سب کچھ کر کے بھی یہی سمجھنا کہ کچھ نہیں کیا
Al-Risala, September 1980, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر مغیرہ بن شعبہ رہنا کے مجوسی غلام ابولو لو نے قاتلانہ حملہ کیا۔ مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ نے دودھ منگا کر پیا تو دودھ کی سلیدی زخموں کے راستہ سے بہہ پڑی ۔ آپ نے فرمایا: واللہ لو ان فی طلاع الارض ذهبا لافتدیت به من عذاب الله من قبل ان اراه (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین کے برابر سونا ہو تو میں اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اسے فدیہ دے دیتا قبل اس کے کہ میں اسے دیکھوں)۔ عبداللہ بن عباس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا کر کہ اللہ آپ کے ذریعہ لوگوں کو اور مسلمانوں کو طاقت دے جب کہ مسلمان
کردی، آپ کے ذریعہ اسلام کے دشمنوں کا خاتمہ کیا۔ پھر شہادت پر آپ کا خاتمہ لکھ دیا۔ پس مبارک ہو، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اس نے دھوکا کھایا جو تم لوگوں کے دھوکہ میں آگیا۔ " پھر فرمایا: اے عبداللہ! کیا تم قیامت کے دن میرے لئے گواہی دو گے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ پھر اپنے لڑکے سے کہا: اے عبداللہ! میرا چہرہ زمین پر رکھ دو۔ عمر کا سر اپنی ران پر لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے ران سے اٹھا کر منڈلی پر رکھ لیا۔ حضرت عمر نے کہا: "تم میرا رخسار زمین سے ملا دو۔ " انھوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت عمر نے کہا: عمر! خرابی ہے تیری اور تیری ماں کی اگر اللہ نے تجھے معاف نہ کیا ویلک وویل امك يا عمر! إن لم يغفر الله لک (طبرانی) اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔