کے لئے ایک اور علیحدہ تنظیم قائم کر کے لوگوں کو اپنی طرف بلانا شروع کر دیں ۔ کی ضروریات ، خدمت کرنے کا میدان نہ ہوں بلکہ لیڈری حاصل کرنے کا سستا ذریعہ بن جائیں ۔ اجتماعی احساس سے اس قدر نا آشنا ہوں کہ اختلافات پر گالی گلوج ہونے لگے اور ترک کلام کی نوبت آجائے ۔ جہاں لوگوں کی سطحیت کا عالم یہ ہو کہ اتحاد کے بجائے اختلاف کے اجنار ڈھونڈتے ہوں ، جہاں گروہ بندی اس شدت کو پہنچی ہوئی ہو کہ اپنے دائرہ سے باہر نہ کسی حق کو تسلیم کریں اور نہ اپنے سوا کسی کو کام کرنے کا اہل سمجھتے جہاں پستی کا یہ عالم ہو اور جہاں اجتماعی اوصاف کی اس درجہ کی ہو وہاں تمام لوگ آخر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کس طرح ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ قوم کو اخلاقی پستی سے نکالا جائے اور اس کے اندر اجتماعی احساس پیدا کیا جائے ، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارے اندر کوئی اجتماعیت برپا ہو سکے ۔

اتحاد اور اجتماعیت کے بغیر ہمارا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔ اور اتحاد اور اجتماعیت ایسی چیز ہے جو پوری طرح ہمارے بس میں ہے ۔ وہ کسی بھی طرح ہمارے لئے نا ممکن نہیں ۔ بقیہ تمام چیزوں کے لئے دوسروں کو بدلنا پڑتا ہے ۔ جب کہ اتحاد قائم کرنے کے لئے ہمیں صرف اپنے آپ کو بدلنا ہے ۔ اب اگر ایک ایسے امکان کو بھی ہم حاصل نہیں کرتے جو خود ہمارے اپنے بس میں ہو تو تاریخ ہم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ کا مورخ یقیناً ہم کو مجرم ٹھہرائے گا ، خواہ اپنے طور پر ہم دوسروں کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار سمجھتے ہوں ۔ (ماہنامہ الفرقان جمادی الثانی ۱۳۸۳ھ)

اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔ تمھارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول اور یعنی ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو دوست بئے تو بے شک اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھرگیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہو جائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لئے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لئے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملے میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار و اعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہو جائیں کہ مسلمانوں کے لئے وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر نامسلمانوں کے لئے وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ کوئی نامسلمان کبھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لئے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کا مشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔ جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام کے فطری تقاضے کے طور پر آدمی کے سامنے طرح طرح کی مشکلیں اور طرح طرح کی ملامتیں پیش آتی ہیں۔ دو الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہو جاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور نا اللہ کے سوا کسی کی پروا کئے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابلِ لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں تو زمین کا غلبہ بھی انہیں کے لئے مقدر کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں، وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں نہ کہ سرکشی کرنے والے۔

Printed page