اسلام زندگی کا ضمیمہ نہیں
Al-Risala, October 1980, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
پانی کے گلاس میں پتھر کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ اس کے اندر اتر کر ایک کنارے بیٹھ وہ پانی میں ہوگا مگر پانی سے الگ ہوگا۔ پتھر پتھر ہے گا اور پانی پانی۔ گلاس میں جب آپ رنگ ڈالتے ہیں تو رنگ اور پانی دونوں مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ رنگ سے الگ نہیں ہوتا بلکہ دونوں اس طرح مل جاتے ہیں کہ باہر سے دیکھنے والا ان میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا۔
اسلام کا معاملہ اور آدمی کا معاملہ پتھر اور پانی جیسا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ رنگ اور پانی جیسا معاملہ ہے مسلمانوں کی زندگی میں اسلام ایک علیحدہ ضمیمہ کی طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی پوری ہستی میں سما جاتا ہے۔ وہ اس کے جذبات میں شامل ہو کر اس کے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ وہ اس کی سوچ میں اس طرح داخل ہوتا ہے کہ اس کا ذہن اسی کے مطابق ڈھل جاتا ہے ۔ اسلام اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔ وہ اس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔ وہ اس کا ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے جس کے تحت وہ دنیا میں اپنی تمام کارروائیاں کرتا ہے۔ اسلام وہی ہے جو آدمی کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ اس کی کوئی چیز اس سے باہر نہ رہے۔ اس کے ہر بول میں اسلام کی جھلک ہو۔ اس کا ہر عمل اسلام کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔
جو اسلام پانی میں پتھر کی طرح رہے وہ اسلام نہیں ہے۔ اسلام وہی ہے جو پانی کے اندر رنگ کی طرح گھل جائے۔ آدمی کو کسی سے محبت ہو تو اس کا پورا وجود اس سے محبت اس کو کسی سے نفرت ہو تو اس کا پورا وجود اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ جب کوئی شخص اسلام کو حقیقی معنوں میں اپناتا ہے تو وہ اس کے پورے وجود کا مسئلہ بن جاتا وہ کہیں بھی اسلام سے الگ نہیں ہوتا اور نہ اسلام اس سے۔