جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
Al-Risala, September 1980, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے جی میں اپنے کو حقیر سمجھتا ہے مگر لوگوں کے نزدیک وہ بڑا ہوتا ہے (مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۷۷)
ااسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماحول کے اندر اس کا غلبہ قائم رہے۔ عمومی طور پر ایسی ذہنی فضا بن جائے کہ دین اور خدا کی بات ملکی بات نہ رہے بلکہ وہ لوگوں کو بھاری بھر کم بات نظر آئے۔ ذہنی غلبہ کی یہ فضا اسلام دو طریقوں سے حاصل کرتا ہے۔ ایک سیاسی قوت، دوسرے عقلی اگر کسی علاقے میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہو جائے تو خواہ حکومت مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہی کیوں نہ ہو، اسلام کے حق میں ذہنی غلبہ کی ایک فضا خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آٹھ نو سو برس کی حکومت کے باوجود یہاں کے مسلم حکمرانوں نے کبھی اشاعت دین کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس غلطی کے لئے میں انھیں معذور قرار دینے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ مسلم اقتدار نے عمومی غلبہ کی جو فضا پیدا کی، وہ تبلیغ دین کی غیر سرکاری کوششوں میں مددگار ثابت ہوئی۔ جب اس علاقے کو خراسان اور ماوراء النہر کے سیاسی حوصلہ مندوں نے فتح کیا تو اسی کے ساتھ بخارا‘ سمرقند خوارزم، عراق اور ایران کے علما رقطار در قطار یہاں آنا شروع ہوئے۔ ابتدا ء ملتان اور لاہور کے علاقے ان کا مرکز بنے۔ اس کے بعد جب ۶۰۷ ھ میں سلطان شمس الدین التمش نے دہلی کو دارالسلطنت بنایا تو ہر طرف سے علما ر سمٹ کر دہلی میں جمع ہونے لگے۔ اس طرح حکومت کے براہ راست تعاون کے بغیر، مگر سلام کے سیاسی غلبہ کی عمومی فضا میں، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے وہ سارے کارنامے انجام پائے جن کا نتیجہ آج ہم اس بر صغیر میں ۲۰ کروڑ مسلمانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔
ذہنی غلبہ کی اس فضا کے لئے سیاسی غلبہ ناگزیر نہیں، وہ عقلی استدلال کے ذریعہ بھی پیدا ہوتی ہے حتیٰ کہ عقلی مبنیادوں پر بنی ذہنی فضا اتنی وسیع اور قوی شکل اختیار کر سکتی ہے کہ سیاسی غلبہ سے پیدا ہونے والی فضا پر بھی بھاری ثابت ہو۔ یہاں مثال کے طور پر مغربی قوموں کی موجودہ سائنس کا نام لیا جا سکتا ہے مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار آج ایشیا اور افریقہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے دماغی علوم میں جو برتری حاصل کی ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ آج بھی آزاد شدہ ممالک پر ان کا مکمل ذہنی غلبہ قائم ہے۔ یا کسی نظریے کا " ’’فارن‘‘ " ہونا اس کی بہتری کا ایسا ثبوت ہے جو بلا بحث تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ گیا ہے کہ جو چیز مغرب سے آئے وہ ضرور معیاری ہوگی ۔ حالاں کہ صرف چند سو برس پہلے مغربی سائنس کی حیثیت کیمسٹری، قدیم طرز کے کیمیا دانوں کے ہاتھ میں تانبے پیتل کو سونا بنانے کا ایک خبط تھا اور فلکیات پرانے نجومیوں کے ہاں لوگوں کو مستقبل کی بات بتا کر ان کو لوٹنے کی ایک بدنام تدبیر تھی۔ ذہنی مرعوبیت اور تصوراتی غلبہ کی یہ فضا جب کسی تحریک کے حق میں پیدا ہو جائے تو بہت سی مصنوعی اور غیر ضروری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور تحریک کی توسیع و ترقی کا کام ایک موافق فضا میں ہونے لگتا ذہنی غلبہ کی فضا کی مثال پختہ سڑک کی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی نا ہموار بیابان میں چلا رہے ہوں تو طرح طرح کی زحمتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ کو ایک بنی بنائی پختہ سڑک مل جائے تو سفر نہایت تیزی
اور آسانی سے ہونے لگے گا ۔
علم کلام کا ایک کام اسی قسم کی ذہنی فضا پیدا کرنا ہے۔ علوم کا ایسا مطالعہ کہ وہ اسلامی عقائد کے مؤید نظر آنے لگیں۔ تاریخ کی ایسی نقشہ کشی جس میں اسلام اپنی واقعی جگہ پالے ۔ حقائق کائنات کی ایسی تعبیر جس سے اسلام کی تصدیق و تصویب ہو۔ اسلامی صداقتوں کا ایسے انداز اور ایسے دلائل کے ساتھ اظہار جو وقت کے ذہن پر عظیم سوالیہ نشان بن کر مسلط ہو جائے۔ غرض بر تر علمی تدوین اور اعلیٰ استدلال کے ذریعہ لوگوں کے طرز فکر پر اس طرح چھا جانا کہ ان کی عقل کو نظر آنے لگے کہ اسلام کے سوا کوئی چیز حقیقت کے خانے میں بیٹھ ہی نہیں رہی ہے۔ جہاں اسلام کا احترام دلوں میں جگہ پا چکا ہو وہاں دعوت اسلام کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہ ایک طاقتور علم کلام کا نہایت اہم فائدہ ہے۔
واضح ہو کہ "اقامت دین " اور " غلبہ دین " ، دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں ۔ اقامت دین کا تعلق تمام تر فرد سے ہے ، دین کو قائم کرو (شوریٰ) کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک شخص کو جس دین کا حامل بننا ہے اس کا وہ حامل بنے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کو دینی زندگی بنائے۔ اللہ سے ڈرنا ، اللہ سے محبت کرنا ، اللہ کا پرستار بن جانا، روز و شب کی زندگی میں اللہ کو یاد کرتے ہوئے معاملہ کرنا۔ اپنے تمام معاملات کو آخرت کی بنیادوں پر قائم کرنا۔ فرد کا دین ہے اور اس دین پر اپنی انفرادی زندگی میں پوری طرح قائم ہو جانے کا نام اقامت دین ہے۔ غلبہ دین سے مراد ہے کسی ماحول میں اسلام کی سیاسی یا غیر سیاسی بالاتری قائم ہو جانا۔ علیہ السلام کے زمانہ میں مصر میں اہل اسلام کی سیاسی برتری قائم ہو چکی تھی۔ مگر ملک کا قانون اس کے باوجود وہی تھا جو مشرک بادشاہ کے زمانہ سے چلا آرہا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حبش میں سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور نہ وہاں کا قانون اسلام کا قانون تھا۔ مگر مسلمانوں کی نظریاتی اور اخلاقی برتری نے مسلمانوں کو وہاں یہ مقام دے دیا تھا کہ وہ عزت کے ساتھ وہاں رہیں اور آزادی کے ساتھ اپنے دین کی یہ چیز اتنی کافی سمجھی گئی کہ مسلمانوں نے حبش کے علاقہ میں کبھی فوج کشی نہ کی۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں مسلمانوں کے زیر اقتدار علاقے میں یہ غلبہ مسلمانوں کو اپنی کامل صورت میں حاصل رہا۔ اقامت دین اور غلبہ دین کو اگر ہم معنی قرار دیا جائے تو اس سے زبردست خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ طرف یہ کہ اقیمو الدین کے حکم سے اصلاح خویش کا جو جذبہ ابھرنا چاہئے وہ نہیں ابھر سکتا۔ کیونکہ اب اس حکم کا رخ اپنے بجائے دوسروں کی طرف ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ مسلم ملکوں میں جہاں اسلام کے حق میں غلبہ کی فضا موجود ہے اس کو استعمال کرکے اسلام کے لئے تعمیری اور دعوتی کام کرنے کا شوق نہیں ابھرتا بلکہ سارا زور اس پر صرف ہونے لگتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کرو کیونکہ وہ اسلام کے اجتماعی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کوششیں اس طرح ضائع ہو جاتی ہیں کہ ان سے نہ اقامت دین کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ غلبہ دین کا ۔
کہ آپ الرسالہ ایجنسی قبول فرما ئیں ۔
" ایجنسی " اپنے عام استعمال کے دائرے سے کاروباری لوگوں کی دل چسپی کی چیز سمجھی جانے لگی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایجنسی کا طریقہ دور جدید کا ایک مفید عطیہ ہے جس کو کسی فکر کی اشاعت کے لئے کامیابی کے ساتھ استعمال کیا کسی فکری مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنے کی یہ ایک انتہائی ممکن صورت ہے اور اسی کے ساتھ اس فکر کو پھیلانے میں اپنا حصہ ادا کرنے کی ایک بے ضرر تدبیر بھی ۔
تجربہ یہ ہے کہ بیک وقت سال بھر کا زر تعاون روانہ کرنا لوگوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ مگر پر چہ سامنے موجود ہو تو ہر مہینے ایک پرچہ کی قیمت دے کروہ بآسانی اس کو خرید لیتے ہیں۔ ایجنسی کا طریقہ اسی امکان کو استعمال کرنے کی ایک کامیاب تدبیر ہے۔ مال رسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ جگہ جگہ اس کی ایجنسی قائم کی جائے۔ بلکہ ہمارا ہر ہمدرد اور متفق اس کی ایجنسی لے۔ یہ ایجنسی گویا الرسالہ کو اس کے متوقع خریداروں تک پہنچانے کا ایک کارگر درمیانی وسیلہ ہے۔
وقتی جوش کے تحت لوگ ایک ”بڑی قربانی" دینے کے لئے بآسانی تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر حقیقی کامیابی کا راز ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں میں ہے جو سنجیدہ فیصلہ کے تحت لگا تار دی جائیں۔ ایجنسی کا طریقہ اس پہلو سے بھی اہم ہے یہ ملت کے افراد کو اس کی مشق کرانا ہے کہ ملت کے افراد چھوٹے چھوٹے کاموں کو کام سمجھنے لگیں، ان کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہو کہ وہ مسلسل عمل کے ذریعہ نتیجہ حاصل کرنا چاہیں نہ کہ یکبارگی اقدام سے۔