Al-Risala · January 1980

اس وقت انفاق جب کہ اسلام بے کسی کی حالت میں ہو

Al-Risala, January 1980, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو بکر ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ انھوں نے یہ پورا کا پورا مال اسلام کی راہ میں خرچ کر دیا۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے مال نے مجھ کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابو بکر کے مال نے پہنچایا (قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین) زیادتی کی حالت میں بھی احتیاط کے ساتھ خرچ کرنا۔

عبداللہ بن عمر و بن العاص کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کے پاس سے گزرے، وہ بڑے برتن میں پانی لے کر بے تکلفی کے ساتھ وضو کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ما هذا السرف یا سعد! فضول خرچی ہے) حضرت سعد رض نے کہا: کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: نعم وان كنت علی نهر جار (احمد) ہاں۔ خواہ تم بہتے دریا کے کنارے کیوں نہ ہو حقوق کی ادائیگی میں عجلت عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اعطوا الاجیر اجرہ قبل ان یجف عرقہ (ابن ماجہ) مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دو نصیحت مال سے زیادہ قیمتی ہے

Printed page