Al-Risala · September 1980

تذکیر القرآن المائدہ ۵

Al-Risala, September 1980, pp. 18–31

By Maulana Wahiduddin Khan

اے ایمان والو، ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنایا ہے، ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور نہ کافروں کو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو۔ اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔ کہو کہ اے اہل کتاب، تم ہم سے صرف اس لئے ضد رکھتے ہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اس پر جو ہم سے پہلے اترا۔ اور تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ کہو کیا میں تم کو بتاؤں وہ جو اللہ کے یہاں انجام کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ وہ جس پر خدا نے لعنت کی اور جس پر اس کا غضب ہوا۔ اور جن میں سے بندر اور سور بنا دئے اور انھوں نے شیطان کی پرستش کی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بدتر اور راہ راست سے بہت دور ہیں ۶۰- وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھو بیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ یہی مدینہ کے یہود کا حال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے، جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہو سکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہو سکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق و باطل کے معاملہ میں کند ہو جاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکیدار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً حیا، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ گراوٹ کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک دور ہو جاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہو جاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔

انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان حتیٰ کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو ج وہ چھپاوہے ہیں۔ اور تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر دوڑتے ہیں۔ کیسے برے کام ہیں جو وہ کر وہے ہیں۔ ان کے مشائخ اور علماء ان کو کیوں و ہیں روکتے گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے۔ کیسے برے کام ہیں جو نہ کر رہے ہیں ٦٣-٦١ مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طور پر اپنے منہ سے نکالا تھا۔

یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح و شام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں مگر ان کی قیادت و مقبولیت کاراز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کا چلنا بظا ہر دین کے لئے تھا۔ گر حقیقتہ وہ ایک قسم کی دنیا داری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ رہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لئے پسند کئے ہوئے تھے۔

خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے ساب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوں نے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔ رہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں سے یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرادینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لئے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کر کے جنت کی ضمانت مل جائے

پروردگار کی طرف سے جو کچھ اترا ہے در ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور انکار کو بڑھارہا ہے ۔ نے ان کے درمیان دشمنی اور کی قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھادیتا ہے۔ اور وہ زمین میں فساد پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ حالاں کہ اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند ہمیں کرتا ۴۷ قرآن میں جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اللہ کو قرض حسن دو تو یہود نے اس کو مذاق کا موضوع بنالیا۔ وہ کہتے کہ اللہ فقیر ہے اور اس کے بندے امیر ہیں۔ اللہ کے ہاتھ آج کل تنگ ہورہے ہیں۔ ان کی اس قسم کی باتوں کا رخ خدا کی طرف نہیں بلکہ رسول اور قرآن کی طرف ہوتا تھا۔ تھے کہ خدا اس سے برتر ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی ہو۔ اس طرح کی باتیں وہ دراصل یہ ظاہر کرنے کے لئے کہتے تھے کہ رسول سچا نہ رسول نہیں۔ اور قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہوتا تو (نعوذ باللہ) ایسی مضحکہ خیز باتیں اس میں نہ ہو تیں۔ مگر جو لوگ اس قسم کی باتیں کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی دینی جذبہ سے خالی ہیں، وہ بے حسی کی سطح پر جی رہے ہیں۔

موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ "قرآن خدا کی کتاب ہے" اور اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ "قرآن ایک بناوٹی کتاب ہے تو اس کو بھی اپنی بات کہنے کے لئے الفاظ مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدمی ایک واقعہ سے ہدایت پکڑ سکتا ہے اور اسی واقعہ سے دوسرا آدمی سرکشی کی غذا بھی لے سکتا ہے۔

یہود نے جب قرآن کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو وہ سادہ معنوں میں محض انکار نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے ان کا یہ زعم شامل تھا کہ ہم تو نجات یافتہ لوگ ہیں، نہیں کسی اور ہدایت کو ماننے کی کیا ضرورت۔ جو لوگ اس قسم کی پر فخرنفسیات میں مبتلا ہوں ان کے اندر شدید ترین قسم کی انانیت جنم لیتی ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں جب ان کا معاملہ دوسروں سے پڑتا ہے تو وہاں بھی وہ اپنی" میں "کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ آپس کے اختلاف اور عناد کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔

پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی بھی اسی اطاعت خداوند‌ی کے دین کو اپنائے جس کو کائنات کی تمام چیزیں اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی زمین کی اصلاح ہے۔ اب جو لوگ پیغمبرانہ دعوت کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں وہ خدا کی زمین میں فساد پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ تاہم انسان کو بس اتنی ہی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اندر کے فساد کو باہر لائے، دوسروں کی قسمت کا مالک بننے کی آزادی کسی کو نہیں۔

سے انار گیا ہے تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے۔ کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں۔ لیکن زیاوہ ان میں ایسے ہیں جو بہت برا کر رہے ہیں ۔ ۶۷ - ۶۵ تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہو جانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کر دے گی اور آدمی خدا کی بات کو فورا پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کر دے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہو جاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھو دیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں وہ چیزیں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہو جاتے ہیں جو سابقہ نظام کے تحت سرداری کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوں۔ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہو جائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لئے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہو گا بلکہ اس پر ہو گا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار دہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کر رہا ہے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط کا بڑھا کر یا گھٹاکر) وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتی ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتا ہے تو وہ اس کو اپنے لئے غیر مانوس پا کر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود و نصاری کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ مثلاً نجاشی، شاہ حبش، عبداللہ بن سلام وغیرہ، جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لئے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو گئے ہوں۔

یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں آئے تو ایسا نہ تھا کہ اں دین کا نام لینے والا کوئی نہ ہو۔ ان کا سارا معاشرہ دین ہی کے نام پر قائم تھا۔ دین کے نام پر بہت سے لوگ پیشوائی اور قیادت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں۔ دینی مناصب کا حال ہونا معاشرہ میں عزت اور فخر کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس کے باوجود آپ کو عرب کے لوگوں کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا اس کی وجہ یہ تھی کہ دین خداوندی کے نام پر ان کے یہاں ایک خود ساختہ دین رائج ہو گیا تھا۔ روایات کے نتیجہ میں اس دین کے نام پر گدیاں بن گئی تھیں اور مفادات کی بہت سی صورتیں قائم ہوگئی تھیں۔ ماحول میں جب پیغمبر اسلام نے بے آمیز دین کی دعوت پیش کی تو لوگوں کو نظر آیا کہ ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ اگر یہ دین پھیلا تو ان کا وہ مذہبی ڈھانچہ ڈھ جائے گا جس میں ان کو بڑائی کا مقام ملا ہوا ہے۔

یہ صورت حال داعی کے لئے بہت سخت ہوتی ہے۔ اپنے دعوتی کام کو کھلے طور پر انجام دینا وقت کی مذہبی طاقتوں سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اگر میں کسی مصالحت کے بغیر سچے دین کی تبلیغ کروں تو مجھ کو سخت ترین رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا مذاق اڑایا جائے گا۔ مجھ کو بے عزت کیا جائے گا۔ معاشیات تباہ کی جائیں گی۔ میرے خلاف جارحانہ کارروائیاں ہوں گی۔ میں اعوان و انصار سے محروم ہو جاؤں گا۔ اب اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں دنیوی مصلحتوں کے سرے ہاتھ سے چھوٹتے ہیں۔ اور اگر دنیوی مصلحتوں کا لحاظ کیا جائے تو دعوتی عمل کی پوری انجام دہی ناممکن نظر آتی ہے۔ یہاں خدا کا وہ وعدہ داعی کو یکسر کرتا ہے۔ خدا کا وہ وعدہ ہے کہ داعی اگر اپنے آپ کو خدا کے پیغام کی پیغام رسانی میں لگا دے تو لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مشکلات میں خدا اس کے لئے کافی ہو جائے گا۔ چاہئے کہ وہ صرف دعوت کے تقاضوں کی تکمیل میں لگ جائے اور مدعو قوم کی طرف سے ڈالے جانے والے مصائب میں وہ خدا پر بھروسہ کرے ۔

مخالفین کا رد عمل ایک فطری چیز ہے اور داعی کو بہر حال اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ مگر اس کا اثر اسی دائرہ تک محدود رہتا ہے جتنا خدا کے قانون آزمائش کا تقاضا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ مخاطبین اس حد تک قابو یافتہ ہو جائیں کہ وہ دعوتی مہم کو روک دیں یا اس کو تکمیل تک پہنچنے نہ دیں۔ ایک سچی دعوت کا اپنے دعوتی نشان تک پہنچنا ایک خدائی مقدر ہوتا ہے جسے وہ لازماً وایو کر رہتا ہے۔ اس کے بعد دعو گ کا مانا ناس

میں سے اکثر کے سرکشی اور انکار کو بڑھائے گا۔ پس تم انکار کرنے والوں کے اوپر افسوس نہ کرو۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی، جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۶۹-۶۸ یہودی کا یہ حال تھا کہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوں نے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خدا کے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے۔ مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بابت کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے ۔ جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بہ صورت حال ان کے لئے آزمائش بن جاتی ہے۔ دعوت کے سخت مخالف ہو جاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پردہ ہو کر سامنے آجاتی ہے، جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چاہئے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت و فضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بات جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے ــــــــ اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور ہر فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میں اسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اس دین خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہو جاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت ۔

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول ان کے پاس اسی بات لے کر آیا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا تو بعضوں کو انھوں نے جھٹلایا اور بعضوں کو قتل کر دیا اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہوگی ۔ پس وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے ان پر توجہ کی۔ پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے بن گئے۔ اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں - ۷۱ یہو د نے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔ وہ کچھ دن اس پر قائم رہے ۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہو گیا ۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی حتیٰ کہ کتنے لوگوں کو قتل کر دیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل و نینوی (عراق) کے بادشاہ بئو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کر دیا جس نے ۵۸۶ ق م میں یروشلم پر حملہ کر کے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا اور یہودیوں کو گرفتار کر کے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ نے اللہ سے معافی مانگی ۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے ۵۳۹ ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔

اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوئے ۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو تنبیہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت یحییٰ کو قتل کر دیا (اور اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی ۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور سنہ ۷۰ میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کر دیا گیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کر کے ان کو ویران کر دیا۔ بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہو سکے ۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعد کے زمانہ میں یہ بن جاتی ہیں کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضی قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حامل کتاب قوم کو اس کے "دشمنوں کے قبضہ" میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے ۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میں خدا پرستانہ جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سے سزا اٹھائی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ہے۔ حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمھارا رب بھی۔ جو شخص اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے حرام کی اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ کوئی معبود نہیں، بجز ایک معبود کے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو ایک درد ناک عذاب پکڑے گا۔ یہ لوگ اللہ کے آگے توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے معافی کیوں نہیں چاہتے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ مسیح ابن مریم تو صرف ایک ان سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں۔ اور ان کی ماں ایک راستباز خاتون تھیں۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے دلیلیں بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھو نہ کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں۔ کہو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھارے نقصان کا اختیار رکھتی ہے اور نہ نفع کا۔ اور سننے والا اور جاننے والا صرف اللہ ہی ہے ؂ ۷۲-۷۷ حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے دیے۔ یہ معجزے اس لئے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا آپ کے اندر خدا حلول کئے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کر دیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی خدائی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہو سکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طور پر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہوسکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میں آنے کے لئے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کر لیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت و محبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لئے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول دئے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاردوں پر وہ بھروسہ کئے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

حضت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کے نزدیک مسیح" ایک انسان تھا جو خدا کی طرف سے تھا، وہ آپ کو انسان اور اللہ کا رسول سمجھتے تھے۔ مگر آپ کا دین جب شام کے علاقہ سے باہر نکلا تو اسی’’ کو مصر ویونان کے فلسفہ سے سابقہ پیش آیا۔ مسیحیت قبول کرکے ایسے لوگ مسیحیت میں داخل ہوئے جو وقت کے فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اس طرح اندرونی اسباب اور بیرونی محرکات کے تحت مسیحیت میں ایک نیا دور شروع ہوا جب کہ مسیحیت کو وقت کے غالب فلسفیانہ اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔

اس زمانہ کی مہذب دنیا میں مصرو یونان کے فلسفیوں کا زور تھا۔ وقت کے ذہن لوگ عام طور پر انہیں کے افکار کی روشنی میں سوچتے تھے۔ یونانی فلاسفہ نے اپنے قیاسات کے ذریعہ عالم کی ایک خیالی تصویر بنا رکھی تھی۔ حقیقت کی تعبیر تین اقنوموں (Hypostases) کی صورت میں کرتے تھے۔ وجود، حیات اور علم۔ جو خود بھی ان افکار سے مرعوب تھے، نیز وقت کے ذہین طبقہ کو مسیحیت کی طرف مائل کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنے مذہب کو وقت کے غالب فکر پر ڈھالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے مسیحیت کی ایسی تعبیر کی جس میں خدا کا دین بھی اس ’’تین‘‘ کے جامع میں ڈھل جائے اور لوگ اس کو اپنے ذہن کے مطابق پا کر اس کو قبول کریں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی حقیقت بھی ایک تثلیث کی صورت گری ہے۔ اقنوم وجود باپ ہے۔ اقنوم حیات بیٹا ہے اور اقنوم علم روح القدس ہے۔ اس کلامی مذہب کو مکمل کرنے کے لئے اور بہت سے خیالات اس میں داخل کئے گئے۔ مثلاً یہ کہ حضرت مسیح ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہور ہیں۔ ہبوط آدم کے بعد ہر انسان گنہگار ہو چکا ہے اور انسان کی نجات کے لئے خدا کے بیٹے کو مصلوب ہو کر اس کا کفارہ دینا پڑا، وغیرہ۔ اس طرح چوتھی صدی ہجری میں مصری، یونانی اور رومی تخیلات میں ڈھل کر وہ چیز تیار ہوئی جس کو موجودہ مسیحیت کہا جاتا ہے۔

خدا کی سوار اسبیل سے بھٹکنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ لوگ گم راہ قوموں کے خیالات سے مرعوب ہو کر دین کو ان کے خیالات کے سانچہ میں ڈھالنے لگتے ہیں۔ خدا کے دین کو مانتے ہوئے اس کی تعبیر اس ڈھنگ سے کرتے ہیں کہ وہ غالب افکار کے مطابق نظر آنے لگے۔ وہ خدا کے دین کے نام پر غیر خدا کے دین کو اپنا لیتے ہیں۔ نے اپنے دین کو اپنے زمانہ کی مشرک قوموں کے افکار میں ڈھال لیا اور اسی کو خدا کا مقبول دین کہنے لگے۔ کبھی اس طرح پیش آتی ہے کہ دین کو خود اپنے قومی عزائم کے سانچہ میں ڈھال لیا جاتا ہے ر اس دوسری تعریف کی مثال یہود ہیں۔ انھوں نے خدا کے دین کی ایسی تعبیر کی کہ وہ ان کی دنیوی زندگی کی تصدیق کرنے والا بن جائے۔ مسلمانوں کے لئے کتاب الہی کے متن میں اس قسم کی تعبیرات داخل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ تاہم متن کے باہر انہیں وہ سب کچھ کرنے کی آزادی ہے جو پچھلی قوموں نے کیا۔

نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ تم ان میں بہت آدمی دیکھو گے کہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ بری چیز ہے جو انھوں نے اپنے لئے آگے بھیجی ہے کہ خدا کا غضب ہوا ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں پڑے رہیں گے۔ اگر وہ ایمان رکھنے والے ہوتے اللہ پر اور نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا تو وہ کافروں کو دوست نہ بناتے۔ مگر ان میں اکثر نافرمان ہیں ﴿۸۱-۷۸﴾ ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حساس بنا دیتا ہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے نہ کہ دوستی کا۔ ایمانی جذبہ کمزور پڑ جائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتا ہے، اب اس کو صرف وہ برائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہو جاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کو پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانہ کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں 14) مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (۲۸) وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے (۵) حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں: اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہو اور دکھاوے کے لئے نماز کو طول دیتے ہو۔ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہ کی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ اے ریاکار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متی ۲۳) یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لئے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے مگر جب صاحب معاملہ سے انصاف کرنے کا سوال ہوتا، جب ایک کم زور پر رحم کا تقاضا ہوتا، جب اپنے نفس کو کچل کر اللہ کے حکم کو ماننے کی ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہو جاتے۔ چیز تھی جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنا دیا۔

ایمان والوں کے ساتھ دشمنی میں تم سب سے بڑھ کر یہیود اور مشرکین کو پاؤ گے۔ اور ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور راہب ہیں۔ اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔ اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے حبیب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو وہی لوگ دوزخ والے اس آیت میں جنت کو ”قول“ کا بدلہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان کی پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا ۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل در دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان کی کوئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے ، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لئے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زندہ نشانی بن گیا۔ تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتیٰ کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعہ ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطق عمل ہے، اس لئے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دیدے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔ حق کو ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتا ہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ تم سے تمھاری بے معنی قسموں پر گرفت نہیں کرتا۔ مگر جن قسموں کو تم نے مضبوط باندھا ان پر وہ ضرور تمھاری گرفت کرے گا۔ ایسی قسم کا کفارہ ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا کپڑا پہنا دینا یا ایک گردن آزاد کرنا۔ اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا جب تم قسم کھا بیٹھو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو ۸۹ - ۷۸۔

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہ تمام ترایک اوپرونی مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہا جاتا ہے۔ یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ راتوں کو نہ سوئیں ۔ اپنے آپ کو خصی کرائیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کر لیں۔ کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھا لیں۔ اس پر انھیں منع کیا گیا اور کہا گیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کر سکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدوں میں رہ کر حاصل کرتا ہے ، اس سے آزاد ہو کر۔

اسلام کے مطابق اصل رہبانیت " تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے ۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رک جاتا ہے، کسی کے اندر غصہ آ جاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کر دے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کا پابند بنا لے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے، صحت، دولت، عہدہ، ساز و سامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتا ہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتا ہے، وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتا ہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے ، مگر وہ ذہنی قلبی دوری ہے نہ کہ جسمانی دوری۔

تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم ان سے باز آؤ گے۔ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور بچو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف کھول کر پہنچادینا ہے۔ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے۔ جب کہ وہ ڈرے اور ایمان لائے اور نیک کام کیا۔ پھر ڈرے اور ایمان لائے پھر ڈرے اور نیک کام کیا۔ اور اللہ نیک کام کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے ۹۳- ۹۰ شراب اور جوا اور وہ آستانہ جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یاکسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لئے ہوں اور پانسہ یعنی فال گیری اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کر دیتی ہے اور جوابے غرضی کی نفسیات کے لئے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کی یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے، وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کر دینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہوکر جئے، جب کہ جو آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کر دیتے ہیں۔

شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسرے کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لئے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شادی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جو بازی کے لئے دوسرے آدمی کو صرف

نیزوں کی زد میں ہوگا تاکہ اللہ جانے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اے ایمان والو، شکار کو نہ مارو جبکہ تم حالتِ احرام میں ہو۔ اور تم میں سے جو شخص اس کو جان بوجھ کر مارے تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانور ہے جیسا کہ اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے۔ یا اس کے کفارہ میں چند محتاجوں کو کھانا کھلانا ہوگا ۔ کے برابر روزے رکھتے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا چکھے۔ اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہو چکا۔ اور جو شخص پھرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا۔ اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ہے ۹۵-۹۳ حج یا عمرہ کے لئے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جا سکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شکار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں نا جائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ با آسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جا سکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ یہ حکم جو احرام کی حالت میں جانوروں کے بارے میں دیا گیا ہے وہی روزمرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔

اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ "اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے یہ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پا کر بے خوف ہو جاتا ہے اور من مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لئے بالکل ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کو اس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتا ہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں اس کے برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے خدا کے یہاں رہنما۔ احکامات پر اور دوسرے کے لئے دردناک عذاب ہے۔

Printed page