پیشہ کی بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا جہالت ہے
Al-Risala, January 1980, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ بدر میں مشرکین کی فوج کی سرداری ابو جہل کے ہاتھ میں تھی۔ انصار کے دو نوجوان معوذ بن عفراء اور معاذ بن عفراء نے باہم طے کیا کہ وہ ابو جہل کو قتل کریں گے۔ دونوں بھائی مشرکین کی صفوں میں گھس گئے اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ابو جہل کو قتل کر ڈالا۔ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ آخر وقت میں جب کہ ابو جہل کو معلوم ہوا کہ اس کو قتل کرنے والے مدینہ کے باشندے ہیں تو ابو جہل نے کہا:
لو غير اكار قتلنی (بخاری و مسلم) کاشتکار کے علاوہ کسی اور نے کاش مجھ کو قتل کیا ہوتا مدینہ کے لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر کاشتکاری تھا۔ ابو جہل نے کاشتکاری کرنے والوں کو حقیر سمجھا۔ دولت اور اقتدار سے بغض و عداوت پیدا ہوتا ہے مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کا مال غنیمت آیا وہ اس کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔ عبد الرحمن بن عوف رضنے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں رو رہے ہیں۔ اللہ نے آپ کو فتح دی۔ کو آپ کے دشمنوں پر غالب کیا۔ ان کے اموال آپ کے قبضہ میں دے کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ عمر رض نے فرمایا: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے لا تفتح الدنیا علی حد الا التقی اللہ عن رجل بینہم کہ جب بھی کسی کے اوپر دنیا کھولی جاتی ہے تو اللہ قیامت احد لنا د البغضاء الى يوم القيامة، دانا اشفق تک کے لئے ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے۔ من ذلك (احمد و بیہقی، بزاز) اور میں اسی سے ڈر رہا ہوں۔