Al-Risala · September 1980

تکلف کے بجائے ضرورت کا لحاظ کرنا

Al-Risala, September 1980, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمایا۔ گھر کے اوپر ایک کوٹھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے حصہ میں ٹھہرے اور حضرت ابو ایوب اپنے گھر والوں کے ساتھ اوپر تھے۔ ان کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ رسول نیچے ہوں اور وہ اوپر ہوں۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے آپ اوپر کے حصہ میں قیام کریں ۔ ہم لوگ نیچے رہیں گے۔ آپ نے فرمایا: اس کا خیال مت کرو میرے لئے نیچے کا قیام زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ ملاقات کے لئے آنے والوں کو اس میں زیادہ آسانی ہوتی رسیرت ابن کثیر ، جلد ۳) جانوروں پر مہربانی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک مقام پر ہم نے پڑاؤ ڈالا۔ وہاں ایک چڑیا تھی۔ اس کے دو بچے تھے۔ ہم نے بچوں کو پکڑ لیا۔ چڑیا بولنے اور پر پھڑ پھڑانے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ کس نے اس چڑیا کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بچے کو اسے لوٹا دو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چیونٹیوں کے گھر کو جلایا گیا ہے۔ آپ نے پوچھا۔ کس نے اس کو جلایا ہے۔ ہم نے جواب دیا کہ ہم لوگوں نے جلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: آگ کے رب کے سوا کسی اور کے لئے آگ کا عذاب دینا جائز نہیں۔

زانه لا ينبغي ان يعذب بالثار الا رب النار (مسلم)

Printed page