کبر کا رویہ اللہ کو پسند نہیں
Al-Risala, September 1980, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو نعیم نے عائشہ رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی۔ اس کے پاس کوئی چیز تھی جو وہ مجھ کو دینا چاہتی تھی ۔ مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اس کا ہدیہ لینا پسند نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے ہدیہ کو قبول کرلیتیں اور اس کو کچھ بدلہ دے دیتیں : میرا خیال ہے کہ تم نے اس کو حقیر سمجھا ۔ اے عائشہ ! اضع اختیار کرو۔ کیوں کہ اللہ تو تواضع کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور متکبرین سے بغض رکھتا ہے ۔ انک حقیر تیمها فترا ضعی با عائشة ۔ فان الله يحب المتواضعين ويبغض المستكبرين (حلية الاولیاء، جلد ۴) شان ظاہر کرنے کے لئے دعوت کا اہتمام پسندیدہ نہیں احمد اور ابن المبارک نے حمید بن نعیم سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا کو کھانے کی ایک دعوت میں بلایا گیا جس کو انھوں نے قبول کرلیا ۔ جب وہ دونوں اس کے لئے جانے لگے تو عرض نے عثمان رمن سے کہا : میں اس کھانے کے لئے چل رہا ہوں۔ مگر مجھ کو پسند تھا کہ میں اس میں نہ جاتا ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کس لئے ۔ انھوں نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ یہ فخرونمائش کے لئے کیا گیا ہو (خشیت ان يكون مباهاتاً کنز العمال جلد ۵ صفحه 66)