موت کے دروازہ پر
Al-Risala, September 1980, pp. 47–38
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کا مرحلہ سب سے زیادہ یقینی مرحلہ ہے جس سے آدمی کو لازماً گزرنا ہے۔ ہے کہ کسی کو زندگی وہ ملے۔ مگر جس کو زندگی ملی، اس کے لئے موت کا آنا لازمی ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا اور بولتا ہے یقیناً ایک روز اس کی آنکھ بے نور ہوگی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آنا ہے جب کہ وہ موت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس کے پیچھے دنیا ہوگی اور اس کے آگے آخرت۔ وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہوگا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہورہا ہوگا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ وہ اپنے عمل کے میدان سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگت رہا رہے۔ زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے، جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم زندہ صرف اس لئے ہیں کہ ابھی ہم مرے نہیں ہیں اور موت نہ چیز ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ مرے ہوئے ہیں۔ وہ موت جس کا وقت مقرر نہ ہو، جو ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو وہ گویا ہر وقت آرہی ہے اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو (عدنفسك من اهل القبور) موت ہر چیز کو باطل کر دیتی ہے، وہ ہماری زندگی کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ ہے۔ اگر صرف زندگی کا خاتمہ ہوتی تو وہ زیادہ بھیانک نہیں تھی۔ موت کا مطلب اگر صرف یہ ہوتا کہ اب آئندہ کے لئے اس انسان کا وجود نہ رہے گا جو چلتا تھا اور جو دیکھتا اور سنتا تھا تو اپنی ساری ہولناکیوں کے باوجود یہ صرف ایک وقتی حادثہ تھا نہ کہ کوئی مستقل مسئلہ۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ موت کا مطلب اپنے ابدی انجام کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ ہر آدمی زندگی سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ کسی کا سفر دنیا کی خاطر ہے اور کسی کا آخرت کی خاطر۔ کوئی سامنے کی چیزوں میں جی رہا ہے تو کوئی چھپی ہوئی چیزوں میں۔ کوئی اپنی خواہش اور انا کی تسکین کے لئے دوڑ دھوپ کر رہا ہے اور کسی کو خدا کے خوف اور خدا کی محبت نے بے چین کر رکھا ہے۔ دونوں قسم کے لوگ شام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تھکان کو مٹائیں اور اگلے دن دوبارہ صبح کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں دوبارہ سرگرم موجودہ دنیا میں دونوں بظاہر یکساں نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آنے والی منزل کے اعتبار سے دونوں کا حال یکساں نہیں۔ جو شخص خدا اور آخرت میں جی رہا ہے وہ اپنے کو بچا رہا ہے اور جو شخص دنیا کی دلچسپیوں اور اپنے نفس کی خواہشوں میں جی رہا ہے وہ اپنے کو ہلاک کر رہا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ
ہر آدمی صبح کرتا ہے پھر وہ اپنے کو بچاتا ہے، پھر ان میں سے کوئی اپنے کو رہا کرتا ہے اور کوئی اپنے کو ہلاک کر دیتا ہے (کل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها)
آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرا رہے ہیں۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ ان کو اپنا ہر بول بالکل بے قیمت نظر آئے گا۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو سنے۔ کوئی پریس نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو چھاپے۔ کوئی لاؤڈ اسپیکر نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے ۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہو گا وہ حسرت ویاس کی تصویر بنے ہوئے اپنے چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے ۔ اس وقت ان کو نظر آ جائے گا کہ دنیا میں حق کا انکار کرنے کے لئے وہ الفاظ کا سہارا لئے ہوئے تھے وہ کس قدر بے قیمت تھے۔ یہ دنیا چونکہ امتحان کی دنیا ہے اس لئے یہاں الفاظ ہر معنی کو قبول کر لیتے ہیں، ایک ناحق بات کو بھی یہاں شان دار الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے، مگر موت کے بعد جو دنیا آئے گی وہاں صرف سچی بات بولنا ممکن ہوگا۔ وہاں الفاظ کسی غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے (اکثروا ذکر هادم اللذات) یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو اس کے لئے دنیا کی وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہو جائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لئے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے سمیٹنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے، وہ اس کو بہت نہیں پاتا کہ موت آجاتی ہے اور اس کے کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے۔ آدمی کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو تو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے۔ آدمی کو کسی سے شکایت ہو جاتی ہے اور وہ اس کو مٹانے اور اس کو برباد کرنے میں لگ جاتا ہے۔ مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبے کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، وہ اپنے دشمن کو اس کے حال میں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہو تو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے ۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے اس کا اعتراف کر لیا تو وہ بڑائی کے مقام سے نیچے آجائے گا، اس کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ کر منتشر ہو جائے گا۔ مگر سچائی کے انکار کے بعد اس پر چند دن بھی نہیں گزرتے کہ موت اس کی بڑائی کو ختم کر دیتی ہے اور اس کا سارا نقشہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر وہ موت سے پہلے اس ہونے والے واقعہ کو یاد کرے تو کبھی ایسی سچائی کے انکار کی جرات نہ کرے جس کو چند لمحہ بعد اس کو بہر حال تسلیم کرنا ہے۔ ایک ایسا گھر جو کل جل کر تباہ ہو جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا۔ ایک ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی داخل نہیں ہوتا ۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے۔
آتے تو ہم آپ کے لئے کھڑے نہ ہوتے۔ کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ آپ اس کو پسند نہیں کرتے تھے (مسلم) ضرورت سے زیادہ چیزوں کے عادی نہ بنو عبداللہ بن شریک اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لئے فالودہ لایا گیا اور ان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تو بڑی اچھی خوشبو والا ہے۔ تیرا رنگ بھی اچھا ہے۔ اور تیرا ذائقہ بھی اچھا۔ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بناؤں جس کا عادی میں نہیں ہوں (ولکن اکرہ ان اعو د نفسی عالم تعتاد ه، حلیۃ الاولیاء جلد ا صفحہ ٨١)
فخر کی نفسیات میں مبتلا ہونے والا خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے ابونعیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک بار ایک نیا کرتا پہنا۔ میں اس کو دیکھتی تھی اور خوش ہوتی تھی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہی ہو ۔ اللہ تمھاری طرف دیکھنے والا نہیں (ما تنظرون، ان الله ليس بنظر اليث) میں نے کہا کیوں ۔ فرمایا کیا تم کو معلوم نہیں کہ بندے کے اندر جب دنیا کی زینت سے احساس فخر پیدا ہوتا ہے تو اس کا رب اس سے ناراض ہو جاتا ہے جب تک کہ وہ بندہ اس زینت کو چھوڑ نہ دے۔ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اس کرتے کو اتارا اور اس کو صدقہ کر دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تمھارا یہ صدقہ تمھارے لئے کفارہ بن جائے (عسی ذالک ان يكفر عنك، عقبة اما ديار جلدا) غصہ پر قابو رکھنا سب سے بڑی بہادری ہے عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ پہلوان کس کو سمجھتے ہو۔ کہا، وہ شخص جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے (ولکنہ الذي يملك نفسه عند الغضب (مسلم)