تدبر القرآن
Al-Risala, September 1980, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہارے لئے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا، تمہارے فائدے کے لئے اور قافلوں کے لئے۔ اور جب تک تم احرام میں ہو خشکی کا شکار تمہارے اوپر حرام کیا گیا ۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم حاضر کئے جاؤ گے۔ کعبہ، حرمت والے گھر کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔ اور حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹہ پڑے ہوئے جانوروں کو بھی، یہ اس لئے کہ تم جانو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور بے شک اللہ بخشنے والا مہربان رسول پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے ، اگر چہ ناپاک کی کثرت تم کو بھلی لگے۔ پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو، تا کہ تم
حالتِ احرام میں شکار حرام ہے۔ مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کر رہے ہوں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ پانی میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی بلکہ محض ”آزمائش“ کے لئے تھی، انسان کو آزمانے کے لئے اللہ نے علامتی طور پر کچھ چیزیں مقرر کر دیں۔ اس لئے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لئے تھی وہ بندوں کے لئے غیر ضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کر دی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زاد راہ نہ رہے تو آدمی کے لئے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملتِ اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شرط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع بنا دیا۔ زیارت کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر کئے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتا ہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتا ہے وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری ساز و سامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے مگر خدا کے نزدیک اس کی اہمیت صرف کیفیت کی ہے، مقدار کی نہیں۔ کس کے سالا کو ڈار کی قیمت نہیں ہوتی کہ کثرت ہو
اندر کو باہر لایا جائے تا کہ اللہ آخرت میں اس کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس سے انکار کی مجال کسی کو ہو۔ آزمائش کا مطلب ایسی صورت حال آدمی کے سامنے لانا ہے جہاں حسن عمل کے تمام اضافی اسباب حذف ہو گئے ہوں، صرف ایک ہی سبب (اللہ کا ڈر) باقی رہ گیا ہو۔ اسی لئے معمول کے حالات یا ر وزمہرہ کے عمل میں آدمی کی آزمائش نہیں ہو سکتی۔ آزمائش کے لئے ضروری ہے کہ غیر معمولی حالات سامنے لائے جائیں۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ آپ خوش اخلاق ہیں یا نہیں، تو اس کا تجربہ ایک ایسے آدمی کے ذریعہ کیا جا سکتا جو آپ سے نیاز مندی کی باتیں کرتا ہو۔ کیوں کہ نیاز مندی دکھانے والے کے ساتھ تو ہر آدمی خوش اخلاقی ہی کے ساتھ پیش آناً ہے۔ اسی طرح اس کا تجربہ ایک طاقت ور آدمی کے ذریعہ بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طاقت ور شخصیت کے سامنے ہر آدمی خوش اخلاق بن جاتا ہے۔ کسی کی خوش اخلاقی کو جانچنے کا ذریعہ ایک ایسا شخص ہی بن سکتا ہے جو کمزور اور معمولی آدمی ہو اور اس کے ساتھ وہ ایسے انداز میں کلام کرے جو ناگواری پیدا کرنے والا ہو۔ اسی طرح کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس طرح نہیں ہو سکتی کہ ایک شان دار اجلاس کیا جائے اور اس کے بعد اس آدمی سے کہا جائے کہ سجے ہوئے اسٹیج پر کھڑے ہو کر تم انسانیت کے موضوع پر ایک تقریر کرو۔ کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس وقت ہوتی ہے جب ایک بے قیمت آدمی اس کے دروازے پر پہنچتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں فلاں مصیبت میں پھنس گیا ہوں تم انسانیت کے ناتے میری مدد کرو۔ کوئی شخص فیاض ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس وقت نہیں ہوتا جب ایک شان دار قومی مدرسہ سامنے آئے اور اس میں پیسہ دے کر لوگ آتا فاناً شہرت و عزت کی منزلیں طے کر رہے ہوں۔ آدمی کی فیاضی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو ایک ایسی خاموش مدد میں پیسہ دینا ہو جس میں اخباری شہرت کا کوئی موقع نہیں۔ کسی شخص کے انصاف کا حال اس وقت معلوم نہیں ہوتا کہ متعلقہ فریق سے تعلقات خوش گوار ہوں بلکہ آدمی کی انصاف پسندی یا بے انصافی اس وقت کھلتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی ہو اور انصاف کرنا بظاہر اپنے حریف کو فائوہ پہنچانے کے ہم معنی بن گیا ہو۔ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں، اس کا حقیقی اندازہ نہ ان اعمال میں ہوتا جوآد می انسانوں سے دور تسبیح ونوافل کی صورت میں کرتا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا سابقہ انسانوں سے پڑے اور ایک شخص کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی اپنی انا کو کچلے اور اپنی مصلحتوں کو برباد کرے __ آدمی معمول کے حالات میں خدا پرستی داہے عمل کرتا ہے۔ مگر خدا جب غیر معمولی مواقع پیدا کرے اس کی خدا پرستی کو جانچنا چاہتا ہے تو عین اس وقت دہ خدا پرستی کا ثبوت دینے میں نا کام ہو جاتا ہے۔